انفارمیشن سے ڈس انفارمیشن تک

ملک میں نئے چیف آف آرمی اسٹاف کی آمد کے حوالہ سے ایک طوفان تھا جو اب تھم چکا ہے

msuherwardy@gmail.com

لاہور:
ملک میں نئے چیف آف آرمی اسٹاف کی آمد کے حوالہ سے ایک طوفان تھا جو اب تھم چکا ہے۔ مزہ کی بات یہ ہے کہ یہ طوفان ویسے تو چھ ماہ سے جاری تھا لیکن گزشتہ ایک ماہ سے ایک طوفان میں خاص تیزی دیکھنے میں آرہی تھی۔ اور گزشتہ ایک ہفتہ میں یہ طوفان اپنے جوبن پر رہا۔ قیاس آرائیوں افواہوں کے ایک سمندر میں یہ طوفان پھنسا ہوا تھا۔ اور اسے کہیں نکلنے کا راستہ نہیں مل رہا تھا۔ سازشی تھیوریاں اس طوفان کی تباہی میں اضافہ کر رہی تھیں۔ کبھی ایسا لگتا تھا کہ یہ طوفان جمہوریت کو ساتھ بہا کر ساتھ لیجائے گا۔ اور کبھی لگتا تھا کہ یہ طوفان کسی ایک بڑے کا سر لیجائے گا۔ تخت اور تختہ کے اس کھیل میں اس طوفان کو مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی تھی۔

مزہ کی بات ہے کہ جو یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ انھیں نئے چیف کا نام پتہ تھا۔ انھیں بھی نہیں پتہ تھا وہ اپنے ایک پروگرام اور ایک تحریر میں ایک نام کا دعویٰ کرتے اور پھر اگلے پروگرام اور اگلی تحریر میں نئے نام کو سامنے لے آتے۔ بس سب یہ کہہ رہے تھے کہ یہ تین نام ہیں ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے اور وہ بھی ہو سکتا ہے۔ میاں نواز شریف نے اس ضمن میں کمال مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پورے ملک کو ابہام میں رکھا اور خوب انجوائے کیا۔ یہ کہا گیا کہ فوج نے ایک نام بھیجا ہے میاں نواز شریف کو اسے قبول کرنا ہو گا۔کبھی یہ کہا گیا کہ تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ اور کوئی بھی فریق سرنڈر کرنے کو تیار نہیں۔ لیکن یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ کسی کو کچھ نہیں پتہ تھا۔ سب ہوا میں تیر چلا رہے تھے۔

حیران کن بات یہ ہے کہ جنرل راحیل شریف اپنی ریٹائرمنٹ کے حوالہ سے ایک سال پہلے ٹوئٹ کر چکے تھے۔ کہ وہ اپنی مدت ملازمت میں کسی بھی قسم کی توسیع نہیں چاہتے۔ چھ ماہ پہلے جب ڈی جی آئی ایس پی آر سے دوبارہ جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالہ سے سوال کیا گیا تو یہی جواب دیا گیا کہ اس ضمن میں انھوںنے کہا کہ ایک ٹوئٹ کیا جا چکا ہے ۔ اسی پر سب قائم ہیں۔ یعنی اگر پالیسی میں تبدیلی ہو گی تو نیا ٹوئٹ کیا جائے گا تاہم اہل دانش کے لیے یہ وضاحت بھی کم نہ تھی اور وہ توسیع پر بضد تھے۔ لیکن کوئی حیرانی کی بات نہیں جہاں سب کے اندازہ تجزیہ غلط ثابت ہو ئے ہیں ۔ وہاں ان کے بھی غلط ہو گئے تو کونسا طوفان آگیا۔

میں سمجھتا ہوں کہ مریم نواز شریف نے بھی اس ضمن میں خوب کھیلا ہے۔ انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن کے اس کھیل میں انھوں نے بھی افواہ ساز میڈیا پرسنز کو خوب بیوقوف بنایا ہے۔ شائد میڈیاسیکیورٹی لیک کے حوالہ سے ان کے ساتھ جو زیادتی کر رہا تھا' انھوں نے اس سب کا بدلہ اس ایک ٹوئٹ سے ہی لے لیا۔ انھوں نے بھی اپنے ٹوئٹ سے ثابت کیا کہ کسی کو کچھ پتہ نہیں سب ٹیوے ہی لگا رہے ہیں۔

