مذہب کی جبری تبدیلی اور شادی پر 7 سال قید
بل کے مطابق فوجداری قانون کے تحت زبردستی مذہب تبدیل کرا کر شادی کرنا جرم تصور کیا جائے گا
اسلام میں جبری مذہب کی تبدیلی کا کوئی تصور نہیں ہے۔ فوٹو؛ فائل
ISLAMABAD:
اندرون سندھ سے اقلیتی حلقوں کی جانب سے ان تحفظات کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ بااثر افراد کی جانب سے اقلیتی برادری کی لڑکیوں کو جبری مذہب تبدیل کر کے شادی پر مجبور کیا جا رہا ہے، اس سلسلے میں خبر آئی ہے کہ سندھ اسمبلی نے جمعرات کو اقلیتوں کے قانونی حقوق کے تحفظ سے متعلق کرمنل لا پروٹیکشن آف منارٹی بل 2015کی منظوری دے دی ہے۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان نہ صرف مسلمانوں بلکہ اقلیتی باشندوں کے حقوق کو بھی مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے، جس قدر آزادی اقلیتوں کو پاکستان میں حاصل ہے اتنی کسی اور ملک میں نہیں ہے، اس لیے اقلیتی برادری کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے مذکورہ بل کی سندھ اسمبلی سے منظوری کو خوش آیند قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس بل کے بعد ان شکایات کا ازالہ کرنے میں آسانی رہے گی جو اقلیتی برادری کی جانب سے سامنے لائی جاتی رہی ہیں۔ واضح رہے یہ بل اقلیتی اراکین کی جانب سے اسٹینڈنگ کمیٹی کو بھیجا گیا تھا جسے جمعرات کو ایوان میں پیش کیا گیا اور متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔
بل کے مطابق فوجداری قانون کے تحت زبردستی مذہب تبدیل کرا کر شادی کرنا جرم تصور کیا جائے گا اور اس میں ملوث شخص کو 7 سال قید اور سہولت کار کو 3 سے 5 سال سزا ہو گی۔ بل کے مطابق 18 برس سے کم عمر لڑکے اور لڑکی کے مذہب تبدیل کرنے پر پابندی ہو گی، بالغ شخص کو مذہب تبدیل کرنے سے قبل 21 دن تک سیف ہاؤس میں رکھا جائے گا، 21 دن کے دوران سیف ہاؤس میں مذاہب سے متعلق مواد فراہم کیا جائے گا، اس طرح متعلقہ شخص کو چند روز سوچنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ اسلام ایک آفاقی مذہب ہے جس کے پیروکار نہ صرف دنیا بھر میں موجود ہیں بلکہ دیگر مذاہب کے ماننے والے بھی اسلامی تعلیمات کی سچائی اور حقانیت سے متاثر ہو کر تیزی سے حلقۂ اسلام میں شامل ہو رہے ہیں۔
اسلام میں جبری مذہب کی تبدیلی کا کوئی تصور نہیں ہے۔ اس لیے یہ بل ان شرپسند عناصر پر بھی پابندی لگا سکے گا جو اپنے ذاتی مفادات اور مقاصد کی خاطر مذہب اسلام کو استعمال کرنے اور بدنام کرنے سے بھی باز نہیں آتے۔ سندھ کی موجودہ حکومت لائق تحسین ہے اس نے اقلیتوں سے متعلق ایک پرائیویٹ منظور کرانے کا کارنامہ سرانجام دیا جس سے نہ صرف اقلیتی برادری کے حقوق کا تحفظ ممکن ہے بلکہ بہت سے ابہام دور کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
اندرون سندھ سے اقلیتی حلقوں کی جانب سے ان تحفظات کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ بااثر افراد کی جانب سے اقلیتی برادری کی لڑکیوں کو جبری مذہب تبدیل کر کے شادی پر مجبور کیا جا رہا ہے، اس سلسلے میں خبر آئی ہے کہ سندھ اسمبلی نے جمعرات کو اقلیتوں کے قانونی حقوق کے تحفظ سے متعلق کرمنل لا پروٹیکشن آف منارٹی بل 2015کی منظوری دے دی ہے۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان نہ صرف مسلمانوں بلکہ اقلیتی باشندوں کے حقوق کو بھی مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے، جس قدر آزادی اقلیتوں کو پاکستان میں حاصل ہے اتنی کسی اور ملک میں نہیں ہے، اس لیے اقلیتی برادری کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے مذکورہ بل کی سندھ اسمبلی سے منظوری کو خوش آیند قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس بل کے بعد ان شکایات کا ازالہ کرنے میں آسانی رہے گی جو اقلیتی برادری کی جانب سے سامنے لائی جاتی رہی ہیں۔ واضح رہے یہ بل اقلیتی اراکین کی جانب سے اسٹینڈنگ کمیٹی کو بھیجا گیا تھا جسے جمعرات کو ایوان میں پیش کیا گیا اور متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔
بل کے مطابق فوجداری قانون کے تحت زبردستی مذہب تبدیل کرا کر شادی کرنا جرم تصور کیا جائے گا اور اس میں ملوث شخص کو 7 سال قید اور سہولت کار کو 3 سے 5 سال سزا ہو گی۔ بل کے مطابق 18 برس سے کم عمر لڑکے اور لڑکی کے مذہب تبدیل کرنے پر پابندی ہو گی، بالغ شخص کو مذہب تبدیل کرنے سے قبل 21 دن تک سیف ہاؤس میں رکھا جائے گا، 21 دن کے دوران سیف ہاؤس میں مذاہب سے متعلق مواد فراہم کیا جائے گا، اس طرح متعلقہ شخص کو چند روز سوچنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ اسلام ایک آفاقی مذہب ہے جس کے پیروکار نہ صرف دنیا بھر میں موجود ہیں بلکہ دیگر مذاہب کے ماننے والے بھی اسلامی تعلیمات کی سچائی اور حقانیت سے متاثر ہو کر تیزی سے حلقۂ اسلام میں شامل ہو رہے ہیں۔
اسلام میں جبری مذہب کی تبدیلی کا کوئی تصور نہیں ہے۔ اس لیے یہ بل ان شرپسند عناصر پر بھی پابندی لگا سکے گا جو اپنے ذاتی مفادات اور مقاصد کی خاطر مذہب اسلام کو استعمال کرنے اور بدنام کرنے سے بھی باز نہیں آتے۔ سندھ کی موجودہ حکومت لائق تحسین ہے اس نے اقلیتوں سے متعلق ایک پرائیویٹ منظور کرانے کا کارنامہ سرانجام دیا جس سے نہ صرف اقلیتی برادری کے حقوق کا تحفظ ممکن ہے بلکہ بہت سے ابہام دور کرنے میں بھی مدد ملے گی۔