سوری اسے پھر غلط پڑھتا ہوں
یہ قصہ ہم نے کئی بار سنایا ہے اور شاید کچھ پرانے لوگوں کو خود بھی یاد ہو
barq@email.com
یہ قصہ ہم نے کئی بار سنایا ہے اور شاید کچھ پرانے لوگوں کو خود بھی یاد ہو۔ شکیل صاحب ایک نیوز ریڈر تھے، 1965ء کی جنگ میں ریڈیو پر اردو خبریں پڑھتے تھے اور کچھ اس ادا سے پڑھتے تھے کہ خبروں سے زیادہ ان پر صادق سر دھنوی، عبدالحلیم شرر یا نسیم حجازی کے کسی اسلامی تاریخی ناول کے ایک باب کا گمان ہوتا تھا۔ ان میں خبریں کم اور ڈائیلاگ زیادہ ہوتے تھے۔
جیسے ہمارے جوان للکا رہے ہیں، فلاں جہاز نے دشمن کے دانت کھٹے کر دیے، اینٹ سے اینٹ بجا دی، کچومر نکال دیا، ہر صبح فتح ہر شام فتح ہے، غیرت کا پیغام فتح، ان دنوں اخبار نویسوں کو تو آپ جانتے ہیں کہ کبھی کسی سے کم نہیں ہوتے تھے چنانچہ ان کو بھارت کا دشمن نمبر 3 کہا جاتا تھا، نمبر ایک کا ٹائٹل غازی ایوب خان کے پاس تھا اور نمبر 2 پوزیشن ہولڈر وزیر خارجہ بھٹو تھے۔ کبھی کبھی جذبات کی شدت سے دشمن نمبر 3 کی آواز بھرا جاتی تھی اور جلدی میں کبھی کبھی کچھ کا کچھ بھی کہہ دیتے تھے، اسی طرح ایک دن انھوں نے کوئی خبر غلط پڑھ دی تو بولے معاف کیجیے میں اسے پھر سے پڑھتا ہوں لیکن اس مرتبہ بھی غلط پڑھ گئے۔
اس پر بولے معاف کیجیے میں اسے پھر سے ''غلط'' پڑھتا ہوں اور اس مرتبہ صحیح پڑھ گئے سنا ہے جناب کپتان صاحب بھی اپنی خبر ایک مرتبہ پھر سے پڑھنے یعنی تیسری بار پڑھنے والے ہیں۔ خدا کرے کہ اس مرتبہ وہ غلط کے بجائے صحیح پڑھ دیں لیکن ہمیں تھوڑا سا ڈاؤٹ ہے۔ انھوں نے پہلی مرتبہ عوام سے دعا کرنے کی اپیل کی ہے جس سے کچھ ایسا لگتا ہے کہ کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی طرح کوئی نہ کوئی کمی اعتماد کی ان میں پائی جاتی ہے ہم تو دعا کرینگے ہی بلکہ نہایت خوشی کی بات ہے کہ محترمہ ریحام خان نے بھی ان کو دعا دی ہے کہ خدا کرے اس مرتبہ ان کی گاڑی صحیح ٹریک پر آجائے یا ان کو صحیح ٹریک مل جائے لیکن ہمیں ایک شخص کا واقعہ یاد آتا ہے۔
اس کے بیٹے نے باپ کو خوش خبری دی کہ اس نے ڈرائیونگ سیکھ لی ہے، آپ دعا کریں کہ میں گاڑی صحیح طریقے سے چلا سکوں۔ باپ نے کہا، دعا تو میں ضرور دوں گا لیکن یاد رکھو میری دعا صرف پچاس میل کی رفتار تک ساتھ دے پائیگی، اس سے زیادہ اسپیڈ پر میری دعا کارگر نہ ہو گی۔ ایک ہم ہی کیا اور محترمہ ریحام خان کیا تقریباً سارے لوگ یہ تمنا رکھتے ہیں کہ جناب کپتان خان کی گاڑی کسی نہ کسی ٹریک پر رواں دواں ہو جائے تاکہ دوسروں کی گاڑیاں بھی روز روز کی اَن ٹریک بھاگ دوڑ سے چھٹکارا پا جائیں۔ یہ کیا کہ کبھی اسلام آباد کبھی رائے ونڈ ۔ نے ہاتھ باگ پر ہیں نہ پا ہے رکاب میں۔ ویسے بھی جناب کپتان خان تبدیلی اور نئے پاکستان کے داعی ہیں اور یہ بالکل بھی اچھا نہیں لگتا کہ ان کی اپنی زندگی ''بے تبدیلی'' رہے اور ''نیا خاندان'' بسانے کی جگہ وہ ''نیا پاکستان'' کے چکر میں، یہ شادی کا سن اور امنگوں کے دن لٹاتے پھریں، ان کی جو منزل ہے یا وہ جو بتا رہے ہیں اس سے مکمل اتفاق ہے تبدیلی اور نیا پاکستان نہایت ہی نیک کام ہیں اور نیک کاموں کے بارے میں ہدایت کی گئی ہے کہ اپنے ہی سے ابتداء کی جائے تو اچھا ہے۔
تو کار زمیں رانکو ساختی
کہ باآسماں نیز پر داختی
یعنی پہلے زمین کے کام تو کر، آسماں کو سنوارنے کے لیے پھر اڑان بھر، حالات و واقعات اخبارات کے بیانات اور شہادتوں و ثبوتوں کے مدنظر یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ موصوف نے تیسرا سہرا سجانے کا ارادہ پکا پکا کر لیا ہے لیکن تمام تر دعاؤں اور نیک تمناؤں کے باوجود تھوڑی سی کنفیوژن ہے اور یہ کنفیوژن ایک پرانی کہانی سے ہمارے ذہن میں پیدا ہو رہی ہے حالانکہ وہ کیس کچھ الگ تھا لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ مماثلت پائی جاتی ہے۔ کہتے ہیں ایک خاتون نے یکے بعد دیگرے سات شوہر نگل لیے لیکن اس کے دل میں تمنا تھی کہ الزبتھ ٹیلر کا ریکارڈ توڑ ڈالے اور گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اپنا اندراج کر چھوڑے، عام لوگ بھی اس کے ساتھ تعاون کرنے پر آمادہ ہو گئے اور اس کے لیے ایک ایسا دولہا ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گئے جو آں محترمہ جتنا ریکارڈ ہولڈر تھا یعنی سات بیویاں زمین کو ڈونیٹ کی ہوئی تھیں۔
لوگوں کا خیال تھا کہ شاید ہم پلہ اور ہم ریکارڈ ہونے کے باعث ان کی جوڑی جم جائے یعنی معاملہ ٹائی ہو جائے اور ان دونوں سے دوسرے بیگناہوں کو امان بھی مل جائے گی لیکن کرنا خدا کا یہ ہوا کہ اس مرتبہ ابھی نکاح خواں نے خطبہ نکاح پڑھنے کے لیے بسم اللہ کی ''ب'' بھی ادا نہیں کی تھی کہ ''ٹیں'' ہو گیا ۔ اور دونوں ویسے کے ویسے ہی ٹائی پر رہ گئے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ دونوں مرد و عورت اپنے کام سے توبہ تائب ہو گئے وہ تو بدستور لگے رہے تھے لیکن نکاح خوانوں نے آپس میں اے پی سی بلا کر ایکا کر لیا کہ بھوکوں مر جائیں گے لیکن ان دو فریقین کی نکاح خوانی نہیں کریں گے۔
شرع و آئین پر مدار سہی
ایسے ''قاتل'' کا کیا کرے کوئی
ویسے ہمارا مشورہ ہے کہ اگر اس مرتبہ جناب کپتان خان اپنے نکاح کے لیے حضرت علامہ طاہر القادری کا انتخاب کریں تو شاید اور زیادہ بابرکت ہو جائے۔
