بھارتی قلعہ فتح کرنے کیلئے پاکستانی تیاریاں مکمل
آفریدی کی فارم میں واپسی خوش آئند ہے،انضمام کےمفیدمشوروں سےکھلاڑی دبائومیں بہترکھیلنےکیلیےذہنی طور پر تیار ہوگئے، حفیظ
لاہور: قذافی اسٹیڈیم میں ٹوئنٹی 20 پریکٹس میچ کے دوران پاکستانی بیٹسمین عمر اکمل زور دار شاٹ کھیلنے کیلیے تیار، عقب میں موجود وکٹ کیپر کامران گیند کے منتظر۔ فوٹو: محمود قریشی/ایکسپریس
KARACHI:
بھارتی قلعہ فتح کرنے کیلیے پاکستانی تیاریاں مکمل ہو گئیں، گذشتہ روز ٹوئنٹی20 پریکٹس میچ میں بلوز نے گرین کو5 وکٹ سے شکست دیدی۔
کامران اکمل کی نصف سنچری جبکہ ذوالفقار بابر اور عدنان رسول کی3، 3 وکٹوں نے فتح میں اہم کردار ادا کیا۔ دریں اثنا قومی ٹی20 کپتان محمد حفیظ کا کہنا ہے کہ پاک بھارت سیریز میں کوئی فیورٹ نہیں،دونوں ٹیمیں متوازن اور ایشیائی کنڈیشنز میں کھیلنے کا وسیع تجربہ رکھتی ہیں، مقابلے کانٹے دار ہوں گے، سینئرز جونیئرز کو پیش نظر رکھنے کے بجائے ضرورت کے مطابق کمبی نیشن تشکیل دینگے، پیس بیٹری کی بہتر پرفارمنس اسپنرز کو حریف پر حاوی ہونے کا موقع فراہم کریگی۔
آفریدی کی فارم میں واپسی خوش آئند ہے،ان کے اعتماد کی بحالی سے گرین شرٹس کی کارکردگی میں بہتری آئیگی، انضمام کے مفید مشوروں سے کھلاڑی دبائو میں بہتر کھیلنے کیلیے ذہنی طور پر تیار ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق دورئہ بھارت کیلیے قومی کرکٹ ٹیم کی تیاریاں مکمل ہو گئیں، گذشتہ روز آخری پریکٹس میچ کھیلا گیا، اسکواڈ ہفتے کو براستہ نئی دہلی، بنگلور پہنچے گا جہاں منگل کو پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلا جائیگا۔گزشتہ روز قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ٹی ٹوئنٹی میچ میں پاکستان گرین نے9 وکٹ پر135 رنز بنائے، ناصر جمشید 7 جبکہ احمد شہزاد اورکپتان محمد حفیظ 6،6 رنز بنا سکے، مشکل حالات میں عمر اکمل نے 33 رنز کی اننگز کھیل کر ٹیم کو سہارا دیا، آفریدی 28 رنز کیساتھ دوسرے نمایاں اسکورر رہے۔
شعیب ملک اور سعید اجمل نے 14، 14 رنز بنائے، سہیل تنویر 9، اسد علی اور محمد عرفان 1،1 رن تک محدود رہے، عدنان اکمل نے13رنز ناٹ آئوٹ بنائے،ذوالفقار بابر اور شفقت رسول 3،3، عمر گل 2 جبکہ جنید خان ایک کھلاڑی کو پویلین بھیجنے میں کامیاب رہے، انور علی کوئی وکٹ حاصل نہ کر سکے، پاکستان بلوز نے ہدف 18.4 اوورز میں حاصل کر لیا، کامران اکمل نے 10 چوکوں کی مدد سے 33 گیندوں پر 50 رنز اسکور کیے، عمران فرحت نے 24 رنز بنائے، اظہر علی 17اور عمر امین 18رنز تک محدود رہے، انور علی 13 پر ناٹ آئوٹ رہے، بابر اعظم 4 رنز پر ریٹائر ہرٹ ہوئے، شعیب ملک نے2 جبکہ سہیل تنویر اور اسد علی نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی، سعید اجمل، شاہد آفریدی اور محمد عرفان کوئی شکار نہ کرسکے۔
