شمالی علاقوں کی طرزپرخواتین کوسرمیں گولیاں ماری گئیں
پولیومہم سیکیورٹی اداروں کی تحفظ کی یقین دہانی تک شروع نہیں ہوگی،ڈاکٹرصغیر
پولیومہم سیکیورٹی اداروں کی تحفظ کی یقین دہانی تک شروع نہیں ہوگی،ڈاکٹرصغیر۔ فوٹو: فائل
صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر صغیراحمد نے کہاہے کہ کراچی میں خواتین پولیو رضا کاروں کوگولیاں مارنے کے بعدصوبے بھرمیہں جاری مہم کومعطل کردیاگیاہے اورکراچی سمیت سندھ بھرمیں اس وقت تک نئی انسداد پولیو مہم نہیں چلائی جائے گی۔
جب تک سیکیورٹی ادارے مہم کے دوران رضاکاروں کوسیکیورٹی فراہم نہیںکریں گے،17دسمبرکوشروع ہونے والی انسداد پولیومہم کو بھی اسی لیے روک دیاگیا ہے کیونکہ مہم کے پہلے اوردوسرے دن 4خواتین سمیت5رضاکاروںکو شہیدکردیاگیا،مزید15ہزارپولیورضاکاروںکی جانوںکودائو پرنہیں لگاسکتے اسی لیے اگلے سال جنوری میں شروع ہونے والی انسدادپولیومہم سیکیورٹی اداروںکی تحفظ کی یقین دہانی تک شروع نہیںکی جائے گی۔وہ بدھ کے روزکراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
انھوں نے کہاکہ منظم سازش کے تحت شمالی علاقے جات کی طرزپر دہشتگرد کارروائیاں کرکے خواتین کے سروں پرگولیاں مارکر دہشت گردوں نے کراچی میں اپناپیٖغام دیدیاہے،پولیو رضاکار ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ قومی مفاد کے لیے یہ مشن انجام دے رہی تھیں،اس طرح کی کارروائیوںکا مقصد دنیابھرمیں پاکستان کو بدنام کرناہے اوریہ حملے معصوم بچوں کے مستقبل پر کیے گئے ہیں تاکہ انہیں پولیوکے مرض کے نتیجے میںاپاہج کیا جاسکے ۔
انھوں نے صدرزرداری،وزیر اعظم راجاپرویز اشرف،گورنرعشرت العباد، وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ، قانون نافذکرنے والے اداروں خصوصاً رینجر زاورپولیس سے اپیل ہے کہ وہ اپناکردارادا کریں،اس حوالے سے ہم نے متعددعلمائے کرام سے بھی رابطہ کیا ہے اورعلامہ طاہر اشرفی اور مفتی محمد نعیم سمیت دیگر علمائے کرام کے شکرگزار ہیں کہ انھوں نے اس واقعے کی مذمت کی ہے۔دریں اثناڈاکٹرصغیرنے چیئرمین پاکستان علماء کونسل مولانا طاہر محمود اشرفی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی جس میں طاہر محمود اشرفی نے پولیو ٹیموں پر حملہ کوغیر اسلامی اور غیر انسانی فعل قراردیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ۔
جب تک سیکیورٹی ادارے مہم کے دوران رضاکاروں کوسیکیورٹی فراہم نہیںکریں گے،17دسمبرکوشروع ہونے والی انسداد پولیومہم کو بھی اسی لیے روک دیاگیا ہے کیونکہ مہم کے پہلے اوردوسرے دن 4خواتین سمیت5رضاکاروںکو شہیدکردیاگیا،مزید15ہزارپولیورضاکاروںکی جانوںکودائو پرنہیں لگاسکتے اسی لیے اگلے سال جنوری میں شروع ہونے والی انسدادپولیومہم سیکیورٹی اداروںکی تحفظ کی یقین دہانی تک شروع نہیںکی جائے گی۔وہ بدھ کے روزکراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
انھوں نے کہاکہ منظم سازش کے تحت شمالی علاقے جات کی طرزپر دہشتگرد کارروائیاں کرکے خواتین کے سروں پرگولیاں مارکر دہشت گردوں نے کراچی میں اپناپیٖغام دیدیاہے،پولیو رضاکار ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ قومی مفاد کے لیے یہ مشن انجام دے رہی تھیں،اس طرح کی کارروائیوںکا مقصد دنیابھرمیں پاکستان کو بدنام کرناہے اوریہ حملے معصوم بچوں کے مستقبل پر کیے گئے ہیں تاکہ انہیں پولیوکے مرض کے نتیجے میںاپاہج کیا جاسکے ۔
انھوں نے صدرزرداری،وزیر اعظم راجاپرویز اشرف،گورنرعشرت العباد، وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ، قانون نافذکرنے والے اداروں خصوصاً رینجر زاورپولیس سے اپیل ہے کہ وہ اپناکردارادا کریں،اس حوالے سے ہم نے متعددعلمائے کرام سے بھی رابطہ کیا ہے اورعلامہ طاہر اشرفی اور مفتی محمد نعیم سمیت دیگر علمائے کرام کے شکرگزار ہیں کہ انھوں نے اس واقعے کی مذمت کی ہے۔دریں اثناڈاکٹرصغیرنے چیئرمین پاکستان علماء کونسل مولانا طاہر محمود اشرفی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی جس میں طاہر محمود اشرفی نے پولیو ٹیموں پر حملہ کوغیر اسلامی اور غیر انسانی فعل قراردیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ۔