حسن فروغ شمع سخن دور ہے اسد
پہلے دل گداختہ پیدا کرے کوئی
نکاحات سے متعلق ایک اور کہانی دم ہلا رہی ہے، اس سے نبٹ لیا جائے تو اچھا ہے۔ یہ ایک ایسی خاتون کی کہانی ہے جس کے شوہر ٹکتے نہیں تھے، تعداد کا تو علم نہیں ہے لیکن کئیوں کو ''رو'' اور ''کھو'' چکی تھی، اب کے اس کی نکاح خوانی کا سلسلہ جما تو اس نے نکاح خواں سے استدعا کی کہ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ اکٹھے ہی چار پانچ کے ساتھ نکاح پڑھائیں، نکاح خوان نے کہا، یہ کیا فضول باتیں کر رہی ہو تو وہ بڑی معصومیت سے بولی کہ دراصل میں موت کی ڈری ہوئی ہوں
پانی سے سگ گزیدہ ڈرے جس طرح اسد
ڈرتا ہوں آئینے سے کہ مردم گزیدہ ہوں
خیر غیر متعلق باتیں ختم اپنے اصل موضوع بلکہ دلی تمنا پر آتے ہیں، اس سلسلے میں ہم کوئی زیادہ علم نجوم وغیرہ کے بارے میں تو نہیں جانتے لیکن اتنا مشورہ کپتان صاحب کو دینا چاہیں گے کہ وہ مصروف بہت ہیں اور ان کا اپنا دھیان اس طرف ہو یا نہ ہو لیکن ہم درخواست کریں گے کہ ''9'' کے ہندسے کا ضرور خیال رکھئے گا۔ یہ بڑا منحوس سا ہندسہ ہے کیونکہ اسے جس زبان اور حساب سے بھی جانچیں نتیجہ کچھ اچھا نہیں نکلتا، مثلاً انگریزی میں تو صاف صاف نہیں نہیں کرتا ہے جب کہ فارسی میں بھی اس کے معنی نئے یا نیا کے ہوتے ہیں اور روز روز کون نیا نیا یا نئی نئی کرتا رہے جب کہ اردو میں اس کا استعمال ''نیا نو دن'' کے طور پر ہوتا ہے۔
نوا اور بے نوا کے الفاظ بھی اس سے بنتے ہیں البتہ پنجابی میں ''نُو'' کے معنی خاصے امید افزا ہیں، بہرحال اب اگر انھوں نے ارادہ کر ہی لیا ہے تو ہماری طرف سے ڈھیروں مبارک باد دعائیں اور نیک تمنائیں کیونکہ پشتو میں بزرگوں کا نظریہ شادی کے بارے میں یہ ہے کہ غیر شادی شدہ آدمی بے مہار بیل ہوتا ہے، کچھ پتہ نہیں لگتا کہ کس طرف منہ اٹھا کر چل دے یا کسے سینگ مار دے۔ شادی کی مثال کھونٹے کی ہے،کھونٹے سے آدمی بندھ جائے تو پھر وہ ادھر ادھر بے مقصد بھاگ دوڑ نہیں کرتا، آرام سے اس کی زندگی ایک محور پر چلنے لگتی ہے، کچھ بھی کرے کہیں بھی جائے لیکن کھونٹے کے دائرے سے باہر نہیں ہوتا، اس کی قوتیں، ذہن، دلچسپیاں اور سرگرمیاں اس کھونٹے کے تابع ہوتی ہیں۔
اس سبق کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ کھونٹا اکھاڑنے یا رسی توڑنے یا چبانے کی عادت اچھی نہیں ہوتی ہے، قسمت میں جو کھونٹا بھی مل جائے اسی کا ہو رہنا چاہیے کہ اس میں اس کی بھلائی بھی ہے آرام و سکون بھی ہے اور سدھرنے کا فائدہ بھی بلکہ سب سے بڑا فائدہ خلق خدا کا بھی ہوتا ہے کہ یہاں وہاں لوگوں کو رگیدنے، سینگ مارنے اور غرفش کرنے کی ساری بری عادتیں چھوٹ جاتی ہیں، لوگ اس کے قرب سے بھاگتے بھی نہیں بچے بھی آکر اسے چارہ ڈال دیتے ہیں اور ہاتھ وغیرہ پھیر کر محبت کا اظہار کرتے رہتے ہیں، خدا ہر کسی کو کھونٹا نصیب کرے اور کسی کا کھونٹا کبھی نہ اکھڑے، آمین۔
