2012 دنیا بھر میں67صحافی ذمے داریاں انجام دیتے ہوئے ہلاک
سب سے زیادہ ہلاکتیں شورش زدہ شام میں ہوئیں ، صومالیہ دوسرے،پاکستان تیسرے نمبر پر رہا.
سب سے زیادہ ہلاکتیں شورش زدہ شام میں ہوئیں ، صومالیہ دوسرے،پاکستان تیسرے نمبر پر رہا۔ فوٹو: فائل. فوٹو:اے ایف پی/فائل
دنیا بھر میں رواں سال 67 صحافی ذمے داریاں سرانجام دیتے ہوئے ہلاک ہوئے۔
سب سے زیادہ ہلاکتیں شورش زدہ ملک شام میں ہوئیں جبکہ صومالیہ دوسرے اور پاکستان تیسرے نمبر پررہا، پاکستان میں7صحافی ہلاک ہوئے،صحافیوںکی عالمی تنظیم کمیٹی ٹوپروٹیکٹ جرنلسٹس نے کہا ہے کہ رواں سال دنیا بھر میں 67 صحافی ہلاک ہوئے اور سب سے زیادہ ہلاکتیں شورش زدہ ملک شام میں ہوئیں۔
عالمی تنظیم نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ صحافیوں کی ہلاکتوں کے حوالے سے شام سرِفہرست رہا جبکہ صومالیہ دوسرے اور پاکستان تیسرے نمبر پر رہا۔کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صومالیہ میں رواں سال 12صحافی جبکہ پاکستان میں7 صحافی ہلاک ہوئے،کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پچھلی2دہائیوں میں دنیا بھر میں962 صحافی ہلاک ہوئے،20سال میں صحافیوں کی ہلاکت کے حوالے سے بدترین ملک عراق رہا ہے جہاں151صحافی ہلاک ہوئے۔ اس فہرست میں صومالیہ اور پاکستان میں48 صحافی ہلاک ہوئے، یہ67 صحافی وہ ہیں جو اپنی ذمے داریاں نبھاتے ہوئے ہلاک ہوئے۔
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی رپورٹ کے مطابق20 سال میں48 صحافی اپنی ذمے داریاں نبھاتے ہوئے ہلاک ہوئے جبکہ15 صحافی ایسے ہیں جن کی ہلاکت کے محرکات کے بارے میں معلوم نہیں ہے کہ آیا وہ ڈیوٹی کرتے ہوئے ہلاک ہوئے یا کسی ذاتی دشمنی کا نشانہ بنے۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ پاکستان میں2012 میں7 صحافی جن کی ہلاکت کے محرکات معلوم ہیں ان کے نام یہ ہیں کراچی میں ثاقب خان، پنجگور میں رحمت اللہ عابد، خیرپو رمیں مشتاق خند،خضدار میں عبدالحق بلوچ،کوئٹہ عبدالقادر حاجی زئی، تربت رزاق گل، شبقدر میں مکرم خان عاطف شامل ہیں۔
ان صحافیوں کے علاوہ 3 ایسے افراد بھی20سال میں ہلاک ہوئے جن کا تعلق کسی میڈیا کے دفتر سے تو ہے لیکن وہ صحافی کی کیٹیگری میں نہیں آتے۔ ان میں نجی ٹی وی کا ایک اہلکار، ایک ڈرائیور اور پشاور پریس کلب کا ایک اہلکار شامل ہیں،20 سال میں پاکستان میں ہلاک ہونے والے صحافیوں کے بارے میں مزید تفصیلات دیتے ہوئے اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے صحافیوں میں سے58 فیصد صحافی سیاسی امور پر رپورٹنگ کرتے تھے، 42 فیصد مسلح تصادم کی،21 فیصد کرائم،15فیصد بدعنوانی اور10 فیصد انسانی حقوق کی رپورٹنگ کرتے تھے۔