دریں اثنا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹی ٹوئنٹی کپتان محمد حفیظ نے کہا کہ انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں بہتر پرفارم نہ کرنے کے باوجود بھارت کو کمزور حریف خیال نہیں کیا جا سکتا، میزبان ٹیم کو ناکامی 5 روزہ مقابلوں میں ہوئی جبکہ وہ پاکستان کیخلاف محدود اوورز کے میچز کھیلنے کیلیے میدان میں اتریگی،دونوں روایتی حریفوں کو بہترین کھلاڑیوں کی خدمات حاصل ، اسکواڈز متوازن جبکہ ایشیائی کنڈیشنز اور پچز پر کھیلنے کا وسیع تجربہ بھی رکھتی ہیں، عمدہ پرفارمنس کیلیے عوامی توقعات اور دبائو بھی دونوں کیلیے یکساں ہوگا، اس صورتحال میں کسی کو بھی فیورٹ نہیں دیا جا سکتا، مقابلے کانٹے دار اور ملنے والے مواقعوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے والی ٹیم ہی سرخرو ہوگی۔
نئے کھلاڑیوں کو مواقع دینے کے سوال پر قومی ٹوئنٹی20 ٹیم کے کپتان نے کہا کہ اسکواڈ منتخب کرتے ہوئے دورے کی ضروریات کو پیش نظر رکھا گیا، نیا پرانا، جونیئر سینئر نہیں بلکہ کنڈیشنز اور پچ کو دیکھتے ہوئے پلیئنگ الیون کا انتخاب کرینگے، چار اوپنرز دستیاب ہونے کے باوجود بیٹنگ آرڈر بھی مینجمنٹ کے ساتھ باہمی مشاورت سے بنایا جائے گا،خود بھی ٹیم کیلیے کسی بھی نمبر پر کھیلنے کو تیار ہوں، انھوں نے کہا کہ آفریدی کی فارم میں واپسی خوش آئند ہے، اہم مقابلوں سے قبل تجربہ کار آل رائونڈر کے اعتماد کی بحالی ٹیم کیلیے مفید رہے گی، میری نیک خواہشات ان کے ساتھ ہیں کہ وہ عمدہ پرفارم کرنے میں کامیاب ہوں۔
محمد حفیظ نے کہا کہ دورئہ بھارت میں پیس بیٹری کی کارکردگی اہم ہوگی، ماضی میں کئی بار ہمارے پیسرز نے حریف بیٹنگ کو اڑاتے ہوئے فتوحات کی راہ ہموار کی،اس بار بھی طاقت کا بھرپور استعمال کرنے کا منصوبہ ہے، عمر گل اور جنید خان کے ساتھ نئے بولرز بھی میسر ہیں، میزبان ٹیم کو پریشان کرنے میں کامیاب ہوگئے تو اسپنرز کیلیے حریف کو دبائو میں لا نا آسان ہوگا، کپتان نے کہا کہ سعید اجمل نے اپنی عمدہ پرفارمنس سے کئی بار جیت میں اہم کردار ادا کیا، اب بھی وہ ہمارے اہم بولر ہیں مگر کسی ایک کھلاڑی پر تمام تر بوجھ ڈالنا درست نہیں، مثبت نتائج کیلیے ٹیم کے ہر پلیئر کو ذمہ دارانہ کھیل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ انضام الحق کی کیمپ میں موجودگی کھلاڑیوں کیلیے خاصی حاصلہ افزا رہی، وسیع تجربہ رکھنے والے سابق کپتان نے بھارت کیخلاف دبائو سے بھرپور مقابلوں میں حواس بحال رکھتے ہوئے عمدہ پرفارم کرنے کیلیے مفید مشورے دیے، ان سے بڑا فائدہ حاصل ہوگا، انضمام نے ہر کھلاڑی پر انفرادی توجہ دیتے ہوئے کارکردگی بہتر بنانے کیلیے ٹپس دیں، انھوں نے خامیاں دور کرنے کیلیے خصوصی ڈرلز بھی کرائیں، اس حوصلہ افزائی کے بعد پلیئرز روایتی حریف کا سامنا کرنے کیلیے ذہنی طور پر تیار اور پُراعتماد نظر آرہے ہیں۔
