ناظم آباد پُل کا انہدام ٹریفک جام کا نیا عذاب کل سے شروع ہوگا
ناظم آباد7نمبرکاپل کل سے منہدم کیا جائیگا ،متبادل راستہ تنگ ہونے سے ٹریفک جام کاخدشہ ہے
گرین لائن بس منصوبے کے تعمیراتی کام میں حائل ناظم آباد 7نمبر پل کو کل منہدم کرنے کا کام شروع کیا جائے گا۔ فوٹو: ایکسپریس
ٹریفک جام شہریوں کا مقدر بن گیا،حکومت کی ناقص منصوبہ بندی سے شہر میں ہونے والی اہم تقریبات اور ترقیاتی کام شہریوں کیلیے اذیت کاباعث بن جاتے ہیں ،شہری گھنٹوں ٹریفک جام میں پھنسے رہتے ہیں،وفاقی حکومت کے زیر انتظام بس ریپیڈ ٹرانزٹ گرین منصوبے کی تعمیرات کیلیے اتوارکوناظم آباد 7نمبر کا برسوں پرانا فلائی اوور منہدم کیا جائیگا جس سے اس مقام پر شدید ترین ٹریفک جام رہنے کا خدشہ ہے، جمعہ کو دفاعی نمائش کے دوران ایکسپو سینٹر کے اطراف کے علاقوں میں بدترین ٹریفک جام رہا۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کے زیر تعمیر منصوبہ بس ریپیڈ ٹرانزٹ گرین لائن کی گذرگاہ میں آنے والے ناظم آباد 7نمبر کے پل کی انہدامی کارروائی اتوار کی رات سے شروع ہوجائیگی،واضح رہے کہ مذکورہ پل کا ایک حصہ 1960میں اور دوسرا حصہ 1996میں کراچی سرکلر ریلوے کی گذرگاہ کے اوپر نارتھ ناظم آباد اور نارتھ کراچی جانے والی ٹریفک کیلیے تعمیر کیا گیا تھا،اب اس مقام پر وفاقی حکومت کا ادارہ کراچی انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ کمپنی بس ریپیڈ ٹرانزٹ گرین لائن کیلیے تعمیرات کررہا ہے۔
یہ منصوبہ سرجانی ٹاؤن تا ٹاور تعمیر کیا جارہا ہے جو 2018ء تک مکمل ہوگا، ذرائع نے بتایا کہ متعلقہ ادارہ اتوار کی رات سے حیدری تا ناظم آباد جانے والا پل کے حصے کی انہدامی کارروائی کا آغاز کریگا جبکہ اگلے ماہ ناظم آباد تا حیدری جانے والے ٹریک کو منہدم کیا جائے گا، متعلقہ اداروں نے ٹریفک کے لیے متبادل راستہ تعمیر کردیا ہے اور کراچی سرکلر ریلوے کے دونوں اطراف پر سڑک کی تعمیر کردی گئی ہے تاہم دونوں جانب راستہ تنگ ہونے کے باعث شدید ترین ٹریفک جام کا اندیشہ ہے ۔
پل کے انہدام کے دوران دھول مٹی سے بھی شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہوگا اور ٹریفک جام شہریوں کیلیے صبرآزما امتحان ہوگا کیونکہ مصروف اوقات میں یہاں سے ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد، نارتھ کراچی ، نیوکراچی اور سرجانی ٹاؤن کی آمد ورفت کیلیے ہزاروں گاڑیاں روزانہ گذرتی ہیں، ذرائع نے بتایا کہ ناظم آباد 7نمبر پر ٹریفک جام ہونے سے اطراف کی سڑکوں عباسی شہید اسپتال ، ناظم آباد بورڈ آفس چورنگی اور دیگر سڑکوں پر ٹریفک جام ویسے ہی روز کا معمول ہے، ٹریفک پولیس کے اہلکار عام دنوں میں بھی عموماً غائب رہتے ہیں۔