رپورٹ کے مطابق58 فیصد صحافیوں کا تعلق پرنٹ میڈیا سے تھا جبکہ ٹی وی سے وابستہ46 فیصد اور انٹرنیٹ سے8فیصد اور ریڈیو سے 2 فیصد،کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں ہلاک ہونے والے40 فیصد صحافی اخبارات کے رپورٹر تھے،35 فیصد براڈکاسٹ رپورٹر جبکہ 15فیصد فوٹوگرافر تھے۔
سب سے زیادہ ہلاکتیں شورش زدہ ملک شام میں ہوئیں جبکہ صومالیہ دوسرے اور پاکستان تیسرے نمبر پررہا، پاکستان میں7صحافی ہلاک ہوئے،صحافیوںکی عالمی تنظیم کمیٹی ٹوپروٹیکٹ جرنلسٹس نے کہا ہے کہ رواں سال دنیا بھر میں 67 صحافی ہلاک ہوئے اور سب سے زیادہ ہلاکتیں شورش زدہ ملک شام میں ہوئیں۔
عالمی تنظیم نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ صحافیوں کی ہلاکتوں کے حوالے سے شام سرِفہرست رہا جبکہ صومالیہ دوسرے اور پاکستان تیسرے نمبر پر رہا۔کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صومالیہ میں رواں سال 12صحافی جبکہ پاکستان میں7 صحافی ہلاک ہوئے،کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پچھلی2دہائیوں میں دنیا بھر میں962 صحافی ہلاک ہوئے،20سال میں صحافیوں کی ہلاکت کے حوالے سے بدترین ملک عراق رہا ہے جہاں151صحافی ہلاک ہوئے۔ اس فہرست میں صومالیہ اور پاکستان میں48 صحافی ہلاک ہوئے، یہ67 صحافی وہ ہیں جو اپنی ذمے داریاں نبھاتے ہوئے ہلاک ہوئے۔
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی رپورٹ کے مطابق20 سال میں48 صحافی اپنی ذمے داریاں نبھاتے ہوئے ہلاک ہوئے جبکہ15 صحافی ایسے ہیں جن کی ہلاکت کے محرکات کے بارے میں معلوم نہیں ہے کہ آیا وہ ڈیوٹی کرتے ہوئے ہلاک ہوئے یا کسی ذاتی دشمنی کا نشانہ بنے۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ پاکستان میں2012 میں7 صحافی جن کی ہلاکت کے محرکات معلوم ہیں ان کے نام یہ ہیں کراچی میں ثاقب خان، پنجگور میں رحمت اللہ عابد، خیرپو رمیں مشتاق خند،خضدار میں عبدالحق بلوچ،کوئٹہ عبدالقادر حاجی زئی، تربت رزاق گل، شبقدر میں مکرم خان عاطف شامل ہیں۔
ان صحافیوں کے علاوہ 3 ایسے افراد بھی20سال میں ہلاک ہوئے جن کا تعلق کسی میڈیا کے دفتر سے تو ہے لیکن وہ صحافی کی کیٹیگری میں نہیں آتے۔ ان میں نجی ٹی وی کا ایک اہلکار، ایک ڈرائیور اور پشاور پریس کلب کا ایک اہلکار شامل ہیں،20 سال میں پاکستان میں ہلاک ہونے والے صحافیوں کے بارے میں مزید تفصیلات دیتے ہوئے اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے صحافیوں میں سے58 فیصد صحافی سیاسی امور پر رپورٹنگ کرتے تھے، 42 فیصد مسلح تصادم کی،21 فیصد کرائم،15فیصد بدعنوانی اور10 فیصد انسانی حقوق کی رپورٹنگ کرتے تھے۔
رپورٹ کے مطابق58 فیصد صحافیوں کا تعلق پرنٹ میڈیا سے تھا جبکہ ٹی وی سے وابستہ46 فیصد اور انٹرنیٹ سے8فیصد اور ریڈیو سے 2 فیصد،کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں ہلاک ہونے والے40 فیصد صحافی اخبارات کے رپورٹر تھے،35 فیصد براڈکاسٹ رپورٹر جبکہ 15فیصد فوٹوگرافر تھے۔