اپوزیشن ارکان نصرت سحرکو اپوزیشن لیڈر مقرر کرنے پر متفق
درخواست موصول ہوگئی، قانون کے مطابق کارروائی ہوگی،اسپیکر سندھ اسمبلی۔
نوٹیفکیشن کے بعدنصرت سحرعباسی صوبے کی پہلی خاتون اپوزیشن لیڈر ہوں گی. فوٹو: ایکسپریس نیوز
سندھ اسمبلی کے 10اپوزیشن ارکان نے بدھ کو اسپیکر سندھ اسمبلی نثار احمد کھوڑو کو ایک درخواست جمع کرادی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ مسلم لیگ (فنکشنل) کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی کو اپوزیشن لیڈر مقرر کیا جائے۔
اس درخواست پر مسلم لیگ (فنکشنل) کے جام مدد علی ، ماروی راشدی ، ڈاکٹر رفیق بانھبن ، رانا عبدالقادر ، رحیم بخش بوزدار ، علی غلام نظامانی اور نصرت سحر عباسی ، نیشنل پیپلز پارٹی (این پی پی ) کے میر عابد حسین جتوئی ، مسلم لیگ (ق) کے شہریار خان مہر اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے امان اللہ محسود کے دستخط ہیں۔
درخواست جمع کرانے کے لیے نصرت سحر عباسی کے ہمراہ جام مدد علی ، ڈاکٹر رفیق بانبھن ، رانا عبدالستار اور دیگر ارکان سندھ اسمبلی پہنچے تھے اگر نصرت سحر عباسی کا بطور اپوزیشن لیڈر نوٹیفکیشن ہوجاتا ہے اور جس کا قوی امکان موجود ہے تو سندھ کی تاریخ میں پہلی خاتون اپوزیشن لیڈر ہوں گی ،اسپیکر سندھ اسمبلی نثار احمد کھوڑو نے اس موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی سیکریٹریٹ میں درخواست موصول ہوگئی ہے اور اس پر قانون کے مطابق کارروائی ہوگی، پہلے تمام ارکان کے دستخطوں کی تصدیق ہوگی اور اس کے بعد اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی کے حوالے سے کارروائی ہوگی۔
سندھ اسمبلی کے سابق اپوزیشن لیڈر اور پاکستان مسلم لیگ (فنکشنل ) کے پارلیمانی لیڈر جام مدد علی نے کہا کہ نصرت سحر عباسی کو اپوزیشن لیڈر بنانے کا فیصلہ پیر پگارا کا ہے، نصرت سحر عباسی نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پیر صاحب پگارا نے مجھے یہ ذمے داری سونپی ہے ، میں ان کی شکرگزار ہوں ، اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ پیر پگارا خواتین کا بہت احترام کرتے ہیں،قبل ازیں جناح میڈیکل یونیورسٹی کراچی کے طلبا نے بدھ کو اسپیکر سندھ اسمبلی نثار احمد کھوڑو اور اپوزیشن کے ارکان نصرت سحر عباسی اور جام مدد علی سے سندھ اسمبلی بلڈنگ میں ان کے دفاتر میں ملاقاتیں کیں اور ان سے درخواست کی کہ وہ جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کا بل سندھ اسمبلی سے منظور کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں ۔
اس درخواست پر مسلم لیگ (فنکشنل) کے جام مدد علی ، ماروی راشدی ، ڈاکٹر رفیق بانھبن ، رانا عبدالقادر ، رحیم بخش بوزدار ، علی غلام نظامانی اور نصرت سحر عباسی ، نیشنل پیپلز پارٹی (این پی پی ) کے میر عابد حسین جتوئی ، مسلم لیگ (ق) کے شہریار خان مہر اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے امان اللہ محسود کے دستخط ہیں۔
درخواست جمع کرانے کے لیے نصرت سحر عباسی کے ہمراہ جام مدد علی ، ڈاکٹر رفیق بانبھن ، رانا عبدالستار اور دیگر ارکان سندھ اسمبلی پہنچے تھے اگر نصرت سحر عباسی کا بطور اپوزیشن لیڈر نوٹیفکیشن ہوجاتا ہے اور جس کا قوی امکان موجود ہے تو سندھ کی تاریخ میں پہلی خاتون اپوزیشن لیڈر ہوں گی ،اسپیکر سندھ اسمبلی نثار احمد کھوڑو نے اس موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی سیکریٹریٹ میں درخواست موصول ہوگئی ہے اور اس پر قانون کے مطابق کارروائی ہوگی، پہلے تمام ارکان کے دستخطوں کی تصدیق ہوگی اور اس کے بعد اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی کے حوالے سے کارروائی ہوگی۔
سندھ اسمبلی کے سابق اپوزیشن لیڈر اور پاکستان مسلم لیگ (فنکشنل ) کے پارلیمانی لیڈر جام مدد علی نے کہا کہ نصرت سحر عباسی کو اپوزیشن لیڈر بنانے کا فیصلہ پیر پگارا کا ہے، نصرت سحر عباسی نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پیر صاحب پگارا نے مجھے یہ ذمے داری سونپی ہے ، میں ان کی شکرگزار ہوں ، اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ پیر پگارا خواتین کا بہت احترام کرتے ہیں،قبل ازیں جناح میڈیکل یونیورسٹی کراچی کے طلبا نے بدھ کو اسپیکر سندھ اسمبلی نثار احمد کھوڑو اور اپوزیشن کے ارکان نصرت سحر عباسی اور جام مدد علی سے سندھ اسمبلی بلڈنگ میں ان کے دفاتر میں ملاقاتیں کیں اور ان سے درخواست کی کہ وہ جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کا بل سندھ اسمبلی سے منظور کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں ۔