جنوبی کوریا کے کرپشن اسکینڈل
کرپشن کا مسئلہ پاناما لیکس کے بعد اب ایک عالمگیر اور عوامی مسئلہ بن گیا ہے
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
کرپشن کا مسئلہ پاناما لیکس کے بعد اب ایک عالمگیر اور عوامی مسئلہ بن گیا ہے، کرپشن کے حوالے سے زیر عتاب آنے والے حکمرانوں میں اب جنوبی کوریا کے حکمران بھی شامل ہوگئے ہیں۔ نومبر کے پہلے ہفتے میں جنوبی کوریا کے وزیراعظم وانگ کیوان کو برطرف کرکے دارالحکومت سیول کی کمین یونی ورسٹی کے پروفیسرکم بانگ جون کو نیا وزیراعظم مقرر کردیاگیا تھا۔
یہ اقدام جنوبی کوریا کی صدر پارک جیون سے مشہور کرپشن اسکینڈل ''چوئے گیٹ'' کے حوالے سے کیا تھا۔ جنوبی کوریا کی صدر نے اپنے وزیراعظم کے ساتھ ساتھ وزیر خزانہ یوال ہو کو بھی برطرف کرکے فنانس سروس کمیشن کے چیئرمین ہم جنگ یونگ کو نیا وزیر خزانہ مقرر کردیا تھا۔
ان برطرفیوں میں پبلک سیفٹی و سیکیورٹی کے وزیر بھی شامل تھے، جنوبی کوریا کی اپوزیشن پارٹی پیپلزپارٹی کے سربراہ نے اس حوالے سے یہ اعتراض اٹھایا تھا کہ جنوبی کوریا کی صدر نے یہ بڑا اقدام اپوزیشن کو اعتماد میں لیے اور اس سے مشورہ کیے بغیر کیا ہے۔ جنوبی کوریا کی صدر کی غیر مقبولیت کے تبصرے عام ہوگئے تھے اور کہا یہ جارہا ہے کہ جنوبی کوریا کی صدر نے وزیراعظم وغیرہ کو ہٹاکر اپنی گرتی ہوئی مقبولیت کو سہارا دینے کی کوشش کی ہے۔
تازہ اطلاعات کے مطابق جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں ایک لاکھ ستر ہزار عوام نے یہ جنوبی کوریا کی صدر کے خلاف مظاہرہ کیا، کہا جارہا ہے کہ حالیہ برسوں میں ہونے والا یہ سب سے بڑا مظاہرہ تھا۔ صدر پارک گیون ہائی پر الزام ہے کہ ان کی ایک قریبی دوست چون سون سل اربوں ڈالر کی کرپشن میں ملوث ہیں۔ اس کرپشن میں صدر کی دوست نے صدر اور ان کے عملے کی اعانت حاصل کی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنوبی کورین صدر پارک گیون ہائی سے مظاہرین مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ پاناما لیکس کے انکشافات کے بعد دنیا کے کئی ملکوں میں کرپشن کے الزامات حکمرانوں پر لگ رہے ہیں پاکستان بھی ان ملکوں میں شامل بلکہ یہ فہرست ہے جن کے حکمرانوں پر بڑے پیمانے کی کرپشن کے الزامات ہیں اور سیاسی جماعتیں احتساب کا مطالبہ کررہی ہیں۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد فتحیاب ملکوں نے جن ملکوں کو اپنی جاگیر سمجھ کر آپس میں بانٹ لیا ان میں کوریا بھی شامل ہے، جرمنی کی طرح کوریا کو بھی دو حصوں شمالی اور جنوبی کوریا میں بانٹ دیا گیا، جنوبی کوریا امریکا کی سرپرستی میں آگیا جہاں بھاری تعداد میں امریکی فوجوں اور جدید اسلحہ کو ڈمپ کردیاگیا۔