جیسے ہمارے جوان للکا رہے ہیں، فلاں جہاز نے دشمن کے دانت کھٹے کر دیے، اینٹ سے اینٹ بجا دی، کچومر نکال دیا، ہر صبح فتح ہر شام فتح ہے، غیرت کا پیغام فتح، ان دنوں اخبار نویسوں کو تو آپ جانتے ہیں کہ کبھی کسی سے کم نہیں ہوتے تھے چنانچہ ان کو بھارت کا دشمن نمبر 3 کہا جاتا تھا، نمبر ایک کا ٹائٹل غازی ایوب خان کے پاس تھا اور نمبر 2 پوزیشن ہولڈر وزیر خارجہ بھٹو تھے۔ کبھی کبھی جذبات کی شدت سے دشمن نمبر 3 کی آواز بھرا جاتی تھی اور جلدی میں کبھی کبھی کچھ کا کچھ بھی کہہ دیتے تھے، اسی طرح ایک دن انھوں نے کوئی خبر غلط پڑھ دی تو بولے معاف کیجیے میں اسے پھر سے پڑھتا ہوں لیکن اس مرتبہ بھی غلط پڑھ گئے۔
اس پر بولے معاف کیجیے میں اسے پھر سے ''غلط'' پڑھتا ہوں اور اس مرتبہ صحیح پڑھ گئے سنا ہے جناب کپتان صاحب بھی اپنی خبر ایک مرتبہ پھر سے پڑھنے یعنی تیسری بار پڑھنے والے ہیں۔ خدا کرے کہ اس مرتبہ وہ غلط کے بجائے صحیح پڑھ دیں لیکن ہمیں تھوڑا سا ڈاؤٹ ہے۔ انھوں نے پہلی مرتبہ عوام سے دعا کرنے کی اپیل کی ہے جس سے کچھ ایسا لگتا ہے کہ کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی طرح کوئی نہ کوئی کمی اعتماد کی ان میں پائی جاتی ہے ہم تو دعا کرینگے ہی بلکہ نہایت خوشی کی بات ہے کہ محترمہ ریحام خان نے بھی ان کو دعا دی ہے کہ خدا کرے اس مرتبہ ان کی گاڑی صحیح ٹریک پر آجائے یا ان کو صحیح ٹریک مل جائے لیکن ہمیں ایک شخص کا واقعہ یاد آتا ہے۔
اس کے بیٹے نے باپ کو خوش خبری دی کہ اس نے ڈرائیونگ سیکھ لی ہے، آپ دعا کریں کہ میں گاڑی صحیح طریقے سے چلا سکوں۔ باپ نے کہا، دعا تو میں ضرور دوں گا لیکن یاد رکھو میری دعا صرف پچاس میل کی رفتار تک ساتھ دے پائیگی، اس سے زیادہ اسپیڈ پر میری دعا کارگر نہ ہو گی۔ ایک ہم ہی کیا اور محترمہ ریحام خان کیا تقریباً سارے لوگ یہ تمنا رکھتے ہیں کہ جناب کپتان خان کی گاڑی کسی نہ کسی ٹریک پر رواں دواں ہو جائے تاکہ دوسروں کی گاڑیاں بھی روز روز کی اَن ٹریک بھاگ دوڑ سے چھٹکارا پا جائیں۔ یہ کیا کہ کبھی اسلام آباد کبھی رائے ونڈ ۔ نے ہاتھ باگ پر ہیں نہ پا ہے رکاب میں۔ ویسے بھی جناب کپتان خان تبدیلی اور نئے پاکستان کے داعی ہیں اور یہ بالکل بھی اچھا نہیں لگتا کہ ان کی اپنی زندگی ''بے تبدیلی'' رہے اور ''نیا خاندان'' بسانے کی جگہ وہ ''نیا پاکستان'' کے چکر میں، یہ شادی کا سن اور امنگوں کے دن لٹاتے پھریں، ان کی جو منزل ہے یا وہ جو بتا رہے ہیں اس سے مکمل اتفاق ہے تبدیلی اور نیا پاکستان نہایت ہی نیک کام ہیں اور نیک کاموں کے بارے میں ہدایت کی گئی ہے کہ اپنے ہی سے ابتداء کی جائے تو اچھا ہے۔
