ہفتہ وار بندش مسترد صنعتکاروں کا گیس کنکشن کاٹنے پر مزاحمت کا اعلان
سوئی سدرن گیس کمپنی کا صنعتی صارفین اورکیپٹیو پاور یونٹس کیلیے کل سے 24 گھنٹے کیلیے گیس بندش کا اعلان
سوئی سدرن گیس کمپنی کا صنعتی صارفین اورکیپٹیو پاور یونٹس کیلیے کل سے 24 گھنٹے کیلیے گیس بندش کا اعلان ، فوٹو : رائٹرز ، فائل
کراچی کے صنعتکاروں نے سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے اتوار اور پیر کے درمیان صنعتوں اور کیپٹیو پاور یونٹس کے لیے گیس کی24گھنٹے کے لیے بندش کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے پیداواری عمل جاری رکھنے اورگیس کنکشن کاٹنے پر مزاحمت کا اعلان کیا ہے۔
سائٹ ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے چیئرمین ارشد وہرا نے کہا ہے کہ سوئی سدرن گیس کمپنی سائٹ کے صنعتی علاقے سے حاصل ہونے والے ریونیو سے ہی آج اس مقام تک پہنچی ہے اور صنعتی یونٹس سے ملنے والی آمدنی سے ترقی کرنے والا ادارہ اب خود ملک کی صنعتی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن چکا ہے، سائٹ میں گیس کا بحران کئی ہفتوں سے جاری ہے اورگیس کے پریشر میں کمی کی وجہ سے پیداواری سرگرمیاں 80فیصد تک کم ہوچکی ہیں ، رہی سہی کسر اتوار کے روز گیس کی بندش سے پوری کردی جاتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ گیس کی بندش سے برآمدی آرڈرز کی تکمیل ناممکن ہوگئی ہے ،پاکستان کے ہاتھ سے ایکسپورٹ کے آرڈرز نکل رہے ہیں ، صنعتکاروں نے اپنے سرمائے سے کیپٹیو پاور پلانٹ نصب کیے اور اب گیس کی بندش کے باعث یہ سرمایہ کاری بھی بے فیض ہوچکی ہے، اگر کمپنی کی ٹیموں نے صنعتوں کے کنکشن کاٹنے کی کوشش کی تو صنعت کار سخت مزاحمت کریں گے۔
سائٹ میں 2722 صنعتیں قائم ہیں جوگیس کے بحران سے بری طرح متا ثر ہو رہی ہیں، سائٹ کی صنعتیں سوئی سدرن گیس کمپنی کو صنعتی یونٹس سے ملنے والے ریونیو میں 50فیصدکی حصہ دار ہیں ، سوئی سدرن گیس کمپنی معاہدے کے تحت صنعتوںکوگیس کی فراہمی کی پابند ہے ،18ویں ترمیم کے تحت بھی سندھ سے پیدا ہونیو الی گیس پر صوبے کے صارفین کا پہلا حق ہے۔
انھوںنے کہا کہ صنعتوں کیخلاف کارروائی کی صورت میں قانونی چارہ جوئی بھی کی جا سکتی ہے، ادھرسوئی سدرن گیس کمپنی نے صنعتی صارفین اورکیپٹیو پاور یونٹس کیلیے 23سے 24دسمبر کے دوران اتوار کی صبح 7بجے سے پیرکی صبح 7بجے تک گیس کی بندش کا اعلان کیا ہے،خلاف ورزی کرنے والی صنعتوںکے گیس کنکشن مزید 48گھنٹے کے لیے منقطع کردیے جائیں گے، سوئی سدرن گیس کمپنی نے کراچی سمیت سندھ بھر کے سی این جی اسٹیشنز بھی ہفتہ کی صبح 8بجے سے اتوار کی صبح 8بجے تک 24 گھنٹے بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
سائٹ ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے چیئرمین ارشد وہرا نے کہا ہے کہ سوئی سدرن گیس کمپنی سائٹ کے صنعتی علاقے سے حاصل ہونے والے ریونیو سے ہی آج اس مقام تک پہنچی ہے اور صنعتی یونٹس سے ملنے والی آمدنی سے ترقی کرنے والا ادارہ اب خود ملک کی صنعتی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن چکا ہے، سائٹ میں گیس کا بحران کئی ہفتوں سے جاری ہے اورگیس کے پریشر میں کمی کی وجہ سے پیداواری سرگرمیاں 80فیصد تک کم ہوچکی ہیں ، رہی سہی کسر اتوار کے روز گیس کی بندش سے پوری کردی جاتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ گیس کی بندش سے برآمدی آرڈرز کی تکمیل ناممکن ہوگئی ہے ،پاکستان کے ہاتھ سے ایکسپورٹ کے آرڈرز نکل رہے ہیں ، صنعتکاروں نے اپنے سرمائے سے کیپٹیو پاور پلانٹ نصب کیے اور اب گیس کی بندش کے باعث یہ سرمایہ کاری بھی بے فیض ہوچکی ہے، اگر کمپنی کی ٹیموں نے صنعتوں کے کنکشن کاٹنے کی کوشش کی تو صنعت کار سخت مزاحمت کریں گے۔
سائٹ میں 2722 صنعتیں قائم ہیں جوگیس کے بحران سے بری طرح متا ثر ہو رہی ہیں، سائٹ کی صنعتیں سوئی سدرن گیس کمپنی کو صنعتی یونٹس سے ملنے والے ریونیو میں 50فیصدکی حصہ دار ہیں ، سوئی سدرن گیس کمپنی معاہدے کے تحت صنعتوںکوگیس کی فراہمی کی پابند ہے ،18ویں ترمیم کے تحت بھی سندھ سے پیدا ہونیو الی گیس پر صوبے کے صارفین کا پہلا حق ہے۔
انھوںنے کہا کہ صنعتوں کیخلاف کارروائی کی صورت میں قانونی چارہ جوئی بھی کی جا سکتی ہے، ادھرسوئی سدرن گیس کمپنی نے صنعتی صارفین اورکیپٹیو پاور یونٹس کیلیے 23سے 24دسمبر کے دوران اتوار کی صبح 7بجے سے پیرکی صبح 7بجے تک گیس کی بندش کا اعلان کیا ہے،خلاف ورزی کرنے والی صنعتوںکے گیس کنکشن مزید 48گھنٹے کے لیے منقطع کردیے جائیں گے، سوئی سدرن گیس کمپنی نے کراچی سمیت سندھ بھر کے سی این جی اسٹیشنز بھی ہفتہ کی صبح 8بجے سے اتوار کی صبح 8بجے تک 24 گھنٹے بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