موبائل فون کمپنیوں نے 122011 میں 226 ارب کا ٹیکس بچایا ٹرانسپیرنسی

پری پیڈ کارڈز پر عائد سیلز ٹیکس وصولی کا نیا نظام متعارف کرانے کی تجویز کا جائزہ لیا جارہا ہے، ایف بی آر حکام

پری پیڈ کارڈز پر عائد سیلز ٹیکس وصولی کا نیا نظام متعارف کرانے کی تجویز کا جائزہ لیا جارہا ہے، ایف بی آر حکام فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
سیلولر موبائل فون کمپنیوں کی طرف سے سال 12-2011 کے دوران کم سیل ظاہر کرکے 226 ارب روپے کا جنرل سیلز ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس بچانے کا انکشاف ہوا ہے۔

یہ انکشاف ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی طرف سے چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو علی ارشد حکیم کو لکھے جانے والے لیٹر میں کیا گیا ہے۔ لیٹر میں تجویزدی گئی ہے کہ سیلولر موبائل فون کمپنیوں، وائر لیس فون اینڈ انٹرنیٹ کمپنیوں اور لینڈ لائن ٹیلی فون کمپنیوں سے پری پیڈ کارڈز کی فروخت پر جمع کیے گئے جنرل سیلز ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس کی ایف بی آر کو منتقلی کیلیے فول پروف سسٹم متعارف کرایا جائے۔


ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ پری پیڈ کارڈز پر عائد سیلز ٹیکس وصولی کا نیا نظام متعارف کرانے کی تجویز کا جائزہ لیا جارہا ہے اور ایف بی آر کے زیر غور پالیسی نافذالعمل ہونے کی صورت میں پری پیڈ کارڈز کے اجرا پر جی ایس ٹی پیڈ کی اسٹمپ عائد کرنے اور اسٹمپ شدہ کارڈز کی تعداد اور سیریل نمبرز کے بارے میں ایف بی آر کو ریکارڈ فراہم کرنا ہوگا۔

اس بارے میں ایف بی آر کے سینئر افسر نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے 2جولائی 2012 کو پی ٹی اے کے بعد اگست میں چیئرمین ایف بی آر کوبھی لیٹر لکھاجس میں موقف اختیار کیا ہے کہ سیلولر موبائل فون کمپنیوں نے سال 2011-12 کے دوران کم سیل ظاہر کرکے 226 ارب روپے کا جنرل سیلز ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس بچایا، ایف بی آر یہ ٹیکس وصول کرے۔ مذکورہ افسر نے بتایا کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی تجویز ہے کہ سگریٹ پرایف ای ڈی وصولی کی طرزپر سیلولر موبائل فون فرمز، وائر لیس فون اینڈ انٹرنیٹ اور لینڈ لائن ٹیلی فون کمپنیوں سے پری پیڈ کارڈز کی فروخت پر جنرل سیلز ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس وصولی کا میکنزم متعارف کرایا جائے اور ان کمپنیوں سے پری پیڈ کارڈز کے اجرا کے وقت ہی جنرل سیلز ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس وصول کرکے اسی طرح اسٹیمپ کنندہ کی جائے۔

اس کے علاوہ اجرا سے پہلے ایف بی آر پری پیڈ کارڈز پر نمبر لگائے جس سے پری پیڈ کارڈز سے مطلوبہ صلاحیت کے مطابق ٹیکس وصولی ہوسکے گی۔
Load Next Story