’’حالانکہ اس سے فرق توپڑتا نہیں کوئی‘‘
بہت بڑے آدمی ہیں صرف پوزیشن سے نہیں بلکہ انسان بھی بڑے ہیں...
skhaliq@express.com.pk
''آج کل بڑی خبریں شائع کررہے ہو بورڈ کی، گڈ ویلڈن، ایسے ہی اپنے فرائض کے ساتھ انصاف کرتے رہو، تم کرکٹ حکام کی کئی خامیاں سامنے لا چکے، پی ایس ایل کمپنی پر تحفظات بھی پڑھے، مگر اس سب پرمیں صرف ایک مصرعہ پڑھوں گا اس کی خوبی یہ ہے کہ بیشتر اشعار میں لگا دو زبردست فٹ ہو جاتا ہے ، وہ مصرعہ ہے ''حالانکہ اس سے فرق تو پڑتا نہیں کوئی'' اچھا اب میری فلائٹ کا وقت ہو رہا ہے بعد میں بات کروں گا''۔
یہ میری اپنے ایک دوست یا کرم فرما آپ کچھ بھی کہہ لیں ان سے کل ہونے والی بات چیت کا ذکر ہے، بہت بڑے آدمی ہیں صرف پوزیشن سے نہیں بلکہ انسان بھی بڑے ہیں، کرکٹ کا شوق مجھ سے تعلق کا باعث بنا، دیگر بڑی شخصیات کی طرح وہ یہ ظاہر بھی نہیں کرتے کہ ''مجھے اردو پڑھنا نہیں آتی'' گوکہ انھوں نے صرف ایک مصرعہ پڑھا لیکن وہ پورے پی سی بی کے دل کی بات کہہ گئے، بورڈ حکام کو بھی یہ پتا ہے کہ ان کے بارے میں جتنی خبریں آئیں کچھ نہیں ہونے والا، خبروں کا اثر عام آدمی پر ہوتا ہے اور وہ کچھ نہیں کر سکتا، اگر اس کے بس میں کچھ ہوتا تو سب سے پہلے اپنے مسائل حل کرتا، جوبااختیار لوگ ہیں انھوں نے اپنے منظور نظر افراد کو کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے لیکن ایسا ہمیشہ نہیں چلے گا کبھی نہ کبھی تبدیلی تو آئے گی۔
ہم میڈیا والے بھی صرف یہ سوچ کر ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھ سکتے کہ کچھ نہیں ہونے والا ہم کیوں لکھیں،ایک عام صحافی یہ خبر لگا سکتا ہے کہ فلاں جگہ کی سڑک ٹوٹی ہوئی ہے خود جا کر اس کی مرمت نہیں کر سکتا، ہمارا کام صرف نشاہدہی کرنا ہے وہ کرتے رہیں گے، یقین مانیے اگر میڈیا کا خوف نہ ہو تو ملک میں اس وقت جو حالات ہیں اس سے بھی کئی زیادہ مسائل سامنے آئیں،ابھی غلط کام کرنے والوں کو تھوڑا سا دھڑکا تو لگا رہتا ہے کہ کہیں میڈیا کو پتا نہ چل جائے، خیر ہمارا تعلق کھیلوں سے ہے تو خود کو اسی تک محدود رکھتے ہیں،گذشتہ دنوں وفاقی وزارت برائے بین الصوبائی رابطہ کو کرکٹ بورڈ کی جانب سے ارسال کردہ چند دستاویزات میرے ہاتھ لگیں، گوکہ مجھے تھوڑا بہت تو اندازہ تھا مگر پھر بھی اسے دیکھ کر حیران رہ گیا، کس بے دردی سے پی سی بی کے پیسے لٹائے جا رہے ہیں۔
ایک طرف آپ ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ نہ ہونے کا رونا روتے ہوئے آئی سی سی کے سامنے ہاتھ پھیلا رہے ہیں دوسری جانب اپنے شاہانہ اخراجات ختم نہیں ہو رہے، ''کرکٹ لیکس'' کا ابھی میں نے صرف تھوڑا سا حصہ ہی شائع کیا تو طوفان مچ گیا ابھی مکمل کہانیاں سامنے آئیں گی تو کیا ہوگا؟ ''ایکسپریس'' میں خبریں پڑھ کر یقیناً آپ جان گئے ہوں گے کہ حکام کے غیرملکی دوروں پر کتنی زیادہ رقم خرچ کی ، یہ تو صرف چند ہی ٹورز اور آفیشلزکا ذکر ہے، مجھے لگتا ہے کہ مکمل تفصیلات ارسال نہیں کی گئیں، یہ بھی حقیقت ہے کہ کئی دورے آئی سی سی و دیگر میٹنگز کیلیے بھی تھے، البتہ بعض آفیشلز غیرضروری طور پر گھومنے پھرنے گئے جس کی تفصیلات جلد سامنے آئیں گی، اب آپ ہی بتائیں کہ بلٹ پروف بسیں خریدنے کیلیے بورڈ کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی کے دبئی جانے کی کیا منطق تھی؟ اسی طرح گورننگ بورڈ ارکان کو اہلیہ کے ساتھ بزنس کلاس کا ٹکٹ ، فائیواسٹارہوٹل میں رہائش اورڈیلی الاؤنس دے کر 71 لاکھ روپے خرچ کر کے کرکٹ کی کیا خدمت کی گئی؟
ان میں سے بیچارے اعجاز فاروقی کو تو پتا ہی نہیں تھا کہ جس ٹور پر وہ گئے ہی نہیں اس کیلیے ان کے نام پر تقریباً پانچ لاکھ روپے نکال لیے گئے تھے،رقم جانے کا ذکر تھا واپس آنے کا نہیں ہوا، بورڈ کے پاس پیسہ کرکٹرز کی وجہ سے آیا اور یہ انہی پر خرچ ہونا چاہیے،آپ نوعمر کھلاڑیوں کو آسٹریلیا ، نیوزی لینڈ بھیج کر دو کروڑ خرچ کر دیں کوئی کچھ نہیں کہے گا کیونکہ وہ ہمارا مستقبل ہیں، کچھ سیکھیں گئے تو وہ ملک کے ہی کام آئے گا،گورننگ بورڈ ارکان نے وہاں جا کر کیا کام کیا؟ ہاں انھیں مختلف فوائد دینے کا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ سب میٹنگ میں حکام کی ہاں میں ہاں ملاتے رہتے ہیں اسی لیے پی ایس ایل کمپنی جیسے متنازع فیصلوں پر کوئی شور سنائی نہیں دیتا، اب تو انھوں نے مزید ٹورز کی بھی منظوری تقریباً لے ہی لی ہے، اسی طرح یہ جو قائمہ کمیٹیاں بار بار بورڈ حکام کو اسلام آباد بلا کر نان ایشوز پر سوالات پوچھتی ہیں ان کے ارکان کو بھی دورے کرانے کی بات چل رہی ہے، ویسے بھی وہ بیچارے بے ضرر ہی ہیں ان کا ویژن یہ ہے کہ کرکٹ کی تباہی سے کوئی مطلب نہیں سوال پوچھتے ہیں ''پش اپس کیوں لگائے'' میری صرف یہی درخواست ہے کہ چند دن کے اخبارات ہی پڑھ لیا کریں تاکہ ایشوز کا کچھ تو پتا چل جائے۔ ہمیں ٹیسٹ ٹیم پر ناز تھا مگر اب وہ بھی چوتھی پوزیشن پر آ چکی۔
ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں تو کارکردگی ویسے ہی روبہ زوال ہے، نیا ٹیلنٹ سامنے نہیں آنے دیا جا رہا، شہریارخان کی بھی کوشش ہے کہ مصباح تاحیات کپتانی کرتے رہیں، سلیکشن کمیٹی بھی مخصوص کھلاڑیوں کے سوا کسی کو موقع دینے کے موڈ میں نہیں، پی ایس ایل سے فائدے کی بات ہوئی مگر اب اگلا ایڈیشن آ رہا ہے پہلے کی آڈٹ رپورٹ ہی سامنے نہ آ سکی،بورڈ میں بڑے عہدوں پر غیر ضروری افراد کی بھرمار ہے،ڈومیسٹک کرکٹ کا معیار گر رہا ہے، انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کا فی الحال کوئی امکان نظر نہیں آتا، یہ چند بڑے مسائل ہیں انھیں حل کرنے کا کوئی نہیں سوچ رہا، پہلے ان پر توجہ دینی چاہیے۔
