بدلتے رجحان نئی نسل کی انگلیاں کی بورڈ پر متحرک قلم کو بھول گئیں
نئی نسل،کاروبار اور درس گاہوں میں فائونٹین پین کے استعمال میں کمی،مہنگے فائونٹین پین اسٹیٹس سمبل بن گئے
بال پوائنٹ کا استعمال عروج پر ہے،دہائی قبل تک اہلخانہ طالبعلم کو فائونٹین پین کا تحفہ دیتے اب طلبا ٹریٹ (دعوت) مانگتے ہیں۔ فوٹو: فائل
وقت کے ساتھ بدلتے رجحانات معاشروں پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں نوجوان نسل نئے رجحانات سے سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہے جس کا اندازہ پاکستان میں خوش خطی (خوبصورت ہینڈ رائٹنگ) کے تیزی سے کم ہوتے رجحان سے لگایا جاسکتا ہے۔
نئی نسل کی اکثریت کمپیوٹر ''کی بورڈ''، موبائل اور آئی پیڈ آئی فون کے ''کی پیڈز'' پر انگلیاں متحرک کرنے کی وجہ سے خوش خطی سے دور ہوتی جارہی ہے جس کا اثر فائونٹین پین کے استعمال پر بھی مرتب ہورہا ہے نئی نسل ہی کیا کاروباری مراکز اور دفاتر کے علاوہ درس گاہوں سمیت ہر شعبے میں فائونٹین پین کا استعمال کم سے کم ہوتا جارہا ہے،خوش خطی کے ماہرین کے مطابق ہاتھ کی تحریر شخصیت کی عکاسی کے علاوہ علمی صلاحیتوں کو بھی ظاہر کرتی ہے لیکن جدید دور میں فائونٹین پین کی جگہ کی بورڈ، کی پیڈز اور لیزر پرنٹ نے لے لی ہے جس سے صدیوں تک رائج رہنے والے خوش خطی کی روایت دم توڑ رہی ہے۔
پبلشنگ اور طباعت کے کام سے بھی کاتبوں کا دانہ پانی ختم ہوچکا ہے اسی طرح ہاتھ سے کمرشل بینرز اور پوسٹر بنانے والے فن کار بھی یہ پیشہ ترک کرچکے ہیں، نئی تہذیب کے جدید ہتھیار کمپیوٹر نے جہاں روزگار کے نئے جہاں متعارف کرائے ہیں وہیں بہت سے روایتی فن اور شعبے اس ٹیکنالوجی کا شکار ہوکر معدوم ہوچکے ،پاکستان میں ہاتھ سے تحریر کے ساتھ فائونٹین پین کا استعمال بھی متروک ہوتا جارہا ہے اور بال پوائنٹ کا استعمال پورے عروج پر ہے،کچھ دہائیوں قبل تک کامیاب طالبعلم کو اہل خانہ فائونٹین پین کا تحفہ دیتے تھے جو اب بدلتے رجحانات کے ساتھ ختم ہوگیا اب بچے ٹریٹ (دعوت) کی فرمائش کرتے ہیں،مخصوص طبقے میں بین الاقوامی برانڈ کے مہنگے ترین قلم تحفے میں دینے کا رواج ضرور قائم ہوگیاہے۔
پاکستان میں روشنائی سے چلنے والے قلم کا استعمال محدود ہونے کے باعث 20 سال قبل تک ایگل، ایورریڈی، راجہ، وائیٹ فیدر، آزاد اور دیگر برانڈز سے مقامی طور پر تیار ہونے والے پین انڈسٹری اب بند ہوچکی ہے، ملک میں قلم کی صرف 3 صنعتیں قائم ہیں جو لکھائی کے دیگر پروڈکٹس کے ساتھ روشنائی سے چلنے والے قلم بھی تیار کررہی ہیں، فائونٹین پین یا نب پین جو پاکستان میں عرف عام میں سیاہی والا پین کہلاتا ہے آج کل فائونٹین پین کا استعمال لگژری اور اسٹیٹس سمبل کے طور پر بھی کیا جانے لگا ہے اور مارکیٹ میں کئی اقسام کے مہنگے اور قیمتی پین دستیاب ہیں، یہ حقیقت ہے کہ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ڈسپوزایبل اشیا کو تیزی سے فروغ حاصل ہوا ہے جسکی وجہ سے ملک کا ایک بڑا حصہ لکھائی کے لیے بال پوائنٹس کو اولین ترجیح دیتا ہے لیکن اسکے باوجود فائونٹین پین کی افادیت سے انکار ممکن نہیں ہے۔
اس ضمن میں پین انڈسٹری کے ایک نمائندے اور کنفیڈریشن آف پاکستانی انڈسٹری کے کنوینر احسان اللہ خان نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ پاکستان میں روشنائی سے چلنے والے قلم کی جگہ بال پوائنٹ، پوائنٹر نے لے لی ہے، بلیک بورڈ کی جگہ وائٹ بورڈ نے لے لی جبکہ بلیک بورڈ پراستعمال ہونے والے کیلشیم کاربونیٹ سفیدچاک کے بجائے مختلف کلرز کے مارکرز نے لے لی ہے۔
چند سال قبل تک طالب علموں میں خوشخطی کو پروان چڑھانے کے لیے ماہوار، سہ ماہی ٹیسٹس ، ششماہی وسالانہ امتحانات میں خصوصی اضافی نمبرز دیے جاتے تھے لیکن حالیہ چند برسوں سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ اور کمپیوٹرز کے بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ سے اسکولوں میں خوشخطی پر توجہ ختم ہوگئی ہے نتیجتاً طلبا کے ہاتھوں میں فائونٹین پین اور قلم کا رحجان ختم ہوگیا ہے،فائونٹین پین مینوفیکچرنگ کی ایک پرانی انڈسٹری ڈالر پین کے سربراہ طارق الیاس نے ''ایکسپریس'' کے استفسار پر بتایا کہ فائونٹین پین کے استعمال کا دارومدار خواندگی کی شرح میں اضافے پر ہے جسکے لیے حکومتی سطح پر کوششوں کی ضرورت ہے۔
