معصوم افرادکے اغواحبس بے جاکاسلسلہ جاری ہے آمنہ مسعود

قوم کے محافظ معاشرے کوعدم تحفظ کاشکارکرینگے توانتشاراورمعاشی بدحالی پیداہو گی،عافیہ صدیقی۔

قوم کے محافظ معاشرے کوعدم تحفظ کاشکارکرینگے توانتشاراورمعاشی بدحالی پیداہو گی،عافیہ صدیقی فوٹو: ای نیوز

جب تک لاپتا افراد بازیاب نہیں ہوں گے، آئین اور قانون کی بالادستی قائم نہیں ہوگی، اگر ریاستی ادارے ہی ماورائے عدالت اقدامات میں ملوث ہوں گے تو انارکی پھیلے گی۔

یہ بات ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی چیئرپرسن آمنہ مسعود جنجوعہ نے جمعرات کو کراچی پریس کلب پر لاپتا افراد کے اہل خانہ کی جانب سے لگائے گئے ایک روزہ کیمپ سے ٹیلی فونک خطاب میں کہی۔ آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ ریاستی اداروں کی جانب سے معصوم افراد کا اغوا اور حبس بے جا میں رکھنے کا سلسلہ جاری ہے، ہزاروں لوگ لاپتا ہیں جبکہ سیکڑوں معصوم لوگ بازیاب ہوئے ہیں جنکے بارے میں ریاستی ادارے لاعلمی کا اظہار کرتے تھے۔




اگر عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ سخت اقدامات کریں تو باقی افراد بھی بازیاب کیے جاسکتے ہیں۔ لاپتا افراد کے اہل خانہ کے کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے عافیہ موومنٹ کی سربراہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا کہ جب ملک میں قوم کے محافظ ہی غیر قانونی طور پر معصوم لوگوں کو اغوا کریں گے اور ان کی ماں، بیٹی، بہن، بیوی اور بچوں کو سسکتا چھوڑ دیں گے تو معاشرہ عدم تحفظ کا شکار ہوگا، یہی عدم تحفظ معاشرے میں انتشار اور معاشی بدحالی کا باعث ہوتا ہے۔

ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کے کوآرڈینیٹر حسن بلوچ نے کہا کہ تفتیشی اہلکار دانستہ طور پر لاپتا افراد کی بازیابی کے عمل کو سست روی کا شکار کرتے ہیں، تفتیشی افسران اور جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے ممبران صرف کاغذی کارروائی کرتے ہیں، سپریم کورٹ تفتیشی عمل کو تیز کرنے کیلیے فوری اقدامات کرے۔ ڈپٹی کوآرڈینیٹر عاصم امین نے کہا کہ لاپتا افراد کے اہل خانہ کو عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ سے بہت توقعات ہیں۔
Load Next Story