افسردہ اور پریشان رہنے والوں کو دل کی بیماریوں کا خطرہ
پریشان،افسردہ اور اور غم زدہ لوگوں کو دل کی بیماریوں کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے.
دل کی بیماریوں میں اضافے کی بڑی وجہ ڈپریشن اور بے چینی ہے۔ فوٹو: فائل
ماہرین کا کہنا ہے کہ دل کی بیماریوں کا تعلق ذہنی پریشانیوں سے بھی ہوتا ہے ۔امریکی ماہرین کی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ذہنی پریشانیاں اور ڈپریشن سے بلڈ پریشر کے امراض میں اضافہ ہوا ہے۔
اس میں اگرچہ ماحول کا بھی بڑا عمل دخل ہے تاہم زیادہ تر پریشان،افسردہ اور اور غم زدہ لوگوں کو دل کی بیماریوں کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے ۔حالیہ جائزہ رپورٹ میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ جن مریضوں کو اس دوران آسودگی ملی ان کے مرض میں بھی کافی کمی ہوئی اور ایسے افراد کے لیے دل کی بیماریوں کی روک تھام آسان ہوگئی ۔ دنیا بھر میں سب سے زیادہ دل کی بیماریوں کی وجہ ڈپریشن ہے ۔
ماہرین نے کہا ہے کہ دل کی بیماریوں میں اضافے کی بڑی وجہ ڈپریشن اور بے چینی ہے۔ ہیلتھ نیوز رپورٹ کے مطابق دل کی بیماریوں میں اضافے کی بڑی وجہ ڈپریشن اور بے چینی ہے۔ ماہرین نے امریکا سے تعلق رکھنے والے 96.612 ایسے افراد پر تحقیق کی ہے جن کی عمر 25 سے 60 سال کے درمیان ہے۔ تحقیق کے دوران اس بات کی وضاحت ہوئی ہے کہ ان میں سے 60 فیصد افراد کو دل کی امراض بے چینی اور ڈپریشن کی وجہ سے شروع ہوئی ہیں اور 40 فیصد افراد کو ہائی بلڈ پریشر، ہائی کولیسٹرول اور شوگر وغیرہ جیسی بیماریوں کی وجہ سے دل کا مرض لاحق ہوا ہے۔
اس میں اگرچہ ماحول کا بھی بڑا عمل دخل ہے تاہم زیادہ تر پریشان،افسردہ اور اور غم زدہ لوگوں کو دل کی بیماریوں کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے ۔حالیہ جائزہ رپورٹ میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ جن مریضوں کو اس دوران آسودگی ملی ان کے مرض میں بھی کافی کمی ہوئی اور ایسے افراد کے لیے دل کی بیماریوں کی روک تھام آسان ہوگئی ۔ دنیا بھر میں سب سے زیادہ دل کی بیماریوں کی وجہ ڈپریشن ہے ۔
ماہرین نے کہا ہے کہ دل کی بیماریوں میں اضافے کی بڑی وجہ ڈپریشن اور بے چینی ہے۔ ہیلتھ نیوز رپورٹ کے مطابق دل کی بیماریوں میں اضافے کی بڑی وجہ ڈپریشن اور بے چینی ہے۔ ماہرین نے امریکا سے تعلق رکھنے والے 96.612 ایسے افراد پر تحقیق کی ہے جن کی عمر 25 سے 60 سال کے درمیان ہے۔ تحقیق کے دوران اس بات کی وضاحت ہوئی ہے کہ ان میں سے 60 فیصد افراد کو دل کی امراض بے چینی اور ڈپریشن کی وجہ سے شروع ہوئی ہیں اور 40 فیصد افراد کو ہائی بلڈ پریشر، ہائی کولیسٹرول اور شوگر وغیرہ جیسی بیماریوں کی وجہ سے دل کا مرض لاحق ہوا ہے۔