تو کار زمیں رانکو ساختی
کہ باآسماں نیز پر داختی
یعنی پہلے زمین کے کام تو کر، آسماں کو سنوارنے کے لیے پھر اڑان بھر، حالات و واقعات اخبارات کے بیانات اور شہادتوں و ثبوتوں کے مدنظر یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ موصوف نے تیسرا سہرا سجانے کا ارادہ پکا پکا کر لیا ہے لیکن تمام تر دعاؤں اور نیک تمناؤں کے باوجود تھوڑی سی کنفیوژن ہے اور یہ کنفیوژن ایک پرانی کہانی سے ہمارے ذہن میں پیدا ہو رہی ہے حالانکہ وہ کیس کچھ الگ تھا لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ مماثلت پائی جاتی ہے۔ کہتے ہیں ایک خاتون نے یکے بعد دیگرے سات شوہر نگل لیے لیکن اس کے دل میں تمنا تھی کہ الزبتھ ٹیلر کا ریکارڈ توڑ ڈالے اور گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اپنا اندراج کر چھوڑے، عام لوگ بھی اس کے ساتھ تعاون کرنے پر آمادہ ہو گئے اور اس کے لیے ایک ایسا دولہا ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گئے جو آں محترمہ جتنا ریکارڈ ہولڈر تھا یعنی سات بیویاں زمین کو ڈونیٹ کی ہوئی تھیں۔
لوگوں کا خیال تھا کہ شاید ہم پلہ اور ہم ریکارڈ ہونے کے باعث ان کی جوڑی جم جائے یعنی معاملہ ٹائی ہو جائے اور ان دونوں سے دوسرے بیگناہوں کو امان بھی مل جائے گی لیکن کرنا خدا کا یہ ہوا کہ اس مرتبہ ابھی نکاح خواں نے خطبہ نکاح پڑھنے کے لیے بسم اللہ کی ''ب'' بھی ادا نہیں کی تھی کہ ''ٹیں'' ہو گیا ۔ اور دونوں ویسے کے ویسے ہی ٹائی پر رہ گئے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ دونوں مرد و عورت اپنے کام سے توبہ تائب ہو گئے وہ تو بدستور لگے رہے تھے لیکن نکاح خوانوں نے آپس میں اے پی سی بلا کر ایکا کر لیا کہ بھوکوں مر جائیں گے لیکن ان دو فریقین کی نکاح خوانی نہیں کریں گے۔
شرع و آئین پر مدار سہی
ایسے ''قاتل'' کا کیا کرے کوئی
ویسے ہمارا مشورہ ہے کہ اگر اس مرتبہ جناب کپتان خان اپنے نکاح کے لیے حضرت علامہ طاہر القادری کا انتخاب کریں تو شاید اور زیادہ بابرکت ہو جائے۔
حسن فروغ شمع سخن دور ہے اسد
پہلے دل گداختہ پیدا کرے کوئی