بھارتی قلعہ فتح کرنے کیلیے پاکستانی تیاریاں مکمل ہو گئیں، گذشتہ روز ٹوئنٹی20 پریکٹس میچ میں بلوز نے گرین کو5 وکٹ سے شکست دیدی۔
کامران اکمل کی نصف سنچری جبکہ ذوالفقار بابر اور عدنان رسول کی3، 3 وکٹوں نے فتح میں اہم کردار ادا کیا۔ دریں اثنا قومی ٹی20 کپتان محمد حفیظ کا کہنا ہے کہ پاک بھارت سیریز میں کوئی فیورٹ نہیں،دونوں ٹیمیں متوازن اور ایشیائی کنڈیشنز میں کھیلنے کا وسیع تجربہ رکھتی ہیں، مقابلے کانٹے دار ہوں گے، سینئرز جونیئرز کو پیش نظر رکھنے کے بجائے ضرورت کے مطابق کمبی نیشن تشکیل دینگے، پیس بیٹری کی بہتر پرفارمنس اسپنرز کو حریف پر حاوی ہونے کا موقع فراہم کریگی۔
آفریدی کی فارم میں واپسی خوش آئند ہے،ان کے اعتماد کی بحالی سے گرین شرٹس کی کارکردگی میں بہتری آئیگی، انضمام کے مفید مشوروں سے کھلاڑی دبائو میں بہتر کھیلنے کیلیے ذہنی طور پر تیار ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق دورئہ بھارت کیلیے قومی کرکٹ ٹیم کی تیاریاں مکمل ہو گئیں، گذشتہ روز آخری پریکٹس میچ کھیلا گیا، اسکواڈ ہفتے کو براستہ نئی دہلی، بنگلور پہنچے گا جہاں منگل کو پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلا جائیگا۔گزشتہ روز قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ٹی ٹوئنٹی میچ میں پاکستان گرین نے9 وکٹ پر135 رنز بنائے، ناصر جمشید 7 جبکہ احمد شہزاد اورکپتان محمد حفیظ 6،6 رنز بنا سکے، مشکل حالات میں عمر اکمل نے 33 رنز کی اننگز کھیل کر ٹیم کو سہارا دیا، آفریدی 28 رنز کیساتھ دوسرے نمایاں اسکورر رہے۔
شعیب ملک اور سعید اجمل نے 14، 14 رنز بنائے، سہیل تنویر 9، اسد علی اور محمد عرفان 1،1 رن تک محدود رہے، عدنان اکمل نے13رنز ناٹ آئوٹ بنائے،ذوالفقار بابر اور شفقت رسول 3،3، عمر گل 2 جبکہ جنید خان ایک کھلاڑی کو پویلین بھیجنے میں کامیاب رہے، انور علی کوئی وکٹ حاصل نہ کر سکے، پاکستان بلوز نے ہدف 18.4 اوورز میں حاصل کر لیا، کامران اکمل نے 10 چوکوں کی مدد سے 33 گیندوں پر 50 رنز اسکور کیے، عمران فرحت نے 24 رنز بنائے، اظہر علی 17اور عمر امین 18رنز تک محدود رہے، انور علی 13 پر ناٹ آئوٹ رہے، بابر اعظم 4 رنز پر ریٹائر ہرٹ ہوئے، شعیب ملک نے2 جبکہ سہیل تنویر اور اسد علی نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی، سعید اجمل، شاہد آفریدی اور محمد عرفان کوئی شکار نہ کرسکے۔
