وفاق نے بلاول کو خصوصی سیکیورٹی دینے کی مخالفت کردی
فوجی جوان سرحدوں پر جانیں دے رہے ہیں،بلاول سیکیورٹی مانگ رہے ہیں، وفاق کاموقف
ایڈیشنل اٹارنی جنرل سلمان طالب الدین نے عدالت کو بتایا کہ سیکیورٹی کی فراہمی کامعاملہ صوبائی حکومت کاہے۔ فوٹو؛ فائل
وفاق نے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو خصوصی سیکیورٹی فراہم کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرحدوں پر فوجی جوان قربانیاں دے رہے ہیں اوریہاں خصوصی سیکیورٹی مانگی جارہی ہے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل سلمان طالب الدین نے یہ بات جمعرات کوبلاول بھٹوکوسیکیورٹی کی فراہمی سے متعلق درخواست کی سماعت کے موقع پرکہی۔چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ سجاد علی شاہ کی سر براہی میں 2رکنی بینچ بلاول بھٹوزرداری کی آئینی درخواست کی سماعت کی، وفاق کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے زبانی مخالفت کی تاہم تحریری کمنٹس داخل نہیںکیے گئے۔بلاول بھٹو کے وکیل اخترحسین نے عدالت سے سیاسی جماعتوں کے سربراہوں یادیگرکوسیکیورٹی کی فراہمی کے حوالے سے پالیسی پرمناسب معاونت کیلیے مہلت طلب کی۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل سلمان طالب الدین نے عدالت کو بتایا کہ سیکیورٹی کی فراہمی کامعاملہ صوبائی حکومت کاہے، وفاق کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں،اس لیے وفاق کو فریق بنانا اور جواب طلب کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ انھوں نے کہا کہ کیا ان فوجیوں کے گھروں کو سیکیورٹی دی جاسکتی ہے جو سرحدوں پر جانیں قربان کررہے ہیں تاہم تحریری جواب داخل کرنے کے لیے مہلت دی جائے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل سلمان طالب الدین نے یہ بات جمعرات کوبلاول بھٹوکوسیکیورٹی کی فراہمی سے متعلق درخواست کی سماعت کے موقع پرکہی۔چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ سجاد علی شاہ کی سر براہی میں 2رکنی بینچ بلاول بھٹوزرداری کی آئینی درخواست کی سماعت کی، وفاق کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے زبانی مخالفت کی تاہم تحریری کمنٹس داخل نہیںکیے گئے۔بلاول بھٹو کے وکیل اخترحسین نے عدالت سے سیاسی جماعتوں کے سربراہوں یادیگرکوسیکیورٹی کی فراہمی کے حوالے سے پالیسی پرمناسب معاونت کیلیے مہلت طلب کی۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل سلمان طالب الدین نے عدالت کو بتایا کہ سیکیورٹی کی فراہمی کامعاملہ صوبائی حکومت کاہے، وفاق کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں،اس لیے وفاق کو فریق بنانا اور جواب طلب کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ انھوں نے کہا کہ کیا ان فوجیوں کے گھروں کو سیکیورٹی دی جاسکتی ہے جو سرحدوں پر جانیں قربان کررہے ہیں تاہم تحریری جواب داخل کرنے کے لیے مہلت دی جائے۔