پی ایس ایل کمپنی فیصلے پر ارکان قومی اسمبلی بھی انگلیاں اٹھانے لگے

سیاسی اثرورسوخ رکھنے والے افراد ہی اپنی جیبیں بھرا کریں گے،اقبال محمد علی

نجکاری پاکستان کرکٹ کیلیے خودکشی کے مترادف ہوگی،وزیراعظم کو خط فوٹو: فائل

پی ایس ایل کو کمپنی بنانے کے فیصلے پر ارکان قومی اسمبلی بھی انگلیاں اٹھانے لگے، اقبال محمد علی نے وزیر اعظم کو خط میں تحفظات کا اظہار کردیا،انھوں نے کہا کہ سیاسی اثرورسوخ رکھنے والے افراد اپنی جیبیں بھریں گے،لاہور میں عشائیہ پر4 کروڑ روپے خرچ کیے جانے کی تحقیقات بھی کرائی جائیں۔


تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم کے نام خط میں اقبال محمد علی نے لکھاکہ قائمہ کمیٹی برائے اسپورٹس کا4سال تک چیئرمین رہنے کے ناطے کرکٹ معاملات پر گہری نظر ہے، بھارت اور بنگلہ دیش سمیت دنیا میں کہیں بھی ملکی ٹوئنٹی 20 لیگ کو بورڈ سے الگ نہیں کیا گیا،اس فیصلے سے پاکستان کرکٹ کو نہیں بلکہ چند افراد کو فائدہ پہنچے گا، ملک میں بین لاقوامی مقابلے نہیں ہورہے، ڈومیسٹک کرکٹ میں فنڈز کی کمی ہے، مسائل کے سبب کوکا بورا گیند تک نہیں منگوائی گئی،آئی سی سی سے مدد بھی مانگی جارہی ہے، پی ایس ایل کی علیحدگی مالی نقصان کا باعث بنتے ہوئے معاملات مزید خراب کردے گی، پی ایس ایل کے اختیارات چیئرمین پی سی بی کے پاس ہونا چاہیں تاکہ وسائل کو ڈومیسٹک کرکٹ کی بہتری کیلیے استعمال کرسکیں۔

اقبال محمد علی نے کہاکہ دیگر ملکوں میں کرکٹ لیگز سے بورڈ پیسہ بنا رہا ہے، پی ایس ایل کو کمپنی بنا دیا تو سیاسی اثرورسوخ رکھنے والے افراد بھاری تنخواہوں سے اپنی جیبیں بھریں گے اور پی سی بی محروم رہے گا۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ کیا پی ایس ایل کی بورڈ سے علیحدگی کی وجہ پہلے تجربے کی ناکامی ہے، پہلے ایڈیشن میں ہدف حاصل نہیں ہوا تو کیا ذمہ داروں کا تعین کیا گیا؟ یہ بھی بتایا جائے کہ پی ایس ایل کے لاہور عشائیہ کیلیے 4 کروڑ روپے کیسے خرچ ہوئے جبکہ ڈرافٹ بھی دبئی میں ہوئے تھے، نجکاری پاکستان کرکٹ کیلیے خودکشی کے مترادف ہوگی،وزیر اعظم بطور پیٹرن پی سی بی معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے منصوبہ رکوانے کیلیے مداخلت کریں۔
Load Next Story