دریں اثنا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹی ٹوئنٹی کپتان محمد حفیظ نے کہا کہ انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں بہتر پرفارم نہ کرنے کے باوجود بھارت کو کمزور حریف خیال نہیں کیا جا سکتا، میزبان ٹیم کو ناکامی 5 روزہ مقابلوں میں ہوئی جبکہ وہ پاکستان کیخلاف محدود اوورز کے میچز کھیلنے کیلیے میدان میں اتریگی،دونوں روایتی حریفوں کو بہترین کھلاڑیوں کی خدمات حاصل ، اسکواڈز متوازن جبکہ ایشیائی کنڈیشنز اور پچز پر کھیلنے کا وسیع تجربہ بھی رکھتی ہیں، عمدہ پرفارمنس کیلیے عوامی توقعات اور دبائو بھی دونوں کیلیے یکساں ہوگا، اس صورتحال میں کسی کو بھی فیورٹ نہیں دیا جا سکتا، مقابلے کانٹے دار اور ملنے والے مواقعوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے والی ٹیم ہی سرخرو ہوگی۔
نئے کھلاڑیوں کو مواقع دینے کے سوال پر قومی ٹوئنٹی20 ٹیم کے کپتان نے کہا کہ اسکواڈ منتخب کرتے ہوئے دورے کی ضروریات کو پیش نظر رکھا گیا، نیا پرانا، جونیئر سینئر نہیں بلکہ کنڈیشنز اور پچ کو دیکھتے ہوئے پلیئنگ الیون کا انتخاب کرینگے، چار اوپنرز دستیاب ہونے کے باوجود بیٹنگ آرڈر بھی مینجمنٹ کے ساتھ باہمی مشاورت سے بنایا جائے گا،خود بھی ٹیم کیلیے کسی بھی نمبر پر کھیلنے کو تیار ہوں، انھوں نے کہا کہ آفریدی کی فارم میں واپسی خوش آئند ہے، اہم مقابلوں سے قبل تجربہ کار آل رائونڈر کے اعتماد کی بحالی ٹیم کیلیے مفید رہے گی، میری نیک خواہشات ان کے ساتھ ہیں کہ وہ عمدہ پرفارم کرنے میں کامیاب ہوں۔
محمد حفیظ نے کہا کہ دورئہ بھارت میں پیس بیٹری کی کارکردگی اہم ہوگی، ماضی میں کئی بار ہمارے پیسرز نے حریف بیٹنگ کو اڑاتے ہوئے فتوحات کی راہ ہموار کی،اس بار بھی طاقت کا بھرپور استعمال کرنے کا منصوبہ ہے، عمر گل اور جنید خان کے ساتھ نئے بولرز بھی میسر ہیں، میزبان ٹیم کو پریشان کرنے میں کامیاب ہوگئے تو اسپنرز کیلیے حریف کو دبائو میں لا نا آسان ہوگا، کپتان نے کہا کہ سعید اجمل نے اپنی عمدہ پرفارمنس سے کئی بار جیت میں اہم کردار ادا کیا، اب بھی وہ ہمارے اہم بولر ہیں مگر کسی ایک کھلاڑی پر تمام تر بوجھ ڈالنا درست نہیں، مثبت نتائج کیلیے ٹیم کے ہر پلیئر کو ذمہ دارانہ کھیل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ انضام الحق کی کیمپ میں موجودگی کھلاڑیوں کیلیے خاصی حاصلہ افزا رہی، وسیع تجربہ رکھنے والے سابق کپتان نے بھارت کیخلاف دبائو سے بھرپور مقابلوں میں حواس بحال رکھتے ہوئے عمدہ پرفارم کرنے کیلیے مفید مشورے دیے، ان سے بڑا فائدہ حاصل ہوگا، انضمام نے ہر کھلاڑی پر انفرادی توجہ دیتے ہوئے کارکردگی بہتر بنانے کیلیے ٹپس دیں، انھوں نے خامیاں دور کرنے کیلیے خصوصی ڈرلز بھی کرائیں، اس حوصلہ افزائی کے بعد پلیئرز روایتی حریف کا سامنا کرنے کیلیے ذہنی طور پر تیار اور پُراعتماد نظر آرہے ہیں۔