امریکا جس سرمایہ دارانہ نظام کی سرپرستی کر رہا ہے وہی نظام جنوبی کوریا میں بھی نافذ ہے جس کی فطرت میں کرپشن رچا بسا ہوا ہے اس حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان اور جنوبی کوریا سمیت کرپشن کے الزامات کی زد میں آئے ہوئے ملکوں میں کرپٹ حکمرانوں کے خلاف اقدامات بھی کیے جارہے ہیں اور تحریکیں بھی چل رہی ہیں لیکن کرپشن کی ماں سرمایہ دارانہ نظام سیاست دانوں اور عوام کی نظروں سے اوجھل ہے۔ کرپشن کے خلاف خواہ کتنے ہی حکمرانوں کو نکالا جائے سزا دی جائے اور مظاہرے کیے جائیں کرپشن اس وقت تک ختم نہیں ہوسکتی جب تک سرمایہ دارانہ نظام، معیشت موجود ہے۔
جب تک سوشلسٹ بلاک موجود تھا اس بلاک میں شامل ملک کرپشن کی لعنت سے پاک تھے کرپشن ہی سے سوشلسٹ ملک پاک نہ تھے بلکہ جرائم سمیت سماجی برائیوں سے بھی سوشلسٹ ملک پاک تھے چونکہ سرمایہ دارانہ نظام سرمایہ داروں کے مفادات کا محافظ ہے اور سوشلسٹ معیشت کی مقبولیت سے دنیا کے سرمایہ داروں کے مفادات کو خطرہ لاحق ہوگیا تھا اس لیے امریکا اور اس کے اتحادیوں نے سوشلسٹ بلاک کے خلاف اس قدر منظم اور طاقت ور مہم چلائی کہ آخر کار سوشلسٹ بلاک کا سرپرست ملک روس ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا اور اس کے ساتھ ساتھ تمام سوشلسٹ ملک نظریاتی شکست کے بعد سرمایہ دارانہ معیشت قبول کرنے پر مجبور ہوگئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سابق سوشلسٹ ملکوں میں بھی کرپشن عام ہوگئی جن میں روس، چین، جنوبی کوریا بھی شامل ہیں ان ملکوں میں اعلیٰ سطحی کرپشن عام ہوگئی ہے۔
پاکستان کا شمار دنیا کے پسماندہ ترین ممالک میں ہوتا ہے جہاں 50 فی صد کے لگ بھگ عوام غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ایسے غریب ملکوں میں پائی جانے والی غربت کی بڑی وجہ اعلیٰ سطحی کرپشن ہے ان ملکوں کی اشرافیہ خواہ اس کا تعلق حکمران طبقات سے ہو یا اپوزیشن سے اربوں روپے کی کرپشن کررہی ہے اور دھڑلے سے کررہی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں آئین اور قانون اور معاشرتی ڈھانچہ اس چالاکی سے ترتیب دیا گیا ہے کہ اس نظام میں غریب طبقات کو بڑی کرپشن کے مواقع سرے سے حاصل ہی نہیں ہوتے اور اگر وہ چھوٹی چھوٹی رشوتوں کا ارتکاب کرتے بھی ہیں تو فوری قانون اور انصاف کی گرفت میں آجاتے ہیں جب کہ اشرافیہ اربوں کھربوں کی کرپشن کا ارتکاب کرکے بھی نہ صرف محفوظ رہتی ہے بلکہ قانون اور انصاف کو پیروں تلے روند کر عوام کو یہ تاثر دیتی ہے کہ اس پر لگائے گئے کرپشن کے الزامات جھوٹے ہیں اور وہ فرشتوں کی طرح پاک صاف ہے۔
جنوبی کوریا میں جنوبی کوریا کی صدر نے وزیراعظم کو کرپشن کے الزامات میں وزیر خزانہ وغیرہ سمیت برطرف کردیا۔ اتفاق یہ ہے کہ یہ اقدام اشرافیہ کی آپس کی اندرونی لڑائیوں کا شاخسانہ ہو بہر حال یہ حقیقت اپنی جگہ اٹل ہے کہ سرمایہ دارانہ معیشت کے حامل ملکوں میں کرپشن اشرافیہ کا اوڑھنا بچھونا بنی ہوئی ہے اور اس اربوں کھربوں کی کرپشن کا نقصان ہر ملک کے غریب طبقات کو اس لیے ہورہاہے کہ ان کی معاشی بد حالی کو دور کرنے کے لیے استعمال کی جانے والی کھربوں کی رقم اعلیٰ سطحی کرپشن کی نظر ہورہی ہے جو لوگ حکمرانوں کی کرپشن کے خلاف تحریکیں چلارہے ہیں وہ یہ دانستہ یا نادانستہ جرم کررہے ہیں کہ کرپشن کا الزام صرف حکمرانوں پر لگارہے ہیں جب کہ کرپشن کا اصل مجرم سرمایہ دارانہ نظام ہے اور جب تک یہ نظام موجود ہے کرپشن کے حوالے سے ڈرامے جاری رہیں گے۔
