سانگھڑ میں جرائم پیشہ عناصر کیخلاف آپریشن کی تیاریاں جاری
2200 اہلکار اور 400 کمانڈوز طلب، ہیلی کاپٹر، بکتر بند گاڑیاں اور سراغ رساں کتے بھی حصہ لینگے
آپریشن کے لیے سندھ کے مختلف اضلاع سے 2200 پولیس اہلکار، 400 کمانڈوز کو طلب کیا جارہا ہے. فوٹو: اے ایف پی/ فائل
ایس ایس پی سانگھڑ محمد علی بلوچ نے کہاکہ ضلع سانگھڑ میں خطرناک جرائم پیشہ عناصر کے خلاف گرینڈ ٹارگٹ آپریشن شروع کرنے کے لیے تمام انتظامات کو آخری شکل دے دی گئی ہیں۔
آپریشن کے لیے سندھ کے مختلف اضلاع سے 2200 پولیس اہلکار، 400 کمانڈوز کو طلب کیا جارہا ہے جبکہ آپریشن کو مؤثر بنانے کیلیے 2 ہیلی کاپٹرز، 4 عدد جدید بکتر بند گاڑیاں اور سراغ رساں کتے بھی آپریشن میں حصہ لیں گے، پولیس لائن سانگھڑ میں ہیلی پیڈ بھی تیار کرلیا گیا ہے، یہ بات انھوں نے پریس کلب شہدادپور میں میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انھوں نے مزید کہاکہ ضلع میں جرائم کی مستقل روک تھام کے لیے پہلے مرحلے میں شہدادپور میں 7 حساس ترین سی سی ٹی کیمرے نصب کیے جارہے ہیں اور دوسرے مرحلے میں پورے ضلع میں کیمروں کی تنصیب کا عمل ہوگا، انھوں نے مزید بتایا کہ ضلع بھر کی تمام تر بینکوں میں سی سی ٹی کیمرے خراب ہیں جس کی اطلاع تحریری طور پر اسٹیٹ بینک کو دے دی گئی ہے، آپریشن کا عمل ایک ہفتہ میں شروع کردیا جائے گا اور اس میںکسی بھی مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
آپریشن کے لیے سندھ کے مختلف اضلاع سے 2200 پولیس اہلکار، 400 کمانڈوز کو طلب کیا جارہا ہے جبکہ آپریشن کو مؤثر بنانے کیلیے 2 ہیلی کاپٹرز، 4 عدد جدید بکتر بند گاڑیاں اور سراغ رساں کتے بھی آپریشن میں حصہ لیں گے، پولیس لائن سانگھڑ میں ہیلی پیڈ بھی تیار کرلیا گیا ہے، یہ بات انھوں نے پریس کلب شہدادپور میں میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انھوں نے مزید کہاکہ ضلع میں جرائم کی مستقل روک تھام کے لیے پہلے مرحلے میں شہدادپور میں 7 حساس ترین سی سی ٹی کیمرے نصب کیے جارہے ہیں اور دوسرے مرحلے میں پورے ضلع میں کیمروں کی تنصیب کا عمل ہوگا، انھوں نے مزید بتایا کہ ضلع بھر کی تمام تر بینکوں میں سی سی ٹی کیمرے خراب ہیں جس کی اطلاع تحریری طور پر اسٹیٹ بینک کو دے دی گئی ہے، آپریشن کا عمل ایک ہفتہ میں شروع کردیا جائے گا اور اس میںکسی بھی مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