بن غازی حملہ امریکی محکمہ خارجہ کے اعلی عہدیدار مستعفی

ہلیری کلنٹن نے ڈپلومیٹک سیکیورٹی کیلیے معاون وزیر ایرک بوزویل کا استعفیٰ منظور کر لیا.

ہلیری کلنٹن نے ڈپلومیٹک سیکیورٹی کیلیے معاون وزیر ایرک بوزویل کا استعفیٰ منظور کر لیا. فوٹو: رائٹرز

لیبیا کے شہر بن غازی میں امریکی قونصل خانے پر حملے کی تحقیقات کرنیوالے آزاد کمیشن کی حتمی رپورٹ کے بعد امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اعلی عہدیدار ایرک بوزویل نے استعفی دے دیا ہے جبکہ 3 اہلکاروں کو رخصت پر بھیج دیا گیا ہے۔

کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ11 ستمبر کو حملے کے وقت بن غازی میں قونصل خانے اور وہاں کام کرنے والوں کے لیے حفاظتی انتظامات کلی طور پر ناکافی تھے۔ محکمہ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے ڈپلومیٹک سیکیورٹی کے لیے معاون وزیر ایرک بوزویل کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ دیگر 3 اہلکاروں کو ان کے موجودہ فرائض سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ان افراد کے نام ظاہر کیے بغیر ترجمان کا کہنا تھا کہ انھیں رخصت پر بھیج دیا گیا تھا۔


قبل ازیں بن غازی کے واقعے کی تحقیقات کرنیوالے اکاؤنٹیبلٹی ریویو بورڈ نے کہا تھا کہ امریکی محکمہ خارجہ کے سیکیورٹی سے متعلق 2 اداروں کے درمیان اعلی سطح پر نظام کا فیل ہونا اور انتظامی خامیاں لیبیا کے مشرقی شہر میں واقع امریکی تنصیب پر دہشت گردحملہ روکنے میں ناکام رہیں۔

بورڈ نے یہ بھی کہا کہ لیبیا میں سفارتکاروں کی طرف سے سیکیورٹی ارکان کی تعداد میں اضافہ کرنے کی بار بار کی درخواستوں کے باوجود حملے کے وقت بن غازی کی سفارتی تنصیب میں سیکیورٹی اسٹاف کی تعداد کم تھی۔ جمعرات کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹیاں محکمہ خارجہ کے اعلیٰ سطح حکام سے پینل کی رپورٹ کے بارے میں سوالات کریں گی۔ بن غازی حملہ رپورٹ میں امریکی محکمہ خارجہ اور انٹیلی جنس اداروں پر کڑی تنقید کی گئی تھی۔
Load Next Story