فیئر ٹرائل بل کی منظوری
دہشت گردی میں ملوث ملزمان نا مکمل شواہد کی بنا پر عموماً عدالتوں سے بری ہو جاتے ہیں۔
حکومت نے دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لیے فیئر ٹرائل بل منظور کر کے درست سمت میں قدم اٹھایا ہے۔ فوٹو: اے پی پی/ فائل
دہشت گردی نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ دہشت گرد اس قدر دیدہ دلیر ہو گئے ہیں کہ انھوں نے شہروں کے اندر پولیو ٹیموں پر حملے شروع کر کے پورے ریاستی نظام کو ناکام بنانے اور عوام کو خوف کے سائے تلے زندہ رہنے پر مجبور کرنے کی مذموم کوشش کی ہے۔ ریاست کے نظام کو بچانے اور امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہو گیا ہے کہ ریاستی ادارے زیادہ سے زیادہ موثر اور فعال کردار ادا کریں۔ دہشت گردی کے خاتمے کے مقصد کی خاطر جمعرات کو قومی اسمبلی میں فیئر ٹرائل (شفاف سماعت) کا بل متفقہ طور پر منظور کیا گیا جس کے مطابق خفیہ ایجنسیاں فون کالز ٹیپ اور ای میلز کی نگرانی کر سکیں گی۔ الیکٹرانک مواد اور ٹیلی فون کا ڈیٹا بھی بطور شہادت عدالت میں پیش ہوسکے گا جب کہ متعلقہ ایجنسی کا سربراہ عدالت میں مشکوک شخص کے وارنٹ کے لیے درخواست دے گا۔ منظور کیے گئے بل کے مطابق ان شواہد کی بنیاد پر مشکوک شخص کے وارنٹ حاصل کر کے کیس درج کیا جاسکے گا تاہم پہلا وارنٹ دو ماہ کے لیے ہو گا۔ فیئرٹرائل بل کے مطابق اگر عدالت شواہد کو کافی سمجھے گی تو وارنٹ میں 2 ماہ کا مزید اضافہ ہو سکے گا۔
حکومت نے دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لیے فیئر ٹرائل بل منظور کر کے درست سمت میں قدم اٹھایا ہے۔ اس بل پر تنقید کی گنجائش بھی موجود ہے لیکن ملک اس وقت جن غیرمعمولی حالات سے دوچار ہے، اس کا تقاضا ہے کہ غیر معمولی قانون سازی کی جائے۔امریکا میں بھی کئی ایسے قوانین بنائے گئے ہیں جن کا ماضی میں تصور نہیں کیا جاتا تھا لیکن حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے امریکیوں نے ان قوانین کو تسلیم کر لیا۔پاکستان میں اس بل کی منظوری کے بعد یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ ایجنسیاں اور پولیس قانون کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے بلا روک ٹوک اس ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچانے والوں کو مکمل شواہد کے ساتھ عدالت کے کٹہرے میں لا سکیں گے تاکہ ملک دشمنوں کوسزا دلوائی جا سکے۔ دیکھا گیا ہے کہ دہشت گردی میں ملوث ملزمان نا مکمل شواہد کی بنا پر عموماً عدالتوں سے بری ہو جاتے ہیں جس کی بنا پر ایجنسیوں اور پولیس کو بھی عوامی تنقید کا سامنا رہتا ہے اور عدلیہ پر بھی انگلی اٹھائی جاتی ہے۔ اب قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لیے بھی آسانی پیدا ہوگئی ہے کہ مکمل شواہد موجود ہونے کی بنا پر کسی ملزم کے پاس انکار کی کوئی گنجائش نہیں رہے گی اور عدلیہ کے لیے بھی ایسے ملزمان کو قانون کے مطابق ممکن ہو جائے گا۔
دہشت گردی کسی ایک جماعت یا فرقہ کا مسئلہ نہیں رہا یہ اب پوری قوم کا مسئلہ بن چکا ہے۔ تمام شہریوں پر یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بھرپور تعاون کریں کیونکہ ان کی تائید ہی سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ کر اس ملک کو امن کا گہوارہ بنایا جا سکتا ہے۔ دہشت گردی کے جن کو قابو کرنے کے لیے حکومت کو تمام ریاستی اداروں کو فعال کرنا ہوگا۔ یہ ایک کثیر الجہتی کام ہے۔ کوئی بھی تنہا ادارے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو توڑنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک دیگر ریاستی ادارے بھی اپنا کردار موثر طور پر ادا نہ کریں۔ فوج،پولیس' ایجنسیوں، عدلیہ اور عوام سب کو متحد ہو کر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنا ہو گی۔ حکومت پر یہ ذمے داری بھی آن پڑی ہے کہ اس بل کا مثبت استعمال یقینی بنایا جائے اور اسے دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے ہی استعمال کیا جائے اگر اسے سیاسی مخالفین کو دبانے یا سیاسی انتقام کے لیے بروئے کار لایا گیا تو یہ اپنا مقصد کھو بیٹھے گا اور اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس بل کی افادیت برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہے کہ اصل مقصد سے نہ ہٹا جائے۔ سیکیورٹی ایجنسیوں کو مشتبہ افراد کے ٹیلی فون ٹیپ کرنے' ای میل کی نگرانی اور سی سی ٹی وی سمیت جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شواہد اکٹھے کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔
