کرپشن کے طرف دار ہیں ہم
فلموں اور ڈراموں میں بھی ہم نے اکثر یہی دیکھا ہے کہ خواتین شوہروں یا بیٹوں یا محبوبوں کی کرپشن کی سخت مخالفت کرتی ہیں
barq@email.com
WASHINGTON DC:
ہم نے کہا تھا کہ تھا، کچھ ایسا ویسا نہیں بلکہ ڈنکے کی چوٹ پر اور ببانگ دہل کہا تھا کہ اے لوگو، اس بے گناہ بے خطا معصوم مظلوم اور مفموم ''کرپشن'' کا پیچھا چھوڑ دیںکیونکہ ہم اس کی حمایت میں کھڑے ہو چکے ہیں اور اگر آیندہ کسی نے اس بے چارے کو کچھ برا بھلا کہا تو ہم اس شخص کو ''سوا برا بھلا'' کہیں گے، آخر اس بے چارے نے کسی کا کیا بگاڑا ہے بلکہ اس کا تو جدی پشتی پیشہ ''سنوارنا'' ہے اور اپنے اس نیک کام میں اتنا مخلص ہے کہ آج کل تو بے چارا اوورٹائم لگا دیتا ہے، سو آج ہم اپنے اس اعلان کا بھرم رکھتے ہوئے اس پر پھینکی جانے والی اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کے لیے تیار ہیں، کوئی صاحب ہیں، ہو گا کوئی نام جو ڈائریکٹر بھی ہیں یا کچھ اور بھی ہو سکتے ہیں لیکن اتنا ہمیں پتہ چلا ہے کہ کسی حساب کتاب وغیرہ سے تعلق رکھتے ہیں۔
انھوں نے کرپشن پرسراسر ناروا، بے بنیاد اور منفی تنقید یا قسم کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ کرپشن ترقی کے راستے بند کر دیتی ہے، خیر ان سے تو ہم بعد میں نمٹیں گے پہلے اس اخبار والے کے تو دو چار تھپڑ لگا دیں جس نے اچھی خاصی مردانہ چیز کو مونث بنایا ہے، بے چاری مونثات کا کرپشن سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، یہ درست ہے کہ بعض اوقات ''صاحب'' کی کارستانیوں کے پیچھے بیگمات کا ہاتھ ہوتا ہے یا صاحب بیگم صاحبہ کو کرپشن کے لیے بحیثیت کورئیر استعمال کرتے ہیں لیکن یہ خال خال کے زمرے میں آتا ہے، کم از کم ہم نے تو آج تک کسی بھی خاتون کے بارے میں نہیں سنا ہے کہ اس نے کرپشن کی ہو، جہاں جہاں بھی کسی پوسٹ پر کوئی خاتون ہوتی ہے، وہ نک چڑھی ہو سکتی ہے، سخت ہو سکتی ہے، بدلحاظ ہو سکتی ہے بزرگوںکی حتیٰ کہ قائداعظم کا بھی احترام نہیں کرتی، لیکن کرپٹ بالکل نہیں ہوتی بلکہ بے چاریاں اس بری لت کی وجہ سے بدنام بھی ہو جاتی ہیں۔
فلموں اور ڈراموں میں بھی ہم نے اکثر یہی دیکھا ہے کہ خواتین شوہروں یا بیٹوں یا محبوبوں کی کرپشن کی سخت مخالفت کرتی ہیں، اکثر اوقات توکرپٹ سے اپنا ہر ناطقہ بھی توڑ لیتی ہیں اور پھر کرپشن تو ویسے بھی انگریزی لفظ ہے یعنی پرایا، اور پرائے کو مردانے میں بٹھایا جاتا ہے زنانے میں نہیں۔ خیر یہ جھگڑا تو ہمارا اردودانوں سے ہے کہ وہ سراسر مردوں کے ایک کرتوت کو زنانہ کیوں بنا رہے ہیں لیکن جو ان صاحب نے اتنا بڑا الزام کرپشن بے چارے پر لگایا ہے کیا یہ انصاف ہے، اگر وہ یہ کہتے کہ کرپشن ترقی کے راستے بلکہ دروازے کھڑکیاں اور روشن دان کھول دیتا ہے تو مان بھی لیتے لیکن ''بند کر دیتی ہے'' ۔
