غیر سفارتی رویہ پر بھارت کو دنیا بھر میں شرمندگی کا سامنا
عالمی میڈیا تو درکنار پاکستانی میڈیا سے بھی سرتاج عزیز کو بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
اشرف غنی جو پاکستان میں بھی رہے ہیں وہ اب اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی زبان استعمال کر رہے ہیں۔ فوٹو:فائل
بھارت نے ایک بار پھر پاکستان کے خلاف انتہاپسندی کا ثبوت دیتے ہوئے حالیہ ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس میں پاکستانی ریاستی وفد کے ساتھ ناروا سلوک کیا ہے جس پر بھارت کو پوری دنیا میں سبکی کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے۔ بھارت کے غیر سفارتی رویے پر دنیا بھر میں تنقید ہو رہی ہے۔ بھارت کی جانب سے پاکستانی وفد کو یرغمال بنانے کی کوشش کرتے ہوئے نہ صرف انہیں ہوٹل تک محدود کر دیا گیا بلکہ ان پر بے جا پابندیاں بھی لگائی گئیں۔
پاکستان سے کوریج کے لئے جانے والے میڈیا کو بھی پابند کیا گیا اور انہیں بھی ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس کے شرکاء تک رسائی نہیں دی گئی۔ عالمی میڈیا تو درکنار پاکستانی میڈیا سے بھی سرتاج عزیز کو بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی جس کا اعتراف سرتاج عزیز نے پریس کانفرنس کے دوران بھی کیا کہ بھارت میں انہیں نہ تو ہوٹل میں کسی سے ملنے دیا گیا اور نہ ہی پریس کانفرنس کرنے کی اجازت دی گئی۔ تاہم پاکستان نے بھی بھارتی شیڈول پر عمل نہ کرتے ہوئے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
سرتاج عزیز کے بھارت جانے پر وہاں موجود تمام رکن ممالک نے پاکستان کو سراہا ہے۔ بھارت کی بھرپور مزاحمت کے باوجود پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف قربانیوں اور افغان مہاجرین رکھنے پر سراہا گیا ہے جبکہ دیکھا جائے تو ہمیں وہاں بھارت اکیلا نظر آیا جب کہ پاکستان نے شرکت کر کے سمجھداری کا ثبوت دیا ہے۔
پاکستان میں سرتاج عزیز کی بھارت روانگی پر اپوزیشن کی جانب سے تنقید کی گئی اور بھارتی سلوک پر بھی سیاسی جماعتوں نے سیاست چمکانے کی کوشش کی مگر افغانستان خطے کے لئے جہاں اہم ہے وہیں پاکستان کے لئے بھی پڑوسی ہونے کے ناطے اہم ہے جس پر پاکستان نے کانفرنس میں شرکت کرکے دنیا کو آگا ہ کر دیا ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن کے لئے کتنا سنجیدہ ہے مگر ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس میں افغانی صدر نے پاکستا ن کے خلاف جو زبان استعمال کی ہے اس پر افغانی صدر کو پاکستان میں بھرپور جواب دیا گیا ہے۔
اشرف غنی جو پاکستان میں بھی رہے ہیں وہ اب اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی زبان استعمال کر رہے ہیں۔ پاکستان نے ان کے بیان کی نہ صرف مذمت کی ہے بلکہ کھل کر بتا دیا ہے کہ پاکستان میں جتنے بھی دہشتگردی کے واقعات ہو رہے ہیں ان کا لنک افغانستان سے مل رہا ہے۔ اس لئے افغانستان اپنی سرحد کو مضبو ط کرے۔ پاکستان نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین کسی بھی ملک میں دہشتگردی کے لئے استعما ل نہیں ہونے دے گا۔
ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں سرتاج عزیز کی مختلف عالمی رہنماوں سے ملاقات ہوئی ہے جن میں بھارتی وزیر اعظم اور کئی دیگر لوگ بھی شامل تھے جو کہ صرف علیک سلیک تک ہی محدود رہی ہے۔ پاکستان کی جانب سے کسی بھی بھارتی رہنماء سے ملاقات کی خواہش نہیں کی گئی تھی جو بھارت کے ساتھ پاکستان کی سرد مہری کا ثبوت ہے۔ وہاں سرتاج عزیز نے ایک فقرے میں اپنا پیغام دے دیا ہے کہ جب سرحدوں پر کشیدگی ہو گی تو دونوں ممالک کیسے تجارت کر سکیں گے اور کیسے ترقی ہوگی۔
دوسری جانب حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان جاری عدالتی جنگ بھی اہم مرحلے میں داخل ہو گئی ہے اور سپریم کورٹ میں منگل کو دوبارہ پاناما لیکس کیس کی سماعت ہوئی اور اس کے لئے وزیراعظم کے صاحبزادوں کی جانب سے اضافی دستاویزات بھی جمع کرائی گئیں۔ تاہم دونوں فریق اپنی اپنی کامیابی کے دعوے کرنے میں مصروف ہیں۔ ججز کے ریمارکس کی اپنی اپنی تشریح کی جا رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے ججز کے ریمارکس کی تشریخ کی بنیا د پر خیال کیا جا رہا ہے کہ وزیراعظم سرخرو ہونگے اور مخالفیں کا خیال ہے کہ وزیراعظم کے خلاف فیصلہ ہوتا نظر آتا ہے۔