مشتبہ افراد کا تعین بھی ایجنسیوں کی صوابدید پر ہے اس طرح انھیں کسی بھی شخص کی نجی زندگی میں مداخلت کا اختیار بھی مل گیا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں پولیس اور دیگر سرکاری ادارے پہلے ہی من مانی کررہے ہیں،مزید شیر ہوسکتے ہیں، سابق وزیر قانون زاہد حامد نے اسی خدشے کو دور کرنے کے لیے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے بھی سزا رکھی گئی ہے اگر شواہد کا استعمال کہیں اور کیا گیا تو ذمے داروں کو تین سال قید اور جرمانے کی سزا ہو گی۔ اس نئے بل کا مثبت پہلو یہ ہے کہ وہ ملزم جو ناکافی شواہد کی بنا پر قانون کی گرفت سے بچ جاتے تھے اب مکمل شواہد کی موجودگی میں ملزم کے لیے صحت جرم سے انکار مشکل امر ہو گا اور کوئی بے گناہ سزا کا مستوجب قرار نہیں پائے گا، اسی لیے اس بل کا نام فیئر ٹرائل (شفاف سماعت) رکھا گیا ہے تاکہ قانونی تقاضے پورے کیے بغیر محض شک کی بنیاد پر کوئی ملزم سے مجرم نہ بن جائے۔ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے اپنے خطاب میں بل کی منظوری پر قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ قانون کا بنیادی مقصد دہشت گردی کا خاتمہ ہے' دنیا کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ ہم قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی ایجنسیوں کو ہر لحاظ سے بااختیار بنانا چاہتے ہیں تاکہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت سکیں' بل عام شہریوں کے خلاف نہیں بلکہ ان کی حفاظت اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لیے ہے۔ ایجنسیاں اور سیکیورٹی ادارے دہشت گردی کے خلاف بھرپور جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ جنگ جیتنے کے لیے لازم تھا کہ ان کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے تاکہ وہ زیادہ بااختیار ہو کر بلارکاوٹ دہشت گردوں کو قانون کے شکنجے میں کس سکیں۔ اس بل کی منظوری کے بعد ان کی راہ میں حائل ایک رکاوٹ دور ہو گئی ہے۔ اب وہ باآسانی ملک و قوم کے ان دشمنوں کو پکڑ کر عدالت کے کٹہرے میں لا سکتے ہیں جہاں ٹھوس شواہد کی موجودگی میں ملزم سزا سے بچ نہ سکیں گے۔
حکومت نے دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لیے فیئر ٹرائل بل منظور کر کے درست سمت میں قدم اٹھایا ہے۔ اس بل پر تنقید کی گنجائش بھی موجود ہے لیکن ملک اس وقت جن غیرمعمولی حالات سے دوچار ہے، اس کا تقاضا ہے کہ غیر معمولی قانون سازی کی جائے۔امریکا میں بھی کئی ایسے قوانین بنائے گئے ہیں جن کا ماضی میں تصور نہیں کیا جاتا تھا لیکن حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے امریکیوں نے ان قوانین کو تسلیم کر لیا۔پاکستان میں اس بل کی منظوری کے بعد یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ ایجنسیاں اور پولیس قانون کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے بلا روک ٹوک اس ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچانے والوں کو مکمل شواہد کے ساتھ عدالت کے کٹہرے میں لا سکیں گے تاکہ ملک دشمنوں کوسزا دلوائی جا سکے۔ دیکھا گیا ہے کہ دہشت گردی میں ملوث ملزمان نا مکمل شواہد کی بنا پر عموماً عدالتوں سے بری ہو جاتے ہیں جس کی بنا پر ایجنسیوں اور پولیس کو بھی عوامی تنقید کا سامنا رہتا ہے اور عدلیہ پر بھی انگلی اٹھائی جاتی ہے۔ اب قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لیے بھی آسانی پیدا ہوگئی ہے کہ مکمل شواہد موجود ہونے کی بنا پر کسی ملزم کے پاس انکار کی کوئی گنجائش نہیں رہے گی اور عدلیہ کے لیے بھی ایسے ملزمان کو قانون کے مطابق ممکن ہو جائے گا۔
