صدر ججز کے تقرر کا نوٹیفکیشن جاری کریں سپریم کورٹ

اسلام آبادہائیکورٹ کے جسٹس شوکت صدیقی کو مستقل،جسٹس نور الحق کی مدت ملازمت میں توسیع کاحکم

اسلام آبادہائیکورٹ کے جسٹس شوکت صدیقی کو مستقل،جسٹس نور الحق کی مدت ملازمت میں توسیع کاحکم،صدر جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر من وعن عمل کے پابند ہیں،جسٹس خلجی عارف۔ فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے جوڈیشل کمیشن کی سفارشات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا بطور مستقل جج اور جسٹس نور الحق این قریشی کی مدت میںچھ ماہ میں توسیع کا نوٹیفکیشن 20نومبر سے جاری کرنے کاحکم دیاہے۔

عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججزکی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری نہ کرنے سے متعلق ندیم احمد ایڈووکیٹ کی آئینی درخواست کا فیصلہ سنادیا جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججزکی تقرری سے متعلق صدارتی ریفرنس کا فیصلہ بعد میں سنایا جائیگا ۔ جسٹس خلجی عارف حسین کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے14 دسمبرکو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جوگزشتہ روزجمعہ کو سنادیا گیا ۔فاضل بنچ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو ججزکانوٹیفکیشن جاری نہ کرنے کیخلاف ندیم احمد ایڈووکیٹ کی درخواست منظورکرتے ہوئے فیصلے میں صدر مملکت کو ہدایت کی ہے کہ وہ جوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میںدونوں ججزکی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کریں ۔

جوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو مستقل کرنے اور جسٹس نورالحق این قریشی کی مدت ملازمت میں چھ ماہ توسیع کی سفارش کی تھی لیکن صدر مملکت نے دونوں ججزکی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے سے انکارکرتے ہوئے سمری واپس بھیج دی تھی اور قرار دیا تھا کہ جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں ایک جونیئرجج جسٹس انور خان کاسی نے شرکت کی تھی جبکہ سینئر جسٹس ریاض احمد تھے ان کو جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں شریک ہونا چاہیے تھا ۔ اجلاس میں ججز تعیناتی کا فیصلہ ہو رہا تھا اس میں غیر متعلقہ جج کی سفارشات کی آئینی حیثیت کیا ہوگی اس معاملہ پر صدر نے عدالت عظمیٰ میں آرٹیکل186کے تحت ایک ریفرنس دائرکیا تھا۔




عدالت سے رائے طلب کی گئی تھی کیا صدرکا ججز تقرری میںکردار محض پوسٹ آفس کا ہے؟اگر ایک کام غیر آئینی واضح ہو رہا ہے تو اسی صورت میں صدرکوکیا کرنا چاہیے ۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں حکم دیا ہے کہ عدالتی فیصلہ کی کاپی تمام متعلقہ اداروں کو بھجوائی جائے جس میں وزارت قانون اور سیکریٹری ایوان صدر شامل ہیں۔ بی بی سی کے مطابق سپریم کورٹ نے ججز تقرری کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس شوکت صدیقی اور جسٹس نور الحق این قریشی کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔این این آئی کے مطابق جسٹس خلجی عارف حسین نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ صدرجوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر من وعن عمل کرنے کے پابند ہیں،دونوں ججوں کو 20نومبر2012سے بحال تصورکیا جائیگا۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے جوڈیشل کمیشن نے 22 اکتوبر کو ہونے والے اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں تعینات جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو مستقل کرنے اور جسٹس نور الحق کی مدت ملازمت میں6 ماہ کی توسیع کی سفارش کی تھی تاہم صدرکی طرف سے ان سفارشات کی روشنی میں دونوں ججزکی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری نہ کیے جانے کی وجہ سے وہ 20 نومبر کو مدتِ ملازمت ختم ہونے پر اپنے عہدوں سے الگ ہو گئے تھے۔
Load Next Story