آخر میں آپ لوگوں کی ای میلز کا شکریہ، ٹویٹر پر ایک قاری واجد ملک نے نیشنل اسٹیڈیم کی حالت زار پر کالم لکھنے کو کہا، ماضی میں کئی بار لکھ چکا اب پھر جلد انشا اﷲ ایسا کروں گا، اویس ندیم نے میچ فکسنگ کے بارے میں آواز اٹھانے کا کہا، ضرور اس مسئلے پر بھی جب موقع ملا دوبارہ لکھوں گا کیونکہ یہی ہمارا کام ہے، چاہے لوگ جتنا بھی کہیں ''حالانکہ اس سے فرق تو پڑتا نہیں کوئی''۔
یہ میری اپنے ایک دوست یا کرم فرما آپ کچھ بھی کہہ لیں ان سے کل ہونے والی بات چیت کا ذکر ہے، بہت بڑے آدمی ہیں صرف پوزیشن سے نہیں بلکہ انسان بھی بڑے ہیں، کرکٹ کا شوق مجھ سے تعلق کا باعث بنا، دیگر بڑی شخصیات کی طرح وہ یہ ظاہر بھی نہیں کرتے کہ ''مجھے اردو پڑھنا نہیں آتی'' گوکہ انھوں نے صرف ایک مصرعہ پڑھا لیکن وہ پورے پی سی بی کے دل کی بات کہہ گئے، بورڈ حکام کو بھی یہ پتا ہے کہ ان کے بارے میں جتنی خبریں آئیں کچھ نہیں ہونے والا، خبروں کا اثر عام آدمی پر ہوتا ہے اور وہ کچھ نہیں کر سکتا، اگر اس کے بس میں کچھ ہوتا تو سب سے پہلے اپنے مسائل حل کرتا، جوبااختیار لوگ ہیں انھوں نے اپنے منظور نظر افراد کو کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے لیکن ایسا ہمیشہ نہیں چلے گا کبھی نہ کبھی تبدیلی تو آئے گی۔
ہم میڈیا والے بھی صرف یہ سوچ کر ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھ سکتے کہ کچھ نہیں ہونے والا ہم کیوں لکھیں،ایک عام صحافی یہ خبر لگا سکتا ہے کہ فلاں جگہ کی سڑک ٹوٹی ہوئی ہے خود جا کر اس کی مرمت نہیں کر سکتا، ہمارا کام صرف نشاہدہی کرنا ہے وہ کرتے رہیں گے، یقین مانیے اگر میڈیا کا خوف نہ ہو تو ملک میں اس وقت جو حالات ہیں اس سے بھی کئی زیادہ مسائل سامنے آئیں،ابھی غلط کام کرنے والوں کو تھوڑا سا دھڑکا تو لگا رہتا ہے کہ کہیں میڈیا کو پتا نہ چل جائے، خیر ہمارا تعلق کھیلوں سے ہے تو خود کو اسی تک محدود رکھتے ہیں،گذشتہ دنوں وفاقی وزارت برائے بین الصوبائی رابطہ کو کرکٹ بورڈ کی جانب سے ارسال کردہ چند دستاویزات میرے ہاتھ لگیں، گوکہ مجھے تھوڑا بہت تو اندازہ تھا مگر پھر بھی اسے دیکھ کر حیران رہ گیا، کس بے دردی سے پی سی بی کے پیسے لٹائے جا رہے ہیں۔
ایک طرف آپ ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ نہ ہونے کا رونا روتے ہوئے آئی سی سی کے سامنے ہاتھ پھیلا رہے ہیں دوسری جانب اپنے شاہانہ اخراجات ختم نہیں ہو رہے، ''کرکٹ لیکس'' کا ابھی میں نے صرف تھوڑا سا حصہ ہی شائع کیا تو طوفان مچ گیا ابھی مکمل کہانیاں سامنے آئیں گی تو کیا ہوگا؟ ''ایکسپریس'' میں خبریں پڑھ کر یقیناً آپ جان گئے ہوں گے کہ حکام کے غیرملکی دوروں پر کتنی زیادہ رقم خرچ کی ، یہ تو صرف چند ہی ٹورز اور آفیشلزکا ذکر ہے، مجھے لگتا ہے کہ مکمل تفصیلات ارسال نہیں کی گئیں، یہ بھی حقیقت ہے کہ کئی دورے آئی سی سی و دیگر میٹنگز کیلیے بھی تھے، البتہ بعض آفیشلز غیرضروری طور پر گھومنے پھرنے گئے جس کی تفصیلات جلد سامنے آئیں گی، اب آپ ہی بتائیں کہ بلٹ پروف بسیں خریدنے کیلیے بورڈ کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی کے دبئی جانے کی کیا منطق تھی؟ اسی طرح گورننگ بورڈ ارکان کو اہلیہ کے ساتھ بزنس کلاس کا ٹکٹ ، فائیواسٹارہوٹل میں رہائش اورڈیلی الاؤنس دے کر 71 لاکھ روپے خرچ کر کے کرکٹ کی کیا خدمت کی گئی؟