دہشت گردی کسی ایک جماعت یا فرقہ کا مسئلہ نہیں رہا یہ اب پوری قوم کا مسئلہ بن چکا ہے۔ تمام شہریوں پر یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بھرپور تعاون کریں کیونکہ ان کی تائید ہی سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ کر اس ملک کو امن کا گہوارہ بنایا جا سکتا ہے۔ دہشت گردی کے جن کو قابو کرنے کے لیے حکومت کو تمام ریاستی اداروں کو فعال کرنا ہوگا۔ یہ ایک کثیر الجہتی کام ہے۔ کوئی بھی تنہا ادارے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو توڑنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک دیگر ریاستی ادارے بھی اپنا کردار موثر طور پر ادا نہ کریں۔ فوج،پولیس' ایجنسیوں، عدلیہ اور عوام سب کو متحد ہو کر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنا ہو گی۔ حکومت پر یہ ذمے داری بھی آن پڑی ہے کہ اس بل کا مثبت استعمال یقینی بنایا جائے اور اسے دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے ہی استعمال کیا جائے اگر اسے سیاسی مخالفین کو دبانے یا سیاسی انتقام کے لیے بروئے کار لایا گیا تو یہ اپنا مقصد کھو بیٹھے گا اور اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس بل کی افادیت برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہے کہ اصل مقصد سے نہ ہٹا جائے۔ سیکیورٹی ایجنسیوں کو مشتبہ افراد کے ٹیلی فون ٹیپ کرنے' ای میل کی نگرانی اور سی سی ٹی وی سمیت جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شواہد اکٹھے کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔
مشتبہ افراد کا تعین بھی ایجنسیوں کی صوابدید پر ہے اس طرح انھیں کسی بھی شخص کی نجی زندگی میں مداخلت کا اختیار بھی مل گیا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں پولیس اور دیگر سرکاری ادارے پہلے ہی من مانی کررہے ہیں،مزید شیر ہوسکتے ہیں، سابق وزیر قانون زاہد حامد نے اسی خدشے کو دور کرنے کے لیے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے بھی سزا رکھی گئی ہے اگر شواہد کا استعمال کہیں اور کیا گیا تو ذمے داروں کو تین سال قید اور جرمانے کی سزا ہو گی۔ اس نئے بل کا مثبت پہلو یہ ہے کہ وہ ملزم جو ناکافی شواہد کی بنا پر قانون کی گرفت سے بچ جاتے تھے اب مکمل شواہد کی موجودگی میں ملزم کے لیے صحت جرم سے انکار مشکل امر ہو گا اور کوئی بے گناہ سزا کا مستوجب قرار نہیں پائے گا، اسی لیے اس بل کا نام فیئر ٹرائل (شفاف سماعت) رکھا گیا ہے تاکہ قانونی تقاضے پورے کیے بغیر محض شک کی بنیاد پر کوئی ملزم سے مجرم نہ بن جائے۔ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے اپنے خطاب میں بل کی منظوری پر قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ قانون کا بنیادی مقصد دہشت گردی کا خاتمہ ہے' دنیا کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ ہم قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی ایجنسیوں کو ہر لحاظ سے بااختیار بنانا چاہتے ہیں تاکہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت سکیں' بل عام شہریوں کے خلاف نہیں بلکہ ان کی حفاظت اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لیے ہے۔ ایجنسیاں اور سیکیورٹی ادارے دہشت گردی کے خلاف بھرپور جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ جنگ جیتنے کے لیے لازم تھا کہ ان کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے تاکہ وہ زیادہ بااختیار ہو کر بلارکاوٹ دہشت گردوں کو قانون کے شکنجے میں کس سکیں۔ اس بل کی منظوری کے بعد ان کی راہ میں حائل ایک رکاوٹ دور ہو گئی ہے۔ اب وہ باآسانی ملک و قوم کے ان دشمنوں کو پکڑ کر عدالت کے کٹہرے میں لا سکتے ہیں جہاں ٹھوس شواہد کی موجودگی میں ملزم سزا سے بچ نہ سکیں گے۔