تعمیراتی سروسزپرٹیکسملک بھرمیں یکساں نظام لایاجائیگا

سندھ میںسیلزٹیکس عائد،دیگرصوبوںمیںنہیں لگایا گیا،ریٹرن فائلنگ میں مشکلات کاخدشہ

سندھ میں سیلزٹیکس عائد، دیگر صوبوں میں نہیں لگایا گیا،ریٹرن فائلنگ میں مشکلات کاخدشہ فائل فوٹو

حکومت نے ملک میں تعمیراتی سروسز پر یونیفائڈ جنرل سیلز ٹیکس سسٹم متعارف کرانے کیلیے وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ تعمیراتی سروسز کے شعبے میں پائے جانے والے ابہام دور کیے جاسکیں۔ ذرائع نے بتایا کہ اس وقت ملک بھر میں تعمیراتی سروسز پر جنرل سیلز ٹیکس کے حوالے مختلف سسٹم رائج ہیں جس سے یہ شعبہ بری طرح متاثر ہورہا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ سندھ ریونیو بورڈ کی طرف سے تعمیراتی سروسز پر جنرل سیلز ٹیکس عائد کیا گیا ہے جبکہ نہ تو ایف بی آر نے تعمیراتی سروسز پر کوئی جنرل سیلز ٹیکس عائد کررکھا ہے اور نہ ہی نئی قائم ہونے والی پنجاب ریونیو اتھارٹی کی طرف سے پنجاب میں تعمیراتی سروسز پر کوئی جنرل سیلز ٹیکس عائد کیا گیا ہے جس کے باعث تعمیراتی سروسز پر جنرل سیلز ٹیکس کے حوالے سے ابہام پایا جارہا ہے اور ٹیکس ماہرین نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ تعمیراتی سروسز پر جنرل سیلز ٹیکس کے حوالے سے ملک بھر میں یکساں نظام ہونا چاہیے


کیونکہ ایک ہی طرح کی سروسز کے بارے میں وفاق اور صوبوں میں الگ الگ نظام سے ابہام پائے جاتے ہیں اور اس سے جہاں تعمیراتی سروسز کا شعبہ متاثر ہورہا ہے وہیں صوبوں کے درمیان میں بھی مسائل جنم لے رہے ہیں کیونکہ بہت سی تعمیراتی سروسز فراہم کرنے والی کمپنیاں ایسی ہیں جن کے ہیڈ آفسز پنجاب میں ہیں اور وہ اپنے ریٹرنز پنجاب میں جمع کراتے ہیں

لیکن ان کے پراجیکٹ سندھ سمیت دیگر صوبوں میں بھی ہوتے ہیں تو ایسی صورت میں ان سروسز پر جنرل سیلز ٹیکس کے تعین اور وصولی ایک تنازع بن جائے گی، اسی طرح بہت سی ایسی کمپنیاں ہیں جن کے ہیڈ آفسز سندھ میں ہیں لیکن ان کے منصوبے پنجاب سمیت دیگر صوبوں میں ہیں تو سندھ ریونیو بورڈ کی طرف سے ان کمپنیوں سے جنرل سیلز ٹیکس کلیمز کیا جائیگا جبکہ ان کا پراجیکٹ چونکہ پنجاب میں ہے اس لیے وہ ٹیکس سے چھوٹ کلیم کریں گی

جس سے پیچیدگیاں جنم لیں گی۔ ذرائع نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے سروسز پر جنرل سیلز ٹیکس کی طرح تعمیراتی سروسز کے حوالے سے بھی یونیفائیڈ سسٹم متعارف کرانے کیلیے وفاقی اور صوبوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کیلیے کردار کرنے کی تجویز کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے اور توقع ہے کہ اس بارے میں جلد صوبوں کو آن بورڈ لیا جائیگا۔
Load Next Story