کشن گنگاڈیم پر80فیصد کام مکمل پاکستانی ٹیم برطانیہ پہنچ گئی

ثالثی عدالت نے کیس کی سماعت اگست میں مکمل کرلی تھی، فیصلے کااعلان اگلے ماہ متوقع۔

ثالثی عدالت نے کیس کی سماعت اگست میں مکمل کرلی تھی، فیصلے کااعلان اگلے ماہ متوقع. فوٹو: اے ایف پی

بھارت نے عالمی ثالثی عدالت کے احکامات کی پروانہ کرتے ہوئے کشن گنگا ڈیم کی تعمیرجاری رکھی اور 80فیصد کام مکمل کرلیا۔

ادھر پاکستانی ٹیم برطانوی وکلا سے مشورے کے لیے لندن پہنچ گئی، پاکستانی ٹیم وزیراعظم کے مشیر برائے آبی وسائل کمال مجید اللہ کی سربراہی میں ٹیم برطانوی وکلا سے (کل)جمعے کو مشاورت کرے گی۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عالمی ثالثی عدالت نے ستمبر2011ء کودیے گئے فیصلے میں بھارت کواس بات کا پابند بنایا تھا کہ وہ کشن گنگاڈیم پرتعمیراتی کام روک دے۔14اکتوبر2012ء کوعالمی ثالثی عدالت کے نمائندوں نے اس علاقے کادورہ بھی کیاتاہم عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کے باوجودبھارت نے منصوبے پرکام جاری رکھا۔




معاملے کی سماعت کے دوران عالمی بینک کی ثالثی عدالت نے بھارت کو متنازع بجلی گھرکشن گنگا کوگرین سگنل بھی دیاجس پرخدشات کے پیش نظرپاکستانی ٹیم وکلا سے مشورے کے لیے لندن پہنچ گئی۔ کمال مجید اللہ ،آصف بیگ مرزا، شمائلہ محمود اورانجینئر مہرعلی شاہ پرمشتمل ٹیم کشن گنگا بجلی گھرکیس میں پاکستان کے وکلا جیمزکرافورڈ، سمپسن وڈ ورتھ اور وان لو سے مشاورت کرے گی۔

اسٹیفن شوابیل کی سربراہی میں قائم ثالثی عدالت کی طرف سے معاہدہ سندھ طاس کے قانونی نکات پرمشتمل پاکستانی اعتراضات کومستردکردیا گیا تو پاکستان برطانوی وکلا سے مشورے کے بعد اگلے مرحلے میں بجلی گھرکے ڈیزائن پرفنی اعتراضات کوغیرجانبدار ماہر کی عدالت میں لے جانے پرغور کرے گا۔

مقبوضہ کشمیر میں 350 میگاواٹ کے کشن گنگا منصوبے پر دونوں ملکوں کے درمیان 18 سال سے تنازع چل رہا ہے اورعالمی بینک کی ثالثی عدالت نے کیس کی سماعت اس سال اگست میں مکمل کرلی تھی جبکہ فیصلے کا اعلان اگلے ماہ متوقع ہے۔ پاکستان نے ثالثی عدالت میں دریائے جہلم کے معاون دریا کشن گنگا کا رخ موڑکربجلی گھر کی تعمیر کرنے کوچیلنج کیا تھا اور عدالت نے کیس کے فیصلے تک اس کی تعمیر پرحکم امتناع جاری کر رکھا ہے۔ اس ڈیم کی تعمیرکے بعد دریائے نیلم کا 20سے 30فیصد پانی کم ہوجائے گا جس کی وجہ سے ملکی زراعت اورپاکستانی توانائی کے منصوبے نیلم وجہلم پراجیکٹ پر منفی اثرات مرتب ہونگے۔
Load Next Story