نومبر2016 اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں 120 بچوں سمیت527 فلسطینی گرفتار

7 ہزار فلسطینی قیدیوں میں سے 48 خواتین، 11 کم عمر بچیاں، 400 بچے شامل ہیں، فلسطینی انسانی حقوق تنظیموں کے اعداد و شما

فلسطینیوں کو زبردستی اپنے مکان خود مسمار کرنے کا حکم، الکرامہ گزرگاہ سے اردن داخل ہونے والے 112 شہریوں کو سفر سے روک دیا گیا فوٹو:فائل

مقبوضہ فلسطین میں اسرائیلی غنڈہ گردی بدستور جاری ہے، انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے جاری کردہ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ نومبر 2016 میں صہیونی فورسز نے 120 بچوں سمیت 527 فلسطینی شہریوں کو حراست میں لینے کے بعد پابند سلاسل کیا۔

مرکز برائے اسیران اسٹڈی سینٹر، فلسطینی محکمہ امور اسیران، انسانی حقوق کی تنظیم ضمیر فاؤنڈیشن اور مرکز المیزان برائے انسانی حقوق کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ نومبر کے مہینے میں حراست میں لیے گئے شہریوں میں18سال سے کم عمر کے 120بچے بھی شامل ہیں جن میں سے 14 بچیاں اور متعدد خواتین بھی ہیں، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی سے 14 فلسطینی ماہی گیروں کو حراست میں لیا گیا جبکہ غزہ ہی سے 5 افراد کو البریج پناہ گزین کیمپ کے قریب سے گرفتار کیا گیا، رپورٹ کے مطابق اسرائیلی زندانوں میں پابند سلاسل فلسطینیوں کی تعداد 7 ہزار سے زائد ہے جن میں48 خواتین،11 کم عمر بچیاں،400 بچے''مجد'' اور ''عوف'' نامی فوجی جیلوں میں قید ہیں، 700 انتظامی محرسین شامل ہیں۔


دریں اثنا ماہ نومبر کے دوران صہیونی حکام نے 112 فلسطینیوں کو بیرون ملک سفر سے روکا، اطلاعات کے مطابق فلسطینی پولیس کا کہنا ہے کہ کاغذات اور سفری دستاویزات مکمل ہونے کے باوجود اسرائیلی حکام نے الکرامہ گزرگاہ سے اردن داخل ہونے والے112 فلسطینیوں کو بیرون ملک جانے سے روک دیا، علاوہ ازیں بیت المقدس میں سلوان کے مقام پر واقع فلسطینی شہری سعید العباسی کو اپنا مکان زبردستی مسمار کرنے پر مجبور کیا گیا، العباسی نے میڈیا کو بتایا کہ ہمیں دھمکی دی گئی کہ ہم نے مکان مسمار کرنے میں کسی ٹال مٹول سے کام لیا تو ہمیں گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا جائے گا اور مکانوں کی مسماری پر آنے والی لاگت بھی ہم ہی سے وصول کی جائے گی۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے اس قبل بھی متعدد واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، دوسری جانب عینی شاہدین کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی قابض فورسز نے فلسطینی شہری مراد سرندح کا شناختی کارڈ چیک کرنے اور اس کے سامان کی تلاشی لینے کے بعد اسے فوجی گاڑی میں ڈالا اور کسی نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔
Load Next Story