2012 میں قدرتی اورانسانی تباہ کاریوں سے140ارب ڈالرکا نقصان ہوا سوئس گروپ

انشورنس انڈسٹری کو آفات کےباعث تقریباً65ارب ڈالرکی ادائیگی کرناہوگی جو10برسوں میں ہونیوالی ادائیگیوں سےکہیں زیادہ ہے۔

قدرتی آفات کے نتیجے میں 11ہزاراموات پر 60ارب ڈالر ادا کرنا ہونگے، حالیہ عشرے میں تباہ کن خشک سالی نے امریکا کی نصف آبادی کو متاثر کیا. فوٹو: اے ایف پی

سوئٹزرلینڈ کے ایک انشورنس گروپ سوئس ری کے ایک مطالعے کے مطابق اس سال دنیا بھر میں قدرتی اور انسانی تباہ کاریوں ، بشمول خوفناک طوفان سینڈی سے کم از کم 140ارب ڈالر (106ارب یوروز) کا نقصان ہوا۔

مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ انشورنس انڈسٹری کو ان آفات کے نتیجے میں تقریباً 65ارب ڈالر کی ادائیگی کرنا ہوگی جو گزشتہ 10برسوں میں ہونیوالی ادائیگیوں سے کہیں زیادہ ہے۔ 2011 سے اس قسم کی ادائیگیوں میں کوئی کمی نہیں آرہی ہے جس میں انشورنس کمپنیوں نے تباہ کاریوں کے نتیجے میں ہونیوالے نقصانات پر 120ارب ڈالر سے زیادہ کی ادائیگیاں کی تھی۔ سوئس رے کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سال قدرتی آفات کے نتیجے میں11,000اموات واقع ہونے سے 60ارب ڈالر ادا کرنا ہوں گے۔

لیکن2 سال بعد جب بر اعظم ایشیا اور جنوبی امریکا میں قدرتی آفات جیسے ھیتی کا زلزلہ اور پاکستان میں سیلابوں پرنظر ڈالی جائے تو " امریکا میں 2012 میں موسم سے متعلق کئی واقعات رونما ہوئے،"مطالعے میں مزید بتایا گیا ہے۔




مطالعے میں ذکر کیا گیا ہے کہ "بیمہ کے 5بڑے نقصانات "امریکا میں ہی رونما ہوئے۔ ان میں سینڈی طوفان جس نے ملک کی مشرقی ساحلی علاقوں کی طرح اکتوبر کے اختتام پر جزائر غرب الہند اور بہاماز میں بہت بڑی تباہی پھیلائی ۔

" مطالعے میں مزید بتایا گیا کہ "ان تباہ کاریوں کی بیمہ شدہ لاگت کا تخمینہ 20ارب ڈالر سے 25ارب ڈالر تک لگایا گیا ہے حالانکہ حتمی مجموعی نقصانات کااندازہ کرنا جلد بازی ہوگی۔مزیدبرآں امریکا کے انتہائی خشک موسم کے نتیجے میں "حالیہ عشرے میں انتہائی تباہ کن خشک سالی نے ملک کی نصف آبادی کو متاثر کیا ہے۔" مطالعے میں مزید بتایا گیا ہے کہ توقع ہے کہ قحط سے متعلق زرعی نقصانات کا تخمینہ 11ارب ڈالر تک لگایا جا سکتا ہے۔
Load Next Story