تحفظ نہیں دے سکتے تو عوام کو کلاشنکوفیں دیدیں سپریم کورٹ

دہشت گرد کیسے پکڑے گی،سابق چیئرمین اوگرا کی وجہ سے آج ملک میں سی این جی کا بحران ہے،جسٹس جواد

پولیس توقیر صادق کو پکڑ نہیں سکی،دہشت گرد کیسے پکڑے گی،سابق چیئرمین اوگرا کی وجہ سے آج ملک میں سی این جی کا بحران ہے،جسٹس جواد، پولیس سربراہان کی سرزنش۔ فوٹو: فائل

سابق چیئر مین اوگراتوقیر صادق کی عدم گرفتاری پر عدالت عظمٰی نے سخت برہمی کا اظہارکیا ہے اورنیب کے ساتھ تعاون نہ کرنے کی شکایت پرآئی جی پنجاب اور آئی جی موٹر وے پولیس کی سرزنش کی گئی ہے۔

بدھ کو سابق چیئر مین نیب توقیرصادق کے خلاف کارروائی کے مقدمے کی سماعت کے دوراں جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیے کہ اگر پولیس اور انسداد دہشت گردی کے ادارے عوام کوتحفظ نہیں دے سکتے توپھرعوام کو کہا جائے کہ وہ اپنی حفاظت خودکریں اورپھرانھیں رعایتی نرخ پرایک ایک کلاشنکوف بھی دے دی جائے۔اگرایک معلوم ملزم نہیں پکڑاجاسکتا تو پھرنامعلوم دہشت گردکیسے پکڑاجا سکے گا؟۔ مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تونیب کے انکوائری افسر وقاص نے کہا کہ تو قیرصادق کی گرفتاری میں پنجاب اور موٹر وے پولیس تعاون نہیں کر رہی،جس پرعدالت نے سخت نوٹس لیا اوردونوں پولیس کے سربراہوں کوطلب کرلیا۔

جسٹس جواد نے ریمارکس دیے اگروہ فوری طور پر پیش نہیں ہوئے توگرفتاری کا وارنٹ جاری کردیا جا ئے گا۔التواکے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی توآئی جی موٹر وے پیش ہوئے جبکہ عدالت کوبتایا گیا آئی جی پنجاب پولیس براستہ موٹر وے نکل گئے ہیں جس پرسماعت دوبارہ ملتوی کردی گئی۔




سماعت شروع ہوئی توآئی جی پنجاب موجود تھے لیکن آئی جی موٹر وے غیرحاضر تھے جس پرانھیں فوری طلب کیاگیا۔آئی جی موٹر وے پولیس ظفرعباس لک پیش ہوئے اوربتایاکہ جس گاڑی کے بارے میں کہا گیا تھا اس کا ریکارڈکسی بھی انٹرچینج سے نہیں ملا، نیب سے کیس کی تفتیش صحیح نہیں ہو رہی اس لیے یہ کیس انھیں دیا جائے ،عدالت نے اس بیان پر سخت برہمی کا اظہار کیا تاہم طفرعباس لک نے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

آئی جی پنجاب نے بھی مکمل تعاون کا یقین دلایا ۔جسٹس جواد نے کہا کہ ہمیں پولیس سے کچھ توقعات ہیں لیکن ایک آدمی جس نے 82ارب روپے کا نقصان قومی خزانے کو پہنچایا وہ مفرور ہے اور پولیس سمیت انسداد دہشت گردی کا ادارہ اسے پکڑنے سے قاصر ہے۔یہ انتہائی قابل تشویش ہے کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ انھیں گرفتارنہیں کیاجا رہا ۔توقیرصادق وہ آدمی ہے جس کی وجہ سے آج ملک میں سی این جی کا بحران ہے۔جسٹس خلجی عارف حسین نے کہاکہ اگریہ صورتحال ہے تو پھر توملک میںہرآدمی کوخود اپنی حفاظت کرنی پڑے گی ۔عدالت نے اسلام آباد پولیس کے علاوہ پنجاب اور موٹر وے پولیس کو نیب کے ساتھ تعاون کی ہدایت کی اور قراردیا کہ اگر ضروری ہوا تونیب کی رپورٹ پرملزم کے ساتھ تعاون نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کاحکم جاری کردیا جائے گا،سماعت 26دسمبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
Load Next Story