شکیل عباسی جلد پاک بھارت ہاکی سیریز کے منتظر

اچھا پرفارم کرکے پلیئرز راتوں رات ہیرو بن جاتے ہیں، پاکستانی اسٹار

ایف آئی ایچ کیلنڈر کھلاڑیوں کیلیے ذہنی وجسمانی طور پر بہت زیادہ مشقت طلب ہے۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

سینٹر فارورڈ شکیل عباسی جلد پاک بھارت ہاکی سیریز کے منتظر ہیں، دبائو کی صورتحال میں کھیلے جانے والے ان مقابلوں میں اچھا پرفارم کرکے پلیئرز اپنے ملک میں راتوں رات ہیرو بن جاتے ہیں۔

ان کے مطابق ایف آئی ایچ کیلنڈرکھلاڑیوں کیلیے ذہنی اور جسمانی طور پر بہت زیادہ مشقت طلب ہے، ایک ہی ماہ میں بے تحاشا میچز کھیلنے کے بعد اچھے نتائج کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟ چیمپئنز ٹرافی دنیا کا ایک بڑا سخت اور مشکل ایونٹ ہے اور اس کے فوری بعد ایشین چیمپئنزٹرافی شروع ہونے لگی، یہ پلیئرز کے لیے بھی اچھا نہیں ہے، ملک میں لوگ ہم سے اچھی پرفارمنس کی توقع رکھتے ہیں لیکن اگر شیڈولنگ درست نہیں ہوگی تو ہمارے لیے تواتر سے عمدہ پرفارم کرنا ممکن نہیں۔

آسٹریلیا میں منعقدہ چیمپئنز ٹرافی میں ایونٹ کے بہترین پلیئر کا اعزاز پانے والے شکیل نے مزید کہا کہ انٹرنیشنل ہاکی میں تواتر سے تبدیل کیے جانے والے قواعد ایشین اسٹائل کیلیے نقصان دہ ہیں، صلاحیتوں کے اعتبار سے ہم بدستور نمبرون لیکن عالمی قوانین ہمارے انداز کھیل کیلیے مدد گار نہیں ہیں،اسی وجہ سے یورپیئن انداز کھیل ایشین ہاکی پر غالب دکھائی دیتا ہے، شکیل نے کہا کہ ایشین کھلاڑی یورپیئن اسٹائل پر مہارت حاصل نہیں کرسکتے لیکن انھیں اپنی بنیادوں پر قائم رہنا چاہیے۔




میری ذاتی رائے ہے کہ ہم یورپیئن ہاکی مکمل طور پر نہیں سیکھ سکتے لیکن اسے اپناسکتے ہیں کیونکہ یہ آج کی ضرورت ہے،اسی کے ساتھ ہم اپنی ایشین ہاکی کی بنیادوں کو بھی فراموش نہیں کرسکتے۔انھوں نے مزید کہا کہ ایشین ہاکی فیڈریشن آفیشلز کو ان مسائل کو اٹھانا چاہیے لیکن ایشیائی ٹیموں میں اتحاد کا فقدان ہے، اگر ایف آئی ایچ میں ہمارے نمائندے ہوں تو وہ ہمارے انداز کھیل کے خلاف قوانین کیخلاف صدا بلند کر سکتے ہیں، انھوں نے کہا کہ ہاکی انڈیا لیگ خطے کے لیے اچھا ایونٹ ثابت ہوگی۔

اس میں ہمارے کھلاڑیوں کو انٹرنیشنل پلیئرز کیخلاف زیادہ سے زیادہ کھیلنے کا موقع اور علاقے میں کھیل کو فروغ بھی ملے گا، انھوں نے مزید کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ٹیسٹ سیریز ضرور ہونی چاہیے، یہ مقابلے ہمیشہ انتہائی دبائو کی کیفیت میں ہوتے اور ان میں نوجوان پلیئرز عمدہ پرفارم کرکے راتوں رات ہیرو بن جاتے ہیں، انھوں نے مزید کہا کہ بطور پروفیشنل پلیئر ہم دوحا میں ٹائٹل جیتنے کا مشن لے کر آئے ہیں۔
Load Next Story