یہ اقدام جنوبی کوریا کی صدر پارک جیون سے مشہور کرپشن اسکینڈل ''چوئے گیٹ'' کے حوالے سے کیا تھا۔ جنوبی کوریا کی صدر نے اپنے وزیراعظم کے ساتھ ساتھ وزیر خزانہ یوال ہو کو بھی برطرف کرکے فنانس سروس کمیشن کے چیئرمین ہم جنگ یونگ کو نیا وزیر خزانہ مقرر کردیا تھا۔
ان برطرفیوں میں پبلک سیفٹی و سیکیورٹی کے وزیر بھی شامل تھے، جنوبی کوریا کی اپوزیشن پارٹی پیپلزپارٹی کے سربراہ نے اس حوالے سے یہ اعتراض اٹھایا تھا کہ جنوبی کوریا کی صدر نے یہ بڑا اقدام اپوزیشن کو اعتماد میں لیے اور اس سے مشورہ کیے بغیر کیا ہے۔ جنوبی کوریا کی صدر کی غیر مقبولیت کے تبصرے عام ہوگئے تھے اور کہا یہ جارہا ہے کہ جنوبی کوریا کی صدر نے وزیراعظم وغیرہ کو ہٹاکر اپنی گرتی ہوئی مقبولیت کو سہارا دینے کی کوشش کی ہے۔
تازہ اطلاعات کے مطابق جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں ایک لاکھ ستر ہزار عوام نے یہ جنوبی کوریا کی صدر کے خلاف مظاہرہ کیا، کہا جارہا ہے کہ حالیہ برسوں میں ہونے والا یہ سب سے بڑا مظاہرہ تھا۔ صدر پارک گیون ہائی پر الزام ہے کہ ان کی ایک قریبی دوست چون سون سل اربوں ڈالر کی کرپشن میں ملوث ہیں۔ اس کرپشن میں صدر کی دوست نے صدر اور ان کے عملے کی اعانت حاصل کی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنوبی کورین صدر پارک گیون ہائی سے مظاہرین مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ پاناما لیکس کے انکشافات کے بعد دنیا کے کئی ملکوں میں کرپشن کے الزامات حکمرانوں پر لگ رہے ہیں پاکستان بھی ان ملکوں میں شامل بلکہ یہ فہرست ہے جن کے حکمرانوں پر بڑے پیمانے کی کرپشن کے الزامات ہیں اور سیاسی جماعتیں احتساب کا مطالبہ کررہی ہیں۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد فتحیاب ملکوں نے جن ملکوں کو اپنی جاگیر سمجھ کر آپس میں بانٹ لیا ان میں کوریا بھی شامل ہے، جرمنی کی طرح کوریا کو بھی دو حصوں شمالی اور جنوبی کوریا میں بانٹ دیا گیا، جنوبی کوریا امریکا کی سرپرستی میں آگیا جہاں بھاری تعداد میں امریکی فوجوں اور جدید اسلحہ کو ڈمپ کردیاگیا۔
امریکا جس سرمایہ دارانہ نظام کی سرپرستی کر رہا ہے وہی نظام جنوبی کوریا میں بھی نافذ ہے جس کی فطرت میں کرپشن رچا بسا ہوا ہے اس حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان اور جنوبی کوریا سمیت کرپشن کے الزامات کی زد میں آئے ہوئے ملکوں میں کرپٹ حکمرانوں کے خلاف اقدامات بھی کیے جارہے ہیں اور تحریکیں بھی چل رہی ہیں لیکن کرپشن کی ماں سرمایہ دارانہ نظام سیاست دانوں اور عوام کی نظروں سے اوجھل ہے۔ کرپشن کے خلاف خواہ کتنے ہی حکمرانوں کو نکالا جائے سزا دی جائے اور مظاہرے کیے جائیں کرپشن اس وقت تک ختم نہیں ہوسکتی جب تک سرمایہ دارانہ نظام، معیشت موجود ہے۔