ان میں سے بیچارے اعجاز فاروقی کو تو پتا ہی نہیں تھا کہ جس ٹور پر وہ گئے ہی نہیں اس کیلیے ان کے نام پر تقریباً پانچ لاکھ روپے نکال لیے گئے تھے،رقم جانے کا ذکر تھا واپس آنے کا نہیں ہوا، بورڈ کے پاس پیسہ کرکٹرز کی وجہ سے آیا اور یہ انہی پر خرچ ہونا چاہیے،آپ نوعمر کھلاڑیوں کو آسٹریلیا ، نیوزی لینڈ بھیج کر دو کروڑ خرچ کر دیں کوئی کچھ نہیں کہے گا کیونکہ وہ ہمارا مستقبل ہیں، کچھ سیکھیں گئے تو وہ ملک کے ہی کام آئے گا،گورننگ بورڈ ارکان نے وہاں جا کر کیا کام کیا؟ ہاں انھیں مختلف فوائد دینے کا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ سب میٹنگ میں حکام کی ہاں میں ہاں ملاتے رہتے ہیں اسی لیے پی ایس ایل کمپنی جیسے متنازع فیصلوں پر کوئی شور سنائی نہیں دیتا، اب تو انھوں نے مزید ٹورز کی بھی منظوری تقریباً لے ہی لی ہے، اسی طرح یہ جو قائمہ کمیٹیاں بار بار بورڈ حکام کو اسلام آباد بلا کر نان ایشوز پر سوالات پوچھتی ہیں ان کے ارکان کو بھی دورے کرانے کی بات چل رہی ہے، ویسے بھی وہ بیچارے بے ضرر ہی ہیں ان کا ویژن یہ ہے کہ کرکٹ کی تباہی سے کوئی مطلب نہیں سوال پوچھتے ہیں ''پش اپس کیوں لگائے'' میری صرف یہی درخواست ہے کہ چند دن کے اخبارات ہی پڑھ لیا کریں تاکہ ایشوز کا کچھ تو پتا چل جائے۔ ہمیں ٹیسٹ ٹیم پر ناز تھا مگر اب وہ بھی چوتھی پوزیشن پر آ چکی۔
ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں تو کارکردگی ویسے ہی روبہ زوال ہے، نیا ٹیلنٹ سامنے نہیں آنے دیا جا رہا، شہریارخان کی بھی کوشش ہے کہ مصباح تاحیات کپتانی کرتے رہیں، سلیکشن کمیٹی بھی مخصوص کھلاڑیوں کے سوا کسی کو موقع دینے کے موڈ میں نہیں، پی ایس ایل سے فائدے کی بات ہوئی مگر اب اگلا ایڈیشن آ رہا ہے پہلے کی آڈٹ رپورٹ ہی سامنے نہ آ سکی،بورڈ میں بڑے عہدوں پر غیر ضروری افراد کی بھرمار ہے،ڈومیسٹک کرکٹ کا معیار گر رہا ہے، انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کا فی الحال کوئی امکان نظر نہیں آتا، یہ چند بڑے مسائل ہیں انھیں حل کرنے کا کوئی نہیں سوچ رہا، پہلے ان پر توجہ دینی چاہیے۔
آخر میں آپ لوگوں کی ای میلز کا شکریہ، ٹویٹر پر ایک قاری واجد ملک نے نیشنل اسٹیڈیم کی حالت زار پر کالم لکھنے کو کہا، ماضی میں کئی بار لکھ چکا اب پھر جلد انشا اﷲ ایسا کروں گا، اویس ندیم نے میچ فکسنگ کے بارے میں آواز اٹھانے کا کہا، ضرور اس مسئلے پر بھی جب موقع ملا دوبارہ لکھوں گا کیونکہ یہی ہمارا کام ہے، چاہے لوگ جتنا بھی کہیں ''حالانکہ اس سے فرق تو پڑتا نہیں کوئی''۔