کب کہاں کیسے اور کون سا دروازہ اس بے چارے نے بند کیا ہے، چلو بے چاری کہہ دیں جب آپ اسے مونث بنانے پر تلے ہوئے ہیں تو ۔۔۔؟ بلکہ اچھا تو یہ ہو گا کہ ہم یہ جھگڑا ہی مٹا دیں اور ابن صفی کی طرح بے چاری/ چارہ لکھا اور بولا کریں، جہاں تو ہم نے دیکھا ہے کہ یہ بے چاری/ چارہ بند دروازے کھولتاہے یا کھولتی ہے اور یہ کوئی سنی سنائی یا ہوائی ہم نہیں اڑا رہے ہیں، ہم نے خود دیکھا ہے کہ کتنے پکے پکے دروازے یہ کھولتا ہے یا کھولتی ہے بلکہ ہم نے اسے دیواروں میں بھی دروازے اور کھڑکیاں لگاتے دیکھا ہے بلکہ دیواریں کیا بڑے بڑے سنگین پہاڑوںمیں بھی اسے سرنگیں بناتے دیکھا ہے اور ان سرنگوں میں آج کل دونوں اطراف سے اچھی خاصی جی ٹی روڈ جتنی ٹریفک رواں دواں ہے ورنہ خود جا کر ٹریفک والوں سے پتہ کرلیجیے کہ ٹریفک رواں دواں ہے کہ نہیں۔ یہ تو گویا سورج کو انگلی سے چھپانے کی کوشش کی گئی ہے کہ کرپشن ترقی کے دروازے بند کر دیتی ہے۔
اس پر ہمیں ایک چھوٹی سی کہانی یاد آرہی ہے۔ کہتے ہیں جب انگریزوں کے زمانے میں ملاکنڈ کے پہاڑ میں سرنگ کھود کر نہر نکالنے کا منصوبہ بنایا جارہا تھا تو ایک دیسی افسر نے انگریز انجینئر سے پوچھا کہ اتنی لمبی سرنگ اتنے سخت پہاڑ میں کیسے نکالی جا سکے گی اور کون نکالے گا؟ تو انگریز افسر نے جیب سے ایک سکہ نکال کر دکھاتے ہوئے کہا کہ یہ نکالے گا ۔ اور واقعی اس نے نکال دیا حالانکہ اس زمانے میں ہتھوڑی اور چھینی کے سوا اور کوئی ذریعہ پتھر توڑنے کا نہیں تھا اور اب تو بہت ساری ''سرکاری'' اور نجی دونوں سیکٹروں میں دستیاب ہے کہ''کرپشن'' کو سرنگ بنانے میں ذرا بھی دشواری پیش نہیں آتی یہی وجہ ہے کہ ملک بھر میں ہر ''پہاڑ'' کے اندر سرنگوں کے جال بچھے ہوئے ہیں،کئی کئی پہاڑوں میں تو بھول بھلیاں بھی ہیں۔
ہمارے خیال میں تو یہ صاحب جنہوں نے کرپشن پر ناروا الزام تراشی اور منفی تنقید کرتے ہوئے ترقی کے دروازے بند کرنے کا الزام لگایا ہے یا تو کرپشن کے ساتھ ذاتی دشمنی رکھتے ہیں یا کرپشن نے ان کو کوئی نقصان پہنچایا ہے،اور یا پھر ان کو غلط فہمی ہوئی ان سڑکوں دروازے اور راستوں کے بند کرنے سے جو انگریزوں کے زمانے یعنی دور غلامی سے کھلے چلے آرہے تھے اور اب ان میں یا تو دیوار میں کھڑی کی جا چکی ہیں یا سیمنٹ کے سلیب رکھے گئے ہیں اور یا خار دار تار سے مزین کی گئی ہیں اور ضرور یہی بات ہو گی لیکن کرپشن کی جگہ ہم آپ کو قسمیہ یقین دلاتے ہیں کہ اس میں کرپشن کا بالکل بھی ہاتھ نہیں ہیٌ کرپشن بے چاری/ چارہ تو بند راستے کھولنے والوں میں ہے بلکہ ہم تو غور کر رہے ہیں اور کرپشن کے کچھ اور پرستار ہم سے متفق ہوئے تو اسے ''مفتاح الفاتحین'' کا خطاب کیوں نہ دیا جائے کہ کم از کم ہمیں تو ایسا کوئی تالا یا راستہ یا دروازہ معلوم نہیں جو اس سے نہ کھلا ہو۔
اس کے ہاتھ میں برکت ہی کچھ ایسی ہے کہ بند دروازے بند تالے اور بند راستے ہاتھ لگاتے ہی کھل جاتے ہیں بلکہ عام دروازوں تالوں کی تو بات ہی کچھ نہیں عقل کے ''تالے'' کھولنے میں بھی اسے بنارس والے پان سے بھی زیادہ موثر دیکھا گیا ہے، وہ سورج کے بارے میں کہا گیا ہے نا کہ جس ذرے کو دیکھا وہ تڑپتا نظر آیا ہے یہاں بھی کچھ ایسی ہی بات ہے