نئی نسل کی اکثریت کمپیوٹر ''کی بورڈ''، موبائل اور آئی پیڈ آئی فون کے ''کی پیڈز'' پر انگلیاں متحرک کرنے کی وجہ سے خوش خطی سے دور ہوتی جارہی ہے جس کا اثر فائونٹین پین کے استعمال پر بھی مرتب ہورہا ہے نئی نسل ہی کیا کاروباری مراکز اور دفاتر کے علاوہ درس گاہوں سمیت ہر شعبے میں فائونٹین پین کا استعمال کم سے کم ہوتا جارہا ہے،خوش خطی کے ماہرین کے مطابق ہاتھ کی تحریر شخصیت کی عکاسی کے علاوہ علمی صلاحیتوں کو بھی ظاہر کرتی ہے لیکن جدید دور میں فائونٹین پین کی جگہ کی بورڈ، کی پیڈز اور لیزر پرنٹ نے لے لی ہے جس سے صدیوں تک رائج رہنے والے خوش خطی کی روایت دم توڑ رہی ہے۔
پبلشنگ اور طباعت کے کام سے بھی کاتبوں کا دانہ پانی ختم ہوچکا ہے اسی طرح ہاتھ سے کمرشل بینرز اور پوسٹر بنانے والے فن کار بھی یہ پیشہ ترک کرچکے ہیں، نئی تہذیب کے جدید ہتھیار کمپیوٹر نے جہاں روزگار کے نئے جہاں متعارف کرائے ہیں وہیں بہت سے روایتی فن اور شعبے اس ٹیکنالوجی کا شکار ہوکر معدوم ہوچکے ،پاکستان میں ہاتھ سے تحریر کے ساتھ فائونٹین پین کا استعمال بھی متروک ہوتا جارہا ہے اور بال پوائنٹ کا استعمال پورے عروج پر ہے،کچھ دہائیوں قبل تک کامیاب طالبعلم کو اہل خانہ فائونٹین پین کا تحفہ دیتے تھے جو اب بدلتے رجحانات کے ساتھ ختم ہوگیا اب بچے ٹریٹ (دعوت) کی فرمائش کرتے ہیں،مخصوص طبقے میں بین الاقوامی برانڈ کے مہنگے ترین قلم تحفے میں دینے کا رواج ضرور قائم ہوگیاہے۔
پاکستان میں روشنائی سے چلنے والے قلم کا استعمال محدود ہونے کے باعث 20 سال قبل تک ایگل، ایورریڈی، راجہ، وائیٹ فیدر، آزاد اور دیگر برانڈز سے مقامی طور پر تیار ہونے والے پین انڈسٹری اب بند ہوچکی ہے، ملک میں قلم کی صرف 3 صنعتیں قائم ہیں جو لکھائی کے دیگر پروڈکٹس کے ساتھ روشنائی سے چلنے والے قلم بھی تیار کررہی ہیں، فائونٹین پین یا نب پین جو پاکستان میں عرف عام میں سیاہی والا پین کہلاتا ہے آج کل فائونٹین پین کا استعمال لگژری اور اسٹیٹس سمبل کے طور پر بھی کیا جانے لگا ہے اور مارکیٹ میں کئی اقسام کے مہنگے اور قیمتی پین دستیاب ہیں، یہ حقیقت ہے کہ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ڈسپوزایبل اشیا کو تیزی سے فروغ حاصل ہوا ہے جسکی وجہ سے ملک کا ایک بڑا حصہ لکھائی کے لیے بال پوائنٹس کو اولین ترجیح دیتا ہے لیکن اسکے باوجود فائونٹین پین کی افادیت سے انکار ممکن نہیں ہے۔
اس ضمن میں پین انڈسٹری کے ایک نمائندے اور کنفیڈریشن آف پاکستانی انڈسٹری کے کنوینر احسان اللہ خان نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ پاکستان میں روشنائی سے چلنے والے قلم کی جگہ بال پوائنٹ، پوائنٹر نے لے لی ہے، بلیک بورڈ کی جگہ وائٹ بورڈ نے لے لی جبکہ بلیک بورڈ پراستعمال ہونے والے کیلشیم کاربونیٹ سفیدچاک کے بجائے مختلف کلرز کے مارکرز نے لے لی ہے۔
چند سال قبل تک طالب علموں میں خوشخطی کو پروان چڑھانے کے لیے ماہوار، سہ ماہی ٹیسٹس ، ششماہی وسالانہ امتحانات میں خصوصی اضافی نمبرز دیے جاتے تھے لیکن حالیہ چند برسوں سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ اور کمپیوٹرز کے بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ سے اسکولوں میں خوشخطی پر توجہ ختم ہوگئی ہے نتیجتاً طلبا کے ہاتھوں میں فائونٹین پین اور قلم کا رحجان ختم ہوگیا ہے،فائونٹین پین مینوفیکچرنگ کی ایک پرانی انڈسٹری ڈالر پین کے سربراہ طارق الیاس نے ''ایکسپریس'' کے استفسار پر بتایا کہ فائونٹین پین کے استعمال کا دارومدار خواندگی کی شرح میں اضافے پر ہے جسکے لیے حکومتی سطح پر کوششوں کی ضرورت ہے۔