رجسٹرارکو قائمہ کمیٹی کے روبرو طلب کرنے کیخلاف درخواست دائر

رشید اے رضوی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت اسلام آباد میں ہوگی.

رشید اے رضوی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت اسلام آباد میں ہوگی. فوٹو: فائل

ممتاز قانون دان رشید اے رضوی ایڈووکیٹ نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پبلک اکائونٹس کی جانب سے طلب کیے جانے کے خلاف سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں آئینی درخواست دائر کردی ہے۔

جس کی فوری سماعت اسلام آباد میں ہوگی ، درخواست میں وزارت قانون ، پبلک اکاونٹس کمیٹی اور رجسٹرار سپریم کورٹ آف پاکستان کو فریق بناتے ہوئے استدعا کی گئی ہے کہ قراردیا جائے کہ 1973کے آئین کے خاکے کے مطابق پبلک اکائونٹس کمیٹی کو رجسٹرار سپریم کورٹ آف پاکستان کوبلانے کا اختیارنہیں۔


اس لیے سپریم کورٹ آف پاکستان پبلک اکائونٹس کمیٹی کی جانب سے رجسٹرار کو پیش ہونے کے سلسلے میں جاری کیے جانے والے نوٹسز اور سمن پر عملدرآمد معطل کیا جائے اور یہ کہ عدالت عظمیٰ رجسٹرار سپریم کورٹ کو وہ پبلک اکائونٹسکمیٹی کے روبرو پیش ہونے سے روکنے کی بھی ہدایت جاری کرے، رشید اے رضوی ایڈووکیٹ نے درخواست میں موقف اختیارکیا ہے کہ آئین بنانیوالوں نے آئین کے آرٹیکل 7میں ریاست کی تعریف کی ہے، اس میں وفاقی حکومت ،پارلیمنٹ ، صوبائی حکومت، صوبائی اسمبلیاں اسی طرح مقامی حکومتیں اور اتھارٹیز ہیں جو ٹیکس نافذ کرسکتی ہیں۔

لیکن اس تعریف میں ملک کی اعلی عدالتوں کو شامل نہیں کیا گیا، صرف اعلی عدالتوں کو ہی اختیار ہے کہ وہ تشریح کریں کہ قانون کیا ہے ، آئین کے دیگر اصولوں کے علاوہ جن میں عدلیہ کو پارلیمنٹ اور انتظامیہ کے رسوخ سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی گئی ہے ان میں سے ایک یہ مشہور اصول ہے کہ ''اس کے پاس ہی کنٹرول ہوگا جو بٹوہ ہتھیانے میں کامیاب ہوگا''، اس اصول کی روشنی میں میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 78سے 88تک عدالتی اخراجات کو پارلیمنٹ کے دائرے سے باہر کیا گیا ہے۔
Load Next Story