نکاحات سے متعلق ایک اور کہانی دم ہلا رہی ہے، اس سے نبٹ لیا جائے تو اچھا ہے۔ یہ ایک ایسی خاتون کی کہانی ہے جس کے شوہر ٹکتے نہیں تھے، تعداد کا تو علم نہیں ہے لیکن کئیوں کو ''رو'' اور ''کھو'' چکی تھی، اب کے اس کی نکاح خوانی کا سلسلہ جما تو اس نے نکاح خواں سے استدعا کی کہ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ اکٹھے ہی چار پانچ کے ساتھ نکاح پڑھائیں، نکاح خوان نے کہا، یہ کیا فضول باتیں کر رہی ہو تو وہ بڑی معصومیت سے بولی کہ دراصل میں موت کی ڈری ہوئی ہوں
پانی سے سگ گزیدہ ڈرے جس طرح اسد
ڈرتا ہوں آئینے سے کہ مردم گزیدہ ہوں
خیر غیر متعلق باتیں ختم اپنے اصل موضوع بلکہ دلی تمنا پر آتے ہیں، اس سلسلے میں ہم کوئی زیادہ علم نجوم وغیرہ کے بارے میں تو نہیں جانتے لیکن اتنا مشورہ کپتان صاحب کو دینا چاہیں گے کہ وہ مصروف بہت ہیں اور ان کا اپنا دھیان اس طرف ہو یا نہ ہو لیکن ہم درخواست کریں گے کہ ''9'' کے ہندسے کا ضرور خیال رکھئے گا۔ یہ بڑا منحوس سا ہندسہ ہے کیونکہ اسے جس زبان اور حساب سے بھی جانچیں نتیجہ کچھ اچھا نہیں نکلتا، مثلاً انگریزی میں تو صاف صاف نہیں نہیں کرتا ہے جب کہ فارسی میں بھی اس کے معنی نئے یا نیا کے ہوتے ہیں اور روز روز کون نیا نیا یا نئی نئی کرتا رہے جب کہ اردو میں اس کا استعمال ''نیا نو دن'' کے طور پر ہوتا ہے۔
نوا اور بے نوا کے الفاظ بھی اس سے بنتے ہیں البتہ پنجابی میں ''نُو'' کے معنی خاصے امید افزا ہیں، بہرحال اب اگر انھوں نے ارادہ کر ہی لیا ہے تو ہماری طرف سے ڈھیروں مبارک باد دعائیں اور نیک تمنائیں کیونکہ پشتو میں بزرگوں کا نظریہ شادی کے بارے میں یہ ہے کہ غیر شادی شدہ آدمی بے مہار بیل ہوتا ہے، کچھ پتہ نہیں لگتا کہ کس طرف منہ اٹھا کر چل دے یا کسے سینگ مار دے۔ شادی کی مثال کھونٹے کی ہے،کھونٹے سے آدمی بندھ جائے تو پھر وہ ادھر ادھر بے مقصد بھاگ دوڑ نہیں کرتا، آرام سے اس کی زندگی ایک محور پر چلنے لگتی ہے، کچھ بھی کرے کہیں بھی جائے لیکن کھونٹے کے دائرے سے باہر نہیں ہوتا، اس کی قوتیں، ذہن، دلچسپیاں اور سرگرمیاں اس کھونٹے کے تابع ہوتی ہیں۔
اس سبق کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ کھونٹا اکھاڑنے یا رسی توڑنے یا چبانے کی عادت اچھی نہیں ہوتی ہے، قسمت میں جو کھونٹا بھی مل جائے اسی کا ہو رہنا چاہیے کہ اس میں اس کی بھلائی بھی ہے آرام و سکون بھی ہے اور سدھرنے کا فائدہ بھی بلکہ سب سے بڑا فائدہ خلق خدا کا بھی ہوتا ہے کہ یہاں وہاں لوگوں کو رگیدنے، سینگ مارنے اور غرفش کرنے کی ساری بری عادتیں چھوٹ جاتی ہیں، لوگ اس کے قرب سے بھاگتے بھی نہیں بچے بھی آکر اسے چارہ ڈال دیتے ہیں اور ہاتھ وغیرہ پھیر کر محبت کا اظہار کرتے رہتے ہیں، خدا ہر کسی کو کھونٹا نصیب کرے اور کسی کا کھونٹا کبھی نہ اکھڑے، آمین۔