فیضان پیرزادہ بھی چل بسے

فیضان پیرزادہ اپنے کام کا جادوگر تھا۔ اس نے جس طرح سے پاکستان کے کونے کونے میں چھپا ٹیلنٹ تلاش کیا۔

فیضان پیرزادہ نے گائیکی، مصوری، اور سازندوں میں ملک کے کونے کونے سے ٹیلنٹ تلاش کیا۔ فوٹو : فائل

پاکستان میں فنون لطیفہ کے مختلف شعبوں کے فروغ کے حوالے سے رفیع پیر تھیٹر ورکشاپ کا نام بہت مستند ہے۔

جس انداز سے اس ادارے نے پاکستان کے کونے کونے سے فوک فنکاروں کو بین الاقوامی سطح پراپنے فن کے اظہارکا موقع فراہم کیا اورانتہائی دہشت زدہ ماحول کے باوجود ملک کا سافٹ امیج متعارف کروایااس کی مثال نہیں ملتی۔ ایک طرف تو رفیع پیر تھیٹر ورکشاپ کے پلیٹ فارم پر پاکستان میں گرینڈ میوزک فیسٹیولزکے انعقاد کا سلسلہ شروع ہوا تودوسری جانب پوری دنیا میں بھی ہمارے فنکاروں کوخوب سراہا گیا۔ اس کامیابی کا سارا کریڈٹ رفیع پیرتھیٹرکے روح رواں فیضان پیرزادہ کوجاتا تھا۔

فیضان پیرزادہ 54برس کی عمرمیں جمعرات اورجمعہ کی درمیانی شب حرکت قلب بند ہوجانے سے وفات پاگئے۔ انہیں سینکڑوں افرادکی موجودگی میں مقامی قبرستان میں سپردخاک کردیا گیا ہے۔ ان کے انتقال کی خبرجنگل کی آگ کی طرح ملک اوربیرون ملک پھیل گئی۔ ان کی صلاحیتوں کو سمجھنے والے لوگ یہ خبرسنتے ہی افسردہ ہوگئے اورجنازے میں شرکت کیلئے پیروزکیفے پہنچنے لگے۔ اس موقع پرسائیں ظہور، فیصل رحمان، علی عظمت، مہرین سید، رفاقت علی خاں، گونگا سائیں، سجاد گل، نیئرعلی دادا، عاصمہ جہانگیر، امتیاز عالم، منوبھائی ، سلیمہ ہاشمی، امجد اسلام امجد، مدیحہ گوہر، شاہد محمود ندیم، سرمد صہبائی، فرہاد ہمایوں، ذولفی اورلاہورمیں فرنچ قونصلیٹ کے ڈائریکٹرڈومنک سکوبرائے سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد موجود تھی۔ مرحوم نے پسماندگان میں ایک بیٹا اوربیٹی چھوڑی ہے۔ فیضان پیرزادہ کی وفات پرجہاں فنکاروں کی بڑی تعداد اشکبارتھی وہیں جنازے میں شریک اہم شخصیات نے فنون لطیفہ کے مختلف شعبوں کے فروغ کیلئے ان کی بے پناہ خدمات کو شاندارالفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔

فنکاروں کا کہنا تھا کہ فیضان پیرزادہ جیسا فن کا دلدادہ اب شاید ہی کوئی دوسرا آئے گا۔ جس طرح سے پاکستان کے فن وثقافت کوفیضان پیرزادہ نے پیش کیا وہ کوئی دوسرا نہیں کرسکتا۔ ویسے توپیرزادہ فیملی کے تمام لوگ ہی ان کی ٹیم کا حصہ تھے اوراپنے اپنے شعبے میں خوب مہارت اوردلچسپی سے کام کرتے تھے لیکن ان سب کو جس ذہانت سے فیضان پیرزادہ کمانڈ کرتے تھے اس کانتیجہ زندہ دل لوگوں کے شہرلاہورکے اوپن ایئر کلچرل کمپلیکس میں منعقدہ فیسٹیولز کو دیکھ کر ہو جاتا تھا۔ ان فیسٹیولز نے زندہ دلان لاہور کو ایک نئی پہچان دی اور گھٹن زدہ ماحول میں تفریح کے ایسے شاہکار ایونٹ سے محظوظ ہونے کیلئے چاروں صوبوں سے لوگ خاص طور پر لاہور پہنچا کرتے تھے۔ اس زبردست کاوش کے پیچھے فیضان پیرزادہ ہی ہواکرتے تھے جن کی سربراہی میں ٹیم کامیاب فیسٹیولز کا انعقاد کیا کرتی تھی۔


فیضان پیرزادہ 4اکتوبر 1958ء کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے نیشنل کالج آف آرٹس سے فیشن ڈیزائن کے شعبے میں ڈگری حاصل کی اوراس کے بعد 80ء کی دہائی میں نیویارک میں ایک آرٹ گیلری قائم کی۔ آرٹ گیلری کو اچھا رسپانس مل رہا تھا لیکن وہ اپنے ملک کیلئے کچھ کرنے کاخواب سجائے بیٹھے تھے اور پاکستان میں رہ کرمنفرد کام کرنا چاہتے تھے۔ امریکا میں چند ماہ گزارنے کے بعد فیضان پیرزادہ نے پاکستان آنے کا فیصلہ کیااورپاکستان میں رفیع پیرتھیٹر ورکشاپ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔ اس ادارے کے پلیٹ فارم سے انہوں نے پہلی مرتبہ گرینڈ میوزک فیسٹیول کاآئیڈیا دیا اورپھر اپنی بے پناہ صلاحیتوں کے ساتھ ایک ایسا فیسٹیول ڈیزائن کیا جس کو پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے لوگوں نے بہت سراہا۔ اس فیسٹیول میں پاکستان سمیت دنیا کے بیشترممالک کے فنکاروں نے حصہ لیا۔ یہ شاید وہ پہلا موقع تھا جب مغربی ممالک سمیت دنیا کے دیگرممالک کے فنکاروں کی بڑی تعداد نے پاکستان میں ایک فیسٹیول میں پرفارم کیا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ فیسٹیول میں جہاں ہمارے ملک کے معروف فنکاروں نے حصہ لیا وہیں ایسے علاقائی فنکاروںکو بھی اپنے فن کے اظہارکا موقع دیا گیا جو عرصہ دراز سے اپنے علاقے کے کلچرکو پیش کرنے کیلئے پلیٹ فارم تلاش کررہے تھے۔