عدالت آج پھر کیس کی سماعت کرے گی، دیکھیں کیا ہوتا ہے؟۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن میں پاناما لیکس کے حوالے سے عمران خان اور جہانگیر ترین کی نااہلی کے لئے سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر بھی پیر کو سماعت ہوئی۔ عمران خان کی جانب سے جواب جمع کرادیا گیا ہے جس میں ان پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بتایا ہے کہ بنی گالہ کا گھر انہوں نے جمائما خان سے ادھار لے کر خریدا تھا اور وہ ادھار لندن فلیٹ کو فروخت کر کے اتارا۔
جہانگیر ترین نے بھی ان پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کر دیا ہے اور اس کیس میں ایک نئی چیز سامنے آئی ہے کہ جہانگیر ترین کے کاغذات نامزدگی جو لگائے گئے ہیں وہ پرانے ہیں جس کا مطلب ہے کہ ان پر الزامات پرانے لگائے گئے ہیں جس پر الیکشن کمیشن کے ممبران اور چیف الیکشن کمشنر کے سخت ریمارکس آئے ہیں کہ سپیکر نے بغیر دیکھے ہی صرف مفروضوں پر ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوادیا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے وکلاء نے الیکشن کمیشن سے درخواست کی کہ وہ جہانگیر ترین سے مزید معلومات منگوائے جس پر الیکشن کمیشن نے کہاکہ اگر آپ کے پاس معلومات مکمل نہیں تھی تو آپ نے ریفرنس کیوں دائر کیا۔ الیکشن کمیشن نے دونوں ریفرنس پندرہ دسمبر تک ملتوی کرتے ہوئے فیصلہ دینے کا بھی عندیہ دیا ہے۔ پندرہ دسمبر کو عمران خان کے دلائل بھی سنے جائیں گے جس کے بعد فیصلہ سنائے جانے کا امکان ہے۔
انہی بدلتے حالات کے پیش نظر سیاسی جماعتوں نے بھی اپنی کمر کس لی ہے اور انتخابی تیاریوں میں تیزی لے آئی ہیں۔ ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں نے وفاقی کی بجائے پنجاب کو تخت مشق بنا لیا ہے اور پوری توجہ وہاں پر مرکوز کر دی ہے۔ بڑا صوبہ ہونے کی وجہ سے سب کی کوشش ہے کہ وہاں اپنی پذیرائی بڑھائیں۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداریہو یا پاک سر زمین کے مصطفی کمال ہو سب لاہور میںڈیرے جمائے بیٹھے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے یوم تاسیس سے خطاب سے لے کر اب تک لاہور میں ڈیرا ڈالا ہوا ہے اوروہ بھی لوگوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ وہ لاہور میں بیٹھ کر پارٹی کو لاہور سے فعال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور سیاسی معاملات میں پیپلزپارٹی تحریک انصاف سے آگے نکلتی نظر آرہی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر حکومت ان کے چار مطالبات نہیں مانتی تو وہ پھر گو نثار کی جگہ گو نواز گو کا نعرہ لگائیں گے۔
ستائیس دسمبر بھی قریب آتی نظر آرہی ہے اور ستائیس دسمبر کو پیپلزپارٹی نے اپنا اگلا کارڈ بھی شو کرنا ہے۔ پیپلزپارٹی کا انداز جارحانہ نظر آرہا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے پنجاب سے ہی اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ سال قومی اسمبلی میں آرہے ہیں جہاں وہ پارلیمانی سیاست میں قدم رکھیں گے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ابھی سے ہی نیا وزیراعظم بننے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اعلان وقت سے بہت پہلے کر دیا گیا ہے جس سے ملک میں ایک نئی بحث کا بھی آغا ز ہو گیا ہے۔
دوسری طرف تحریک انصاف کی پوری توجہ سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن میں جاری پاناما لیکس کے کیسوں پر ہے اور وہاں سے کوئی فیصلہ آنے کے بعد ہی تحریک انصا ف کی کوئی نئی پالیسی سامنے آئے گی۔ ایک بات ثابت ہوگئی ہے کہ ملک میں تمام جماعتوں نے الیکشن کی تیاری شروع کر دی ہے۔
پاکستان سے کوریج کے لئے جانے والے میڈیا کو بھی پابند کیا گیا اور انہیں بھی ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس کے شرکاء تک رسائی نہیں دی گئی۔ عالمی میڈیا تو درکنار پاکستانی میڈیا سے بھی سرتاج عزیز کو بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی جس کا اعتراف سرتاج عزیز نے پریس کانفرنس کے دوران بھی کیا کہ بھارت میں انہیں نہ تو ہوٹل میں کسی سے ملنے دیا گیا اور نہ ہی پریس کانفرنس کرنے کی اجازت دی گئی۔ تاہم پاکستان نے بھی بھارتی شیڈول پر عمل نہ کرتے ہوئے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