اک ہاتھ جو رکھا تو وہ کھلتا نظر آیا
جس راہ کو دیکھا وہ چمکتا نظر آیا
بلکہ ہمیں تو کچھ ایسا شبہ بھی ہے کہ وہ جو علی بابا کے مشہور الفاظ بتائے جاتے ہیں وہ بھی شاید یہی مفتاح المحاتیف ہی ہے ورنہ صرف الفاظ سے اتنے بڑے اور بھاری دروازے کو کھولنا قطعی ناممکن ہے نہ ہی اس زمانے میں کمپیوٹر اور آواز سے کھلنے والے دروازے ہوا کرتے تھے، ہمیں تو اس ''سم سم'' کے استعارے میں یہی ''صاحب زادہ'' دکھائی دے رہے ہیں کہ ایسا کام کسی اور کا ہو ہی نہیں سکتا ۔ ممکن اس زمانے میں یہی زبان رائج ہو کیوں کہ داستان میں اس وقت کی زبان اور اصطلاحات کا کوئی ذکر نہیں ہے بلکہ اس کے موجودہ زیر استعمال الفاظ بھی کم و بیش یہی ہیں سم سم کی جگہ آج کل ''کم کم'' کے الفاظ بولے جاتے ہیں اور وہ بھی جب یہ اپنی جادوئی انگلیوں سے دروازہ کھول چکا ہو۔
دروازہ کھولنے کے لیے یہ مروجہ طریقے کے مطابق خاص قسم کے نقیشن کاغذ استعمال میں لاتا ہے، بہرحال ہم اس غلط الزام اور ناروا منفی تنقید کی پرزور تردید کرتے ہیں کہ کرپشن پر دروازے بند کرنے کا الزام قطعی بے بنیاد ہے اور خاص طور پر ترقی کے دروازے کھولنے میں تو یہ ریکارڈ ہولڈر ہے ورنہ جا کر دیکھیے کہ جو اس کے مریدان باصفا ہیں وہ کتنی ترقی کر چکے ہیں،کاریں، بنگلے، ہوائی جہاز کیا کچھ نہیں پایا انھوں نے، یہ ترقی کے دروازے ان پر کس نے چوپٹ کھولے ہیں ۔ ہمارے اس ممدوح کرپشن نے، ورنہ کہیں بھیک مانگ رہے ہوتے۔
ہم نے کہا تھا کہ تھا، کچھ ایسا ویسا نہیں بلکہ ڈنکے کی چوٹ پر اور ببانگ دہل کہا تھا کہ اے لوگو، اس بے گناہ بے خطا معصوم مظلوم اور مفموم ''کرپشن'' کا پیچھا چھوڑ دیںکیونکہ ہم اس کی حمایت میں کھڑے ہو چکے ہیں اور اگر آیندہ کسی نے اس بے چارے کو کچھ برا بھلا کہا تو ہم اس شخص کو ''سوا برا بھلا'' کہیں گے، آخر اس بے چارے نے کسی کا کیا بگاڑا ہے بلکہ اس کا تو جدی پشتی پیشہ ''سنوارنا'' ہے اور اپنے اس نیک کام میں اتنا مخلص ہے کہ آج کل تو بے چارا اوورٹائم لگا دیتا ہے، سو آج ہم اپنے اس اعلان کا بھرم رکھتے ہوئے اس پر پھینکی جانے والی اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کے لیے تیار ہیں، کوئی صاحب ہیں، ہو گا کوئی نام جو ڈائریکٹر بھی ہیں یا کچھ اور بھی ہو سکتے ہیں لیکن اتنا ہمیں پتہ چلا ہے کہ کسی حساب کتاب وغیرہ سے تعلق رکھتے ہیں۔
انھوں نے کرپشن پرسراسر ناروا، بے بنیاد اور منفی تنقید یا قسم کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ کرپشن ترقی کے راستے بند کر دیتی ہے، خیر ان سے تو ہم بعد میں نمٹیں گے پہلے اس اخبار والے کے تو دو چار تھپڑ لگا دیں جس نے اچھی خاصی مردانہ چیز کو مونث بنایا ہے، بے چاری مونثات کا کرپشن سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، یہ درست ہے کہ بعض اوقات ''صاحب'' کی کارستانیوں