مشرف دور میں ججوں کو دیے گئے پلاٹ واپس لیے جائیں پی اے سی

’سیٹل ایشوز‘کی تفصیلات طلب،کمزور کا احتساب ہرکوئی کرتا ہے طاقتور کا کوئی نہیں کرتا

جرنیلوں کوزرعی زمین کی الاٹمنٹ ختم کرنیکی ہدایت،چیف سیکریٹری سندھ طلب

قومی اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی نے آڈٹ حکام سے سپریم کورٹ کی ڈیپارٹمنٹل اکائونٹس کمیٹی کے اجلاسوں اور آڈٹ کی جانب سے طے کردہ امور(سیٹل ایشوز) کی تفصیلات طلب کرلیں۔

بدھ کوکمیٹی کا اجلاس چیئرمین ندیم افضل چن کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا۔اجلاس میں بیورو کریٹس، ججوں اور جرنیلوں کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ پالیسی کا بھی جائزہ لیا گیا۔پی اے سی نے سابق صدر مشرف کے دور میں ججوں اور بیوروکریٹس کودیے گئے پلاٹس واپس لینے، سیاستدانوں، ججوں، بیوروکریٹس اور جرنیلوں کو زرعی زمین کی الاٹمنٹ اور وفاقی دارالحکومت میں ڈی 12 اور جی 13 سیکٹر میں وزیراعظم کی سفارش پر الاٹ کیے گئے پلاٹس کی ٹرانسفر ختم کرنے، سی ڈی اے میں ڈیپوٹیشن پر جانے والوں کو پلاٹ دینے کی پالیسی کو ختم کرنے کی ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ اس کا اطلاق بیوہ خواتین اور شہدا کے لواحقین کے لیے نہیں ہوگا۔

اجلاس میں چیئرمین کمیٹی نے آڈیٹر جنرل سے استفسار کیا کہ آپ نے کیسے سپریم کورٹ کوکلین چٹ دے دی ہے؟ جس پرآڈیٹر جنرل بلند اختر رانا نے کہا کہ سپریم کورٹ کا ہر سال آڈٹ ہوتا ہے اورڈی اے سی بھی منعقد ہوتی ہے ہمیں کسی مشکل کا سامنا نہیں ہے۔ آڈٹ پیراز بھی سیٹل ہوجاتے ہیں۔آڈیٹر جنرل آفس پارلیمنٹ کے ایما پرآڈٹ کرتا ہے اور نہ ہی کسی کو رعایت دیتے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ آڈٹ کمزور محکموں کا ہوتا ہے طاقتور محکموں کے ساتھ وہ سلوک نہیں ہوتا اگراستثنیٰ دینا ہے تو سب کو دینا چاہیے ہماری خواہش ہے کہ ایگزیکٹو سے آڈٹ زیادہ مضبوط ہو میں اس نظام سے مطمئن نہیں ہوں، مضبوط کا احتساب کوئی نہیں کرتا۔ کمزور کا احتساب ہرکوئی کرتا ہے۔




کمیٹی نے آڈٹ حکام سے سپریم کورٹ کی ڈی اے سی اجلاسوں کی تفصیل اور سیٹل ہونے والے ایشوزکی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔کمیٹی کوسندھ ہائوسنگ وزارت کے حکام نے وفاقی ملازمین کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ کی تفصیلات مہیا نہیں کی۔ رکن کمیٹی یاسمین رحمن نے کہا کہ پانچ ماہ سے کمیٹی تفصیلات مانگ رہی ہے مگر ان کی جانب سے غیرسنجیدگی کا رویہ اختیار کیا جارہا ہے۔ کمیٹی نے سیکریٹری ہائوسنگ سندھ، چیف سیکریٹری سندھ اور سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کو دس روز میں طلب کرلیا ہے۔کمیٹی نے ہدایت کی کہ چیف سیکریٹری خود پیش ہوں۔ کمیٹی کو بلوچستان کے حکام نے بتایا کہ بلوچستان کی جانب سے افسران کو 19پلاٹ دیے گئے ہیں جن میں چارعدلیہ کے افسران شامل ہیں۔کمیٹی نے پلاٹوں کی الاٹمنٹ کی فہرست طلب کرلی ہے ۔

خیبر پختونخوا کے حکام نے بتایا کہ ہماری فیڈرل یا صوبائی ملازمین کو پلاٹ دینے کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔کمیٹی نے حکومت سے درخواست کی کہ وہ سابق صدر پرویزمشرف کے دور میں شوکت عزیزکی جانب سے خصوصی مراعاتی پیکج کو فوری طور پرختم کرے۔کمیٹی نے وزارت ہائوسنگ کا ڈیٹا بیس ویب سائٹ پرآویزاں کرنے کی ہدایت کی۔کمیٹی نے ہدایت کی ہے کہ ایک افسر کو دوسے زیادہ محکموں کے چارج نہ دیے جائیں۔

Recommended Stories

Load Next Story