اسرائیل نے بیت المقدس میں2600 مکانات کی منظوری دیدیاقوام متحدہ اورالمی طاقتوں کوتشویش

یہودی بستیوں کی تعمیر امن کےمقصدکونقصان پہنچائیں گی،ترجمان امریکی وزارت خارجہ.

اسرائیل کے اس اقدام کے بعد عالمی فوجداری عدالت سے اپیل کا عمل تیز کردینگے، فلسطینی مذاکرات کار. فوٹو: رائٹرز

اسرائیل نے عالمی برادری کی مخالفت کے باوجود مقبوضہ بیت المقدس کے نواح میں واقع ایک یہودی بستی میں 2610 نئے مکانوں کی تعمیر کی منظوری دیدی ہے۔

اقوام متحدہ ،فرانس، جرمنی، برطانیہ اورپرتگال نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے، یہودی بستیوں کی آبادکاری کی نگرانی کرنیوالی اسرائیلی تنظیم کا کہنا ہے کہ نئے مکانوں کی تعمیر کی منظوری حتمی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی نو آبادکاری منصوبہ گیوات ہاماٹوس کی تعمیر سے ایک بڑا مسئلہ پیدا ہوجائے گا اور اس سے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس تک مغربی کنارے سے رسائی ختم ہو جائے گی۔




فلسطینی مذاکرات کار محمد شطیہ نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کے اس اقدام کے بعد عالمی فوجداری عدالت سے اپیل کا عمل تیز کردینگے۔ اقوام متحدہ نے یہودی بستیاں تعمیر کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔ سیکیورٹی کونسل کے 4 ممبران فرانس، جرمنی، برطانیہ اور پرتگال نے کہا ہے کہ ان کو اسرائیل کی جانب سے یہودی بستیاں تعمیر کرنے کے منصوبہ پر سخت تشویش ہے۔ امریکا نے اقوام متحدہ میں اسرائیل کا دفاع کیا لیکن امریکی وزارت خارجہ نے اسرائیل پر 'اشتعال انگیز کارروائیوں' کا الزام عائد کیا ہے۔امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے کہا کہ یہودی بستیوں کی تعمیر امن کے مقصد کو مزید نقصان پہنچائیں گی۔
Load Next Story