کے پیچھے بیگمات کا ہاتھ ہوتا ہے یا صاحب بیگم صاحبہ کو کرپشن کے لیے بحیثیت کورئیر استعمال کرتے ہیں لیکن یہ خال خال کے زمرے میں آتا ہے، کم از کم ہم نے تو آج تک کسی بھی خاتون کے بارے میں نہیں سنا ہے کہ اس نے کرپشن کی ہو، جہاں جہاں بھی کسی پوسٹ پر کوئی خاتون ہوتی ہے، وہ نک چڑھی ہو سکتی ہے، سخت ہو سکتی ہے، بدلحاظ ہو سکتی ہے بزرگوںکی حتیٰ کہ قائداعظم کا بھی احترام نہیں کرتی، لیکن کرپٹ بالکل نہیں ہوتی بلکہ بے چاریاں اس بری لت کی وجہ سے بدنام بھی ہو جاتی ہیں۔
فلموں اور ڈراموں میں بھی ہم نے اکثر یہی دیکھا ہے کہ خواتین شوہروں یا بیٹوں یا محبوبوں کی کرپشن کی سخت مخالفت کرتی ہیں، اکثر اوقات توکرپٹ سے اپنا ہر ناطقہ بھی توڑ لیتی ہیں اور پھر کرپشن تو ویسے بھی انگریزی لفظ ہے یعنی پرایا، اور پرائے کو مردانے میں بٹھایا جاتا ہے زنانے میں نہیں۔ خیر یہ جھگڑا تو ہمارا اردودانوں سے ہے کہ وہ سراسر مردوں کے ایک کرتوت کو زنانہ کیوں بنا رہے ہیں لیکن جو ان صاحب نے اتنا بڑا الزام کرپشن بے چارے پر لگایا ہے کیا یہ انصاف ہے، اگر وہ یہ کہتے کہ کرپشن ترقی کے راستے بلکہ دروازے کھڑکیاں اور روشن دان کھول دیتا ہے تو مان بھی لیتے لیکن ''بند کر دیتی ہے'' ۔
کب کہاں کیسے اور کون سا دروازہ اس بے چارے نے بند کیا ہے، چلو بے چاری کہہ دیں جب آپ اسے مونث بنانے پر تلے ہوئے ہیں تو ۔۔۔؟ بلکہ اچھا تو یہ ہو گا کہ ہم یہ جھگڑا ہی مٹا دیں اور ابن صفی کی طرح بے چاری/ چارہ لکھا اور بولا کریں، جہاں تو ہم نے دیکھا ہے کہ یہ بے چاری/ چارہ بند دروازے کھولتاہے یا کھولتی ہے اور یہ کوئی سنی سنائی یا ہوائی ہم نہیں اڑا رہے ہیں، ہم نے خود دیکھا ہے کہ کتنے پکے پکے دروازے یہ کھولتا ہے یا کھولتی ہے بلکہ ہم نے اسے دیواروں میں بھی دروازے اور کھڑکیاں لگاتے دیکھا ہے بلکہ دیواریں کیا بڑے بڑے سنگین پہاڑوںمیں بھی اسے سرنگیں بناتے دیکھا ہے اور ان سرنگوں میں آج کل دونوں اطراف سے اچھی خاصی جی ٹی روڈ جتنی ٹریفک رواں دواں ہے ورنہ خود جا کر ٹریفک والوں سے پتہ کرلیجیے کہ ٹریفک رواں دواں ہے کہ نہیں۔ یہ تو گویا سورج کو انگلی سے چھپانے کی کوشش کی گئی ہے کہ کرپشن ترقی کے دروازے بند کر دیتی ہے۔
اس پر ہمیں ایک چھوٹی سی کہانی یاد آرہی ہے۔ کہتے ہیں جب انگریزوں کے زمانے میں ملاکنڈ کے پہاڑ میں سرنگ کھود کر نہر نکالنے کا منصوبہ بنایا جارہا تھا تو ایک دیسی افسر نے انگریز انجینئر سے پوچھا کہ اتنی لمبی سرنگ اتنے سخت پہاڑ میں کیسے نکالی جا سکے گی اور کون نکالے گا؟ تو انگریز افسر نے جیب سے ایک سکہ نکال کر دکھاتے ہوئے کہا کہ یہ نکالے گا ۔ اور واقعی اس نے نکال دیا حالانکہ اس زمانے میں ہتھوڑی اور چھینی کے سوا اور کوئی ذریعہ پتھر توڑنے کا نہیں تھا اور اب تو بہت ساری ''سرکاری'' اور نجی دونوں سیکٹروں میں دستیاب ہے کہ''کرپشن'' کو سرنگ بنانے میں ذرا بھی دشواری پیش نہیں آتی یہی وجہ ہے کہ ملک بھر میں ہر ''پہاڑ'' کے اندر سرنگوں کے جال بچھے ہوئے ہیں،کئی کئی پہاڑوں میں تو بھول بھلیاں بھی ہیں۔