جنرل راحیل شریف کی الوداعی تقریب سے مریم نواز شریف نے دو جنرلز کی وزیر اعظم میاں نواز شریف کے ساتھ نہائت خوشگوار موڈ یعنی ہنستے ہوئے مصافحہ کرتے ہوئے تصاویر شیئر کیں۔ایک لیفٹنٹ جنرل اشفاق ندیم اور دوسرے جنرل رمدے۔ یہ تصاویر بول رہی تھیں کہ یہ دونوں جنرلز اور میاں نواز شریف ایک دوسرے کو ملتے ہوئے بہت خوش ہیں۔


مریم بی بی کی جانب سے ان دو تصاویر کے شئیر کیے جانے کے بعد ہمارے تجزیہ نگاروں نے اور سوشل میڈیا کے پہلوانوں نے یہ دعویٰ کرنے شروع کر دیے کہ بس یہی دونوں جنرل ریس میں ہیں۔ ایک کو ایک چیف بنا دیا گیا اور دوسرے کو دوسرا چیف بنا دیا گیا۔ لیکن مریم بی بی کی جانب سے ان دو تصاویر کا شئیر کیا جانا ان تجزیہ نگاروں کی لاعلمی کا لطف اٹھانے کی عمدہ ترین مثال ہے۔ ہر کسی کا یہی تجزیہ تھا کہ یہ کوئی جانے والوں کی تصاویر نہیں لگتیں۔ یہ یقینا آنے والوں کی تصاویر ہیں۔لیکن تصاویر تو جانیوالوں کی ہی تھیں۔

اب جو آگئے ہیں ان کے آنے پر اور جو نہیں آسکے ان کے جانے پر تجزیہ بہت آسان ہے۔ لیکن ایک بات ہے کہ جو جس کا پازیٹو پوائنٹ تھا وہی اس کا منفی پوائنٹ بھی تھا۔

لیکن میں سمجھتا ہوں کہ مریم بی بی نے یہ تصاویر شیئر کر کے میڈیا کو دو پیغام دئے ہیں ۔ ایک تو یہ قیاس آرائیوں غلط ہیں کہ سیکیورٹی لیک کے حوالہ سے ان پر کوئی دبائو ہے۔ ان کے میڈیا سیل کا اس سارے افسانے میں کوئی ذکر ہے۔ وہ گیم میں ہیں۔ اور گیم انھی سے ہے۔ وہ میڈیا کو استعمال کرنا بھی جانتی ہیں۔ انھوں نے جانے والوں کی تصاویر کو شئیر کر کے سب کو ایک مرتبہ پھر حیران کردیا ہے۔ کوئی بھی ان تصاویر سے یہ پیغام نہیں جان سکا کہ جانے والے اتنے خوشگوار موڈ میں ہیں۔لیکن اس ٹوئٹ میں ایک اور پیغام بھی ہے کہ مریم بی بی ملک کے عسکری معاملات سے کوئی الگ نہیں۔ اس ضمن میں سوشل میڈیا اور چند تجزیہ نگاروں کا پراپیگنڈہ کوئی حقیقت پر مبنی نہیں۔

اس سارے ڈرامہ میں ایک اور دلفریب منظر عمران خان کی جانب سے نئے چیف کے تقرر کا خیر مقدم ہے۔ جب وہ میاں نواز شریف کو وزیر اعظم نہیں مانتے لیکن ان کے نامزد کردہ آرمی چیف کا خیر مقدم کر رہے ہیں۔ ویسے تو عمران خان کو اس حکومت کی ہر تعیناتی اور ہر اقدام پر اعتراض رہا ہے۔

حال ہی میں پیمر ا کی جانب سے ڈی ٹی ایچ کی نیلامی پر بھی اعتراض۔ چیف الیکشن کمشنر سے لے کر ہر تعیناتی پر اعتراض لیکن آرمی چیف کی تعیناتی کا خیر مقدم۔ شائد اسی کو کہتے ہیں ڈنڈا پیر کی کرامات۔ تا ہم چوہدری شجاعت حسین کی بات سب سے مناسب ہے کہ آرمی چیف کی برادری فوج اور ذات پاکستانی ہوتی ہے۔کہا تو یہی جاتا ہے کہ فوج ایک ادارہ ہے۔ اس لیے چیف کے بدلنے سے ادارہ کی پالیسی نہیں بدلتی۔ لیکن پالیسی بدلتی بھی ہے۔ اشفاق پرویز کیانی اور جنرل راحیل شریف کا فرق آپ کے سامنے ہے۔ یہ کوئی معمولی فرق نہیں ہے۔ اس لیے فرق تو آئے گا۔
Load Next Story