ہائیکورٹ نے درخواست کی عدم پیروی پر 10 ہزار جرمانہ کردیا
جرمانے کی ادائیگی تک اقبال کاظمی کی کوئی درخواست نہ لی جائے،عدالتی ہدایت۔
ایڈزکنٹرول پروگرام کی رقم اور اخراجات کی دیکھ بھال عالمی بینک کرتا ہے،منیجر۔ فوٹو: فائل
سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے جیلوں میں قیدیوں میں ایڈز اور دیگر امراض کے پھیلائو سے متعلق دائر اقبال کاظمی کی درخواست عدم پیروی پر خارج کرتے ہوئے درخواست گزار پر10ہزار روپے جرمانہ عائد کیا ہے۔
عدالت نے سندھ ہائیکورٹ آفس کو ہدایت کی ہے کہ جرمانے کی ادائیگی تک درخواست گزار اقبال کاظمی اور ہیومن رائٹس کمیشن آف سائوتھ ایشیا کی جانب سے کوئی درخواست وصول نہ کی جائے،عدالت نے آبزروکیا کہ اقبال کاظمی کو 30 ستمبر 2011 کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی۔
بعد ازاں درخواست گزار کو اظہار وجوہ کے 2 نوٹسز بھی جاری کیے گئے مگر عدالتی حکم کو نظر انداز کیا گیا، صوبائی ایڈز کنٹرول پروگرام کے منیجر کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ ایڈزکنٹرول پروگرام کیلیے فراہم کی جانے والی رقم کی ترسیل اور اخراجات کی مانیٹرنگ خود عالمی بینک کرتا ہے، رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملک میں ایڈزکے مریضوں کی 50 فیصد تعداد سندھ میں موجود ہے،2008-13کے پانچ سالہ ایڈز کنٹرول پروگرام کیلئے صوبائی حکومت کو 348 ملین روپے جبکہ عالمی بینک اور ایک برطانوی ادارے کی جانب سے 1392ملین روپے فراہم کیے جانے تھے تاہم بعد ازاں عالمی بینک نے مکمل ادائیگی سے معذرت کرلی، اقبال کاظمی کی درخواست میں کہا گیا تھا کہ جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدیوں کے باعث ایڈز پھیل رہا ہے اور ایڈز کنٹرول پروگرام کیلیے مختص رقم میں خورد برد کے باعث اس کا صحیح استعمال نہیں ہوپاتا۔
عدالت نے سندھ ہائیکورٹ آفس کو ہدایت کی ہے کہ جرمانے کی ادائیگی تک درخواست گزار اقبال کاظمی اور ہیومن رائٹس کمیشن آف سائوتھ ایشیا کی جانب سے کوئی درخواست وصول نہ کی جائے،عدالت نے آبزروکیا کہ اقبال کاظمی کو 30 ستمبر 2011 کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی۔
بعد ازاں درخواست گزار کو اظہار وجوہ کے 2 نوٹسز بھی جاری کیے گئے مگر عدالتی حکم کو نظر انداز کیا گیا، صوبائی ایڈز کنٹرول پروگرام کے منیجر کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ ایڈزکنٹرول پروگرام کیلیے فراہم کی جانے والی رقم کی ترسیل اور اخراجات کی مانیٹرنگ خود عالمی بینک کرتا ہے، رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملک میں ایڈزکے مریضوں کی 50 فیصد تعداد سندھ میں موجود ہے،2008-13کے پانچ سالہ ایڈز کنٹرول پروگرام کیلئے صوبائی حکومت کو 348 ملین روپے جبکہ عالمی بینک اور ایک برطانوی ادارے کی جانب سے 1392ملین روپے فراہم کیے جانے تھے تاہم بعد ازاں عالمی بینک نے مکمل ادائیگی سے معذرت کرلی، اقبال کاظمی کی درخواست میں کہا گیا تھا کہ جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدیوں کے باعث ایڈز پھیل رہا ہے اور ایڈز کنٹرول پروگرام کیلیے مختص رقم میں خورد برد کے باعث اس کا صحیح استعمال نہیں ہوپاتا۔