ہمارے خیال میں تو یہ صاحب جنہوں نے کرپشن پر ناروا الزام تراشی اور منفی تنقید کرتے ہوئے ترقی کے دروازے بند کرنے کا الزام لگایا ہے یا تو کرپشن کے ساتھ ذاتی دشمنی رکھتے ہیں یا کرپشن نے ان کو کوئی نقصان پہنچایا ہے،اور یا پھر ان کو غلط فہمی ہوئی ان سڑکوں دروازے اور راستوں کے بند کرنے سے جو انگریزوں کے زمانے یعنی دور غلامی سے کھلے چلے آرہے تھے اور اب ان میں یا تو دیوار میں کھڑی کی جا چکی ہیں یا سیمنٹ کے سلیب رکھے گئے ہیں اور یا خار دار تار سے مزین کی گئی ہیں اور ضرور یہی بات ہو گی لیکن کرپشن کی جگہ ہم آپ کو قسمیہ یقین دلاتے ہیں کہ اس میں کرپشن کا بالکل بھی ہاتھ نہیں ہیٌ کرپشن بے چاری/ چارہ تو بند راستے کھولنے والوں میں ہے بلکہ ہم تو غور کر رہے ہیں اور کرپشن کے کچھ اور پرستار ہم سے متفق ہوئے تو اسے ''مفتاح الفاتحین'' کا خطاب کیوں نہ دیا جائے کہ کم از کم ہمیں تو ایسا کوئی تالا یا راستہ یا دروازہ معلوم نہیں جو اس سے نہ کھلا ہو۔
اس کے ہاتھ میں برکت ہی کچھ ایسی ہے کہ بند دروازے بند تالے اور بند راستے ہاتھ لگاتے ہی کھل جاتے ہیں بلکہ عام دروازوں تالوں کی تو بات ہی کچھ نہیں عقل کے ''تالے'' کھولنے میں بھی اسے بنارس والے پان سے بھی زیادہ موثر دیکھا گیا ہے، وہ سورج کے بارے میں کہا گیا ہے نا کہ جس ذرے کو دیکھا وہ تڑپتا نظر آیا ہے یہاں بھی کچھ ایسی ہی بات ہے
اک ہاتھ جو رکھا تو وہ کھلتا نظر آیا
جس راہ کو دیکھا وہ چمکتا نظر آیا
بلکہ ہمیں تو کچھ ایسا شبہ بھی ہے کہ وہ جو علی بابا کے مشہور الفاظ بتائے جاتے ہیں وہ بھی شاید یہی مفتاح المحاتیف ہی ہے ورنہ صرف الفاظ سے اتنے بڑے اور بھاری دروازے کو کھولنا قطعی ناممکن ہے نہ ہی اس زمانے میں کمپیوٹر اور آواز سے کھلنے والے دروازے ہوا کرتے تھے، ہمیں تو اس ''سم سم'' کے استعارے میں یہی ''صاحب زادہ'' دکھائی دے رہے ہیں کہ ایسا کام کسی اور کا ہو ہی نہیں سکتا ۔ ممکن اس زمانے میں یہی زبان رائج ہو کیوں کہ داستان میں اس وقت کی زبان اور اصطلاحات کا کوئی ذکر نہیں ہے بلکہ اس کے موجودہ زیر استعمال الفاظ بھی کم و بیش یہی ہیں سم سم کی جگہ آج کل ''کم کم'' کے الفاظ بولے جاتے ہیں اور وہ بھی جب یہ اپنی جادوئی انگلیوں سے دروازہ کھول چکا ہو۔
دروازہ کھولنے کے لیے یہ مروجہ طریقے کے مطابق خاص قسم کے نقیشن کاغذ استعمال میں لاتا ہے، بہرحال ہم اس غلط الزام اور ناروا منفی تنقید کی پرزور تردید کرتے ہیں کہ کرپشن پر دروازے بند کرنے کا الزام قطعی بے بنیاد ہے اور خاص طور پر ترقی کے دروازے کھولنے میں تو یہ ریکارڈ ہولڈر ہے ورنہ جا کر دیکھیے کہ جو اس کے مریدان باصفا ہیں وہ کتنی ترقی کر چکے ہیں،کاریں، بنگلے، ہوائی جہاز کیا کچھ نہیں پایا انھوں نے، یہ ترقی کے دروازے ان پر کس نے چوپٹ کھولے ہیں ۔ ہمارے اس ممدوح کرپشن نے، ورنہ کہیں بھیک مانگ رہے ہوتے۔