ٹیچرز کی تنخواہیں روکنے پر ایڈمنسٹریٹر اور کمشنر کو نوٹس جاری
پاکستان اسٹینڈرڈ کنٹرول اتھارٹی میںافسران کی خلاف ضابطہ ترقیوں کیخلاف درخواست پر ورزات سائنس و ٹیکنالوجی سے جواب طلب
پاکستان اسٹینڈرڈ کنٹرول اتھارٹی میںافسران کی خلاف ضابطہ ترقیوں کیخلاف درخواست پر ورزات سائنس و ٹیکنالوجی سے جواب طلب۔ فوٹو ایکسپریس
سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے 46پرائمری اسکول ٹیچرز کی تنخواہیں روکنے کے خلاف دائر درخواست پر ایڈمنسٹرایٹر کے ایم سی اور کمشنر کراچی کو 2اگست کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے۔
ذوالفقار علی اور اویس حسین سمیت 46درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا ہے کہ درخواست گزار پرائمری اسکول ٹیچر ہیں اور مختلف وقتوں میں تعینات ہوئے ہیں، وہ فرائض ایمانداری سے ادا کررہے ہیں،3اپریل 2012کو اچانک درخواست گزاروں سمیت 87پرائمری اسکول ٹیچرز کی تنخواہیں روکنے کا حکم جاری کیا گیا جو کہ غیر قانونی عمل ہے۔
بعد ازاں 23اسکول ٹیچرز کو تنخواہیں ادا کردی گئیں مگر درخواست گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جارہا ہے جوکہ بنیادی انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے،عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد مدعا علیہان کو نوٹس جاری کردیے ہیں۔
سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس منیب اخترکی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے پاکستان اسٹینڈرڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی( پی ایس کیوسی اے )میںگریڈ 18کے افسران کی ترقی میں بے ضابطگی کے خلاف دائردرخواست پر وزارت سائنس و ٹیکنالوجی،چیئرمین پاکستان اسٹینڈرڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کونوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے،پاکستان اسٹینڈرڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر اختر علی بھگیونے درخواست میں کہا ہے کہ وہ گریڈ 18 میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر تعینات ہوئے جبکہ مدعا علیہ سید محمد اسلم 1976میں بی پی ایس 13میں تقرر ہوئے۔
ذوالفقار علی اور اویس حسین سمیت 46درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا ہے کہ درخواست گزار پرائمری اسکول ٹیچر ہیں اور مختلف وقتوں میں تعینات ہوئے ہیں، وہ فرائض ایمانداری سے ادا کررہے ہیں،3اپریل 2012کو اچانک درخواست گزاروں سمیت 87پرائمری اسکول ٹیچرز کی تنخواہیں روکنے کا حکم جاری کیا گیا جو کہ غیر قانونی عمل ہے۔
بعد ازاں 23اسکول ٹیچرز کو تنخواہیں ادا کردی گئیں مگر درخواست گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جارہا ہے جوکہ بنیادی انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے،عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد مدعا علیہان کو نوٹس جاری کردیے ہیں۔
سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس منیب اخترکی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے پاکستان اسٹینڈرڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی( پی ایس کیوسی اے )میںگریڈ 18کے افسران کی ترقی میں بے ضابطگی کے خلاف دائردرخواست پر وزارت سائنس و ٹیکنالوجی،چیئرمین پاکستان اسٹینڈرڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کونوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے،پاکستان اسٹینڈرڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر اختر علی بھگیونے درخواست میں کہا ہے کہ وہ گریڈ 18 میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر تعینات ہوئے جبکہ مدعا علیہ سید محمد اسلم 1976میں بی پی ایس 13میں تقرر ہوئے۔