نادراکے تیارکردہ کمپیوٹرائزڈ اسلحہ لائسنس غیرقانونی قرار

آرمزآرڈیننس کی خلاف ورزی کرکے اسلحہ لائسنس جاری نہیں کیا جاسکتا

آرمزآرڈیننس کی خلاف ورزی کرکے اسلحہ لائسنس جاری نہیں کیا جاسکتا۔ فائل فوٹو

سندھ ہائی کورٹ نے نادرا کے تیارکردہ کمپیوٹرائزڈ اسلحہ لائسنس کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے بدھ کو جسٹس فیصل عرب اور جسٹس ندیم اختر پر مشتمل بینچ کا محفوظ کردہ فیصلہ سنایا۔جسٹس ندیم اختر نے 19صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا۔عدالت نے قرار دیا کہ مینوئل لائسنس میں مناسب تعداد میں صفحات موجود ہیں جن میں اضافی معلومات بھی درج کی جاسکتی ہیں

جبکہ نادرا کے تیار کردہ کمپیوٹرائزڈ لائسنس میں اضافی معلومات درج کرنے کی گنجائش نہیں اور کارڈ نما لائسنس پرقواعد و شرائط بھی درج نہیں، عدالت نے قرار دیا کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں پاکستان آرمز آرڈیننس 1965کی دفعہ 3(!)(d)کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسلحہ لائسنس جاری نہیں کرسکتیں۔


محمد ایوب سمیت38درخواست گزاروں کی جانب سے دائر آئینی درخواست میں وفاقی وزارت داخلہ اور نادرا سمیت دیگر کو فریق بناتے ہوئے کہا گیا تھا کہ وفاقی وزیر داخلہ عبدالرحمن ملک کے اعلان کے بعد نادرا نے 11 اگست 2011کو کمپیوٹرائزڈ اسلحہ لائسنس جاری کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔درخواست میں کہا گیا کہ پاکستان آرمز آرڈیننس 1965 کی دفعہ11کے تحت حکومت کے پاس رولز میں ترمیم کا اختیار ہے مگر رولز میں ترمیم کیے بغیر وزارت داخلہ نے کمپیوٹرائزڈ اسلحہ جاری کرنے کا اختیار نادرا کوتفویض کردیا جو آئین کی دفعات 9,14,24,35,37اور38کے خلاف ورزی ہے۔

 

Recommended Stories

Load Next Story