پل کے انہدام کے بعد ٹریفک جام میں مزید اضافہ ہوگا، شہریوں بالخصوص عباسی اسپتال جانے والے مریضوں اور اطراف میں قائم اسکولوں کے طلبہ وطالبات کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا، ذرائع نے کہا کہ پل کے انہدام سے کراچی سرکلر ریلوے کے احیاء کا منصوبہ بھی متاثر ہوسکتا ہے، صوبائی محکمہ ٹرانسپورٹ کے متعلقہ افسران نے بتایا کہ گرین بس منصوبہ سے کراچی سرکلر ریلوے کے احیاء کا منصوبہ متاثر نہیں ہوگا ، جاپان کے ادارہ جائیکا جس نے کراچی سرکلر ریلوے کے احیاء کا منصوبہ بنایا ہے نے اپنی سفارشات میں ناظم آباد 7نمبر پر ایلیوویٹیڈ(بالائی گذرگاہ) کی سفارشات پیش کی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کے زیر تعمیر منصوبہ بس ریپیڈ ٹرانزٹ گرین لائن کی گذرگاہ میں آنے والے ناظم آباد 7نمبر کے پل کی انہدامی کارروائی اتوار کی رات سے شروع ہوجائیگی،واضح رہے کہ مذکورہ پل کا ایک حصہ 1960میں اور دوسرا حصہ 1996میں کراچی سرکلر ریلوے کی گذرگاہ کے اوپر نارتھ ناظم آباد اور نارتھ کراچی جانے والی ٹریفک کیلیے تعمیر کیا گیا تھا،اب اس مقام پر وفاقی حکومت کا ادارہ کراچی انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ کمپنی بس ریپیڈ ٹرانزٹ گرین لائن کیلیے تعمیرات کررہا ہے۔
یہ منصوبہ سرجانی ٹاؤن تا ٹاور تعمیر کیا جارہا ہے جو 2018ء تک مکمل ہوگا، ذرائع نے بتایا کہ متعلقہ ادارہ اتوار کی رات سے حیدری تا ناظم آباد جانے والا پل کے حصے کی انہدامی کارروائی کا آغاز کریگا جبکہ اگلے ماہ ناظم آباد تا حیدری جانے والے ٹریک کو منہدم کیا جائے گا، متعلقہ اداروں نے ٹریفک کے لیے متبادل راستہ تعمیر کردیا ہے اور کراچی سرکلر ریلوے کے دونوں اطراف پر سڑک کی تعمیر کردی گئی ہے تاہم دونوں جانب راستہ تنگ ہونے کے باعث شدید ترین ٹریفک جام کا اندیشہ ہے ۔
پل کے انہدام کے دوران دھول مٹی سے بھی شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہوگا اور ٹریفک جام شہریوں کیلیے صبرآزما امتحان ہوگا کیونکہ مصروف اوقات میں یہاں سے ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد، نارتھ کراچی ، نیوکراچی اور سرجانی ٹاؤن کی آمد ورفت کیلیے ہزاروں گاڑیاں روزانہ گذرتی ہیں، ذرائع نے بتایا کہ ناظم آباد 7نمبر پر ٹریفک جام ہونے سے اطراف کی سڑکوں عباسی شہید اسپتال ، ناظم آباد بورڈ آفس چورنگی اور دیگر سڑکوں پر ٹریفک جام ویسے ہی روز کا معمول ہے، ٹریفک پولیس کے اہلکار عام دنوں میں بھی عموماً غائب رہتے ہیں۔
پل کے انہدام کے بعد ٹریفک جام میں مزید اضافہ ہوگا، شہریوں بالخصوص عباسی اسپتال جانے والے مریضوں اور اطراف میں قائم اسکولوں کے طلبہ وطالبات کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا، ذرائع نے کہا کہ پل کے انہدام سے کراچی سرکلر ریلوے کے احیاء کا منصوبہ بھی متاثر ہوسکتا ہے، صوبائی محکمہ ٹرانسپورٹ کے متعلقہ افسران نے بتایا کہ گرین بس منصوبہ سے کراچی سرکلر ریلوے کے احیاء کا منصوبہ متاثر نہیں ہوگا ، جاپان کے ادارہ جائیکا جس نے کراچی سرکلر ریلوے کے احیاء کا منصوبہ بنایا ہے نے اپنی سفارشات میں ناظم آباد 7نمبر پر ایلیوویٹیڈ(بالائی گذرگاہ) کی سفارشات پیش کی ہیں۔