فیضان پیرزادہ نے گائیکی، مصوری، اور سازندوں میں ملک کے کونے کونے سے ایسا ٹیلنٹ تلاش کیا اورپھر ان کو اس منفرد انداز سے پیش کیا کہ آج وہ لوگ پاکستان کی پہچان بنے بیٹھے ہیں۔ چاروں صوبوں کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے فنکار اپنے خطے، قبیلے کی عکاسی کرتے ہوئے جب فیسٹیول میں پرفارم کرنے کیلئے پہنچے توان کے ذریعے لوگوںکو بہت کچھ جاننے کا موقع ملا۔ انہوں نے پاکستان میں فیسٹیولزکواس خوبصورتی سے پیش کیا کہ مغربی ممالک کے ساتھ ساتھ ہمارے پڑوسی ملک کے فنکاروںکی بڑی تعداد بھی لاہور پہنچنے لگی اور یہاں پرفارم کرکے انہیں بہت اچھا محسوس ہوتا تھا۔ فیضان پیرزادہ نے پپٹری (پتلی تماشا) کو بھی بھرپورانداز سے پاکستان میں متعارف کروایا۔وہ پہلے پاکستانی تھے جنہوں نے یہاں پپٹری میوزیم قائم کیا۔ وہ پاکستان کے ہی نہیں بلکہ پپٹری کی عالمی تنظیم ''یونیما'' کے بھی صدر تھے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں فنون لطیفہ کے مختلف شعبوں میں گراں قدر خدمات انجام دینے پرتمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔ اس کے علاوہ دنیا کے بیشترممالک کی طرف سے بھی فیضان پیرزادہ کو خصوصی اعزازات دیئے گئے۔

فیضان پیرزادہ کی وفات پران کے بھائی عثمان پیرزادہ کا کہنا تھا کہ فیضان پیرزادہ اپنے کام کا جادوگر تھا۔ اس نے جس طرح سے پاکستان کے کونے کونے میں چھپا ٹیلنٹ تلاش کیا اورپھران کوپروموٹ کیا اس کی دوسری مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے رفیع پیرتھیٹر کے پلیٹ فارم سے پاکستانی فن اورثقافت کے فروغ کیلئے وہ کاوش کی جو آرٹس کونسلوں نے بھی آج تک نہیں کی۔ بہت سے فنکارآج پوری دنیا میں پاکستان کی نمائندگی کررہے ہیں اوران کومتعارف کروانے کیلئے فیضان نے اہم کردارادا کیا۔ وہ فن اورفنکارکو پروموٹ کرنے کیلئے ہروقت مصروف رہتا تھا۔ اس کی وفات سے پیدا ہونے والا خلا کبھی پر نہیں ہو سکتا۔ رفیع پیرتھیٹر ورکشاپ کی میڈیا ڈائریکٹر تسنیم پیرزادہ نے کہا کہ فیضان بہت قابل انسان تھا۔ وہ جس طرح سے فن کو سمجھتا تھا اوراس کے ذریعے پاکستان کانام روشن کرنا چاہتاتھا وہ اس میںبہت کامیاب رہا۔ حالانکہ ہمارے فیسٹیولز کو ناکام بنانے کیلئے جس طرح کی کوششیں کی گئی وہ اس کے باوجود امید رکھتا تھا اورآئندہ برس کے لئے نئے فیسٹیولز ڈیزائن کرچکا تھا۔ وہ فن اورفنکاروں کو دیوانہ تھا۔ اس نے میرے والد اورہماری فیملی کے نام کو جس مقام پرپہنچا دیا ہے یہ صرف اسی کا کام تھا۔ میں سمجھتی ہوں کہ یہ ہماری فیملی کا ہی نہیں بلکہ ہمارے ملک کا بہت بڑا نقصان ہے۔

سائیں ظہورنے اس موقع پرکہا کہ میں آج دنیا کے بیشترممالک میں پرفارم کرنے کے لئے جاتا ہوں جس کا سہرا فیضان پیرزادہ کے سرجاتا ہے۔ وہ فنکارنوازانسان تھے۔ انہوں نے جس طرح سے مجھے اپنا فن متعارف کروانے کا موقع دیا اس طرح کا پلیٹ فارم مجھے کبھی نہیں مل سکتا۔ میری دعا ہے کہ اللہ پاک اس عظیم انسان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے بچوں اورفیملی کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی ہمت دے۔ اسی طرح مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے فنکاروں نے بھی فیضان پیرزادہ کے انتقال کو بہت بڑا نقصان قراردیتے ہوئے مرحوم کی روح کے درجات کی بلندی کیلئے خصوصی دعا کی ہے۔ آمین
Load Next Story