ہواسے بجلی پیداکرنے کے30منصوبوں کیلیے زمین الاٹ
9منصوبوںسے800میگاواٹ بجلی جون2013تک نیشنل گرڈمیںشامل ہو جائیگی
دسمبرتک دستخط کردیے جائینگے، معاہدوں سے برآمدات کوفروغ ملے گا،سلیم مانڈوی والا۔ فائل فوٹو
ISLAMABAD:
سندھ میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے وسیع مواقع دستیاب ہیں، سندھ کی ونڈ کوریڈور میں 50ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے جس میں سے 1947میگا واٹ بجلی کے 30منصوبوں کیلیے زمین الاٹ کردی گئی ہے ان منصوبوں میں سے 800میگاواٹ کے 9منصوبوں سے پیدا ہونے والی بجلی جون 2013 میں نیشنل گرڈ میں شامل ہوجائے گی۔
سندھ بورڈ آف انویسٹمنٹ کے چیئرمین محمد زبیر موتی والا نے بورڈ کے 5ویں اجلاس میں ایس بی آئی کے سرگرمیوں پر بریفنگ دیتے ہوئے بورڈ کے اراکین کو بتایا کہ سندھ میں تھرکول منصوبے سمیت ہوا سے بجلی پیدا کرکے بجلی کا بحران حل کرنے کی بھرپور کوششیں جاری ہیں، نجی شعبے کے ساتھ شمسی توانائی منصوبوں میں سرمایہ کاری کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کوئلے سے بجلی کی پیداوار سندھ اور پاکستان کے روشن ترین مستقبل کی ضامن ہے۔ اجلاس میں سیکریٹری سرمایہ کاری ناہید شاہ درانی نے سال 2011-12کے دوران سندھ بورڈ آف انویسٹمنٹ کے کارکردگی پر روشنی ڈالی، بورڈ کے اراکین نے سندھ میں ایگروپراسیسنگ، لائیو اسٹاک، ڈیری فشریز اینڈ معدنیات کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کیلیے ایس بی آئی کی کاوشوں کو سراہا۔
بورڈ کے اراکین نے صوبے میں ونڈ اور کول انرجی، ایگرو پراسیسنگ کے شعبے میں ایس ایم ایز کے فروغ کیلیے ایس بی آئی کے کردار کی تعریف کی۔ اجلاس میں سرمایہ کاری کے فروغ کیلیے مخصوص شعبہ جاتی کمیٹیوں کی تشکیل کی بھی منظوری دی گئی، یہ کمیٹیاں مخصوص شعبوں میں سرمایہ کاری کے فروغ کیلیے سہولت کار کے طور پر کام کریں گی، اجلاس میں معروف صنعتکار اور ایس بی آئی کے بورڈ کے رکن نثار شیخانی کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کی خدمات کو خراج عقید پیش کیا گیا۔
سندھ میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے وسیع مواقع دستیاب ہیں، سندھ کی ونڈ کوریڈور میں 50ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے جس میں سے 1947میگا واٹ بجلی کے 30منصوبوں کیلیے زمین الاٹ کردی گئی ہے ان منصوبوں میں سے 800میگاواٹ کے 9منصوبوں سے پیدا ہونے والی بجلی جون 2013 میں نیشنل گرڈ میں شامل ہوجائے گی۔
سندھ بورڈ آف انویسٹمنٹ کے چیئرمین محمد زبیر موتی والا نے بورڈ کے 5ویں اجلاس میں ایس بی آئی کے سرگرمیوں پر بریفنگ دیتے ہوئے بورڈ کے اراکین کو بتایا کہ سندھ میں تھرکول منصوبے سمیت ہوا سے بجلی پیدا کرکے بجلی کا بحران حل کرنے کی بھرپور کوششیں جاری ہیں، نجی شعبے کے ساتھ شمسی توانائی منصوبوں میں سرمایہ کاری کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کوئلے سے بجلی کی پیداوار سندھ اور پاکستان کے روشن ترین مستقبل کی ضامن ہے۔ اجلاس میں سیکریٹری سرمایہ کاری ناہید شاہ درانی نے سال 2011-12کے دوران سندھ بورڈ آف انویسٹمنٹ کے کارکردگی پر روشنی ڈالی، بورڈ کے اراکین نے سندھ میں ایگروپراسیسنگ، لائیو اسٹاک، ڈیری فشریز اینڈ معدنیات کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کیلیے ایس بی آئی کی کاوشوں کو سراہا۔
بورڈ کے اراکین نے صوبے میں ونڈ اور کول انرجی، ایگرو پراسیسنگ کے شعبے میں ایس ایم ایز کے فروغ کیلیے ایس بی آئی کے کردار کی تعریف کی۔ اجلاس میں سرمایہ کاری کے فروغ کیلیے مخصوص شعبہ جاتی کمیٹیوں کی تشکیل کی بھی منظوری دی گئی، یہ کمیٹیاں مخصوص شعبوں میں سرمایہ کاری کے فروغ کیلیے سہولت کار کے طور پر کام کریں گی، اجلاس میں معروف صنعتکار اور ایس بی آئی کے بورڈ کے رکن نثار شیخانی کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کی خدمات کو خراج عقید پیش کیا گیا۔