جب تک سوشلسٹ بلاک موجود تھا اس بلاک میں شامل ملک کرپشن کی لعنت سے پاک تھے کرپشن ہی سے سوشلسٹ ملک پاک نہ تھے بلکہ جرائم سمیت سماجی برائیوں سے بھی سوشلسٹ ملک پاک تھے چونکہ سرمایہ دارانہ نظام سرمایہ داروں کے مفادات کا محافظ ہے اور سوشلسٹ معیشت کی مقبولیت سے دنیا کے سرمایہ داروں کے مفادات کو خطرہ لاحق ہوگیا تھا اس لیے امریکا اور اس کے اتحادیوں نے سوشلسٹ بلاک کے خلاف اس قدر منظم اور طاقت ور مہم چلائی کہ آخر کار سوشلسٹ بلاک کا سرپرست ملک روس ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا اور اس کے ساتھ ساتھ تمام سوشلسٹ ملک نظریاتی شکست کے بعد سرمایہ دارانہ معیشت قبول کرنے پر مجبور ہوگئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سابق سوشلسٹ ملکوں میں بھی کرپشن عام ہوگئی جن میں روس، چین، جنوبی کوریا بھی شامل ہیں ان ملکوں میں اعلیٰ سطحی کرپشن عام ہوگئی ہے۔
پاکستان کا شمار دنیا کے پسماندہ ترین ممالک میں ہوتا ہے جہاں 50 فی صد کے لگ بھگ عوام غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ایسے غریب ملکوں میں پائی جانے والی غربت کی بڑی وجہ اعلیٰ سطحی کرپشن ہے ان ملکوں کی اشرافیہ خواہ اس کا تعلق حکمران طبقات سے ہو یا اپوزیشن سے اربوں روپے کی کرپشن کررہی ہے اور دھڑلے سے کررہی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں آئین اور قانون اور معاشرتی ڈھانچہ اس چالاکی سے ترتیب دیا گیا ہے کہ اس نظام میں غریب طبقات کو بڑی کرپشن کے مواقع سرے سے حاصل ہی نہیں ہوتے اور اگر وہ چھوٹی چھوٹی رشوتوں کا ارتکاب کرتے بھی ہیں تو فوری قانون اور انصاف کی گرفت میں آجاتے ہیں جب کہ اشرافیہ اربوں کھربوں کی کرپشن کا ارتکاب کرکے بھی نہ صرف محفوظ رہتی ہے بلکہ قانون اور انصاف کو پیروں تلے روند کر عوام کو یہ تاثر دیتی ہے کہ اس پر لگائے گئے کرپشن کے الزامات جھوٹے ہیں اور وہ فرشتوں کی طرح پاک صاف ہے۔
جنوبی کوریا میں جنوبی کوریا کی صدر نے وزیراعظم کو کرپشن کے الزامات میں وزیر خزانہ وغیرہ سمیت برطرف کردیا۔ اتفاق یہ ہے کہ یہ اقدام اشرافیہ کی آپس کی اندرونی لڑائیوں کا شاخسانہ ہو بہر حال یہ حقیقت اپنی جگہ اٹل ہے کہ سرمایہ دارانہ معیشت کے حامل ملکوں میں کرپشن اشرافیہ کا اوڑھنا بچھونا بنی ہوئی ہے اور اس اربوں کھربوں کی کرپشن کا نقصان ہر ملک کے غریب طبقات کو اس لیے ہورہاہے کہ ان کی معاشی بد حالی کو دور کرنے کے لیے استعمال کی جانے والی کھربوں کی رقم اعلیٰ سطحی کرپشن کی نظر ہورہی ہے جو لوگ حکمرانوں کی کرپشن کے خلاف تحریکیں چلارہے ہیں وہ یہ دانستہ یا نادانستہ جرم کررہے ہیں کہ کرپشن کا الزام صرف حکمرانوں پر لگارہے ہیں جب کہ کرپشن کا اصل مجرم سرمایہ دارانہ نظام ہے اور جب تک یہ نظام موجود ہے کرپشن کے حوالے سے ڈرامے جاری رہیں گے۔