سرتاج عزیز کے بھارت جانے پر وہاں موجود تمام رکن ممالک نے پاکستان کو سراہا ہے۔ بھارت کی بھرپور مزاحمت کے باوجود پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف قربانیوں اور افغان مہاجرین رکھنے پر سراہا گیا ہے جبکہ دیکھا جائے تو ہمیں وہاں بھارت اکیلا نظر آیا جب کہ پاکستان نے شرکت کر کے سمجھداری کا ثبوت دیا ہے۔
پاکستان میں سرتاج عزیز کی بھارت روانگی پر اپوزیشن کی جانب سے تنقید کی گئی اور بھارتی سلوک پر بھی سیاسی جماعتوں نے سیاست چمکانے کی کوشش کی مگر افغانستان خطے کے لئے جہاں اہم ہے وہیں پاکستان کے لئے بھی پڑوسی ہونے کے ناطے اہم ہے جس پر پاکستان نے کانفرنس میں شرکت کرکے دنیا کو آگا ہ کر دیا ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن کے لئے کتنا سنجیدہ ہے مگر ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس میں افغانی صدر نے پاکستا ن کے خلاف جو زبان استعمال کی ہے اس پر افغانی صدر کو پاکستان میں بھرپور جواب دیا گیا ہے۔
اشرف غنی جو پاکستان میں بھی رہے ہیں وہ اب اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی زبان استعمال کر رہے ہیں۔ پاکستان نے ان کے بیان کی نہ صرف مذمت کی ہے بلکہ کھل کر بتا دیا ہے کہ پاکستان میں جتنے بھی دہشتگردی کے واقعات ہو رہے ہیں ان کا لنک افغانستان سے مل رہا ہے۔ اس لئے افغانستان اپنی سرحد کو مضبو ط کرے۔ پاکستان نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین کسی بھی ملک میں دہشتگردی کے لئے استعما ل نہیں ہونے دے گا۔
ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں سرتاج عزیز کی مختلف عالمی رہنماوں سے ملاقات ہوئی ہے جن میں بھارتی وزیر اعظم اور کئی دیگر لوگ بھی شامل تھے جو کہ صرف علیک سلیک تک ہی محدود رہی ہے۔ پاکستان کی جانب سے کسی بھی بھارتی رہنماء سے ملاقات کی خواہش نہیں کی گئی تھی جو بھارت کے ساتھ پاکستان کی سرد مہری کا ثبوت ہے۔ وہاں سرتاج عزیز نے ایک فقرے میں اپنا پیغام دے دیا ہے کہ جب سرحدوں پر کشیدگی ہو گی تو دونوں ممالک کیسے تجارت کر سکیں گے اور کیسے ترقی ہوگی۔
دوسری جانب حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان جاری عدالتی جنگ بھی اہم مرحلے میں داخل ہو گئی ہے اور سپریم کورٹ میں منگل کو دوبارہ پاناما لیکس کیس کی سماعت ہوئی اور اس کے لئے وزیراعظم کے صاحبزادوں کی جانب سے اضافی دستاویزات بھی جمع کرائی گئیں۔ تاہم دونوں فریق اپنی اپنی کامیابی کے دعوے کرنے میں مصروف ہیں۔ ججز کے ریمارکس کی اپنی اپنی تشریح کی جا رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے ججز کے ریمارکس کی تشریخ کی بنیا د پر خیال کیا جا رہا ہے کہ وزیراعظم سرخرو ہونگے اور مخالفیں کا خیال ہے کہ وزیراعظم کے خلاف فیصلہ ہوتا نظر آتا ہے۔
عدالت آج پھر کیس کی سماعت کرے گی، دیکھیں کیا ہوتا ہے؟۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن میں پاناما لیکس کے حوالے سے عمران خان اور جہانگیر ترین کی نااہلی کے لئے سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر بھی پیر کو سماعت ہوئی۔ عمران خان کی جانب سے جواب جمع کرادیا گیا ہے جس میں ان پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بتایا ہے کہ بنی گالہ کا گھر انہوں نے جمائما خان سے ادھار لے کر خریدا تھا اور وہ ادھار لندن فلیٹ کو فروخت کر کے اتارا۔
جہانگیر ترین نے بھی ان پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کر دیا ہے اور اس کیس میں ایک نئی چیز سامنے آئی ہے کہ جہانگیر ترین کے کاغذات نامزدگی جو لگائے گئے ہیں وہ پرانے ہیں جس کا مطلب ہے کہ ان پر الزامات پرانے لگائے گئے ہیں جس پر الیکشن کمیشن کے ممبران اور چیف الیکشن کمشنر کے سخت ریمارکس آئے ہیں کہ سپیکر نے بغیر دیکھے ہی صرف مفروضوں پر ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوادیا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے وکلاء نے الیکشن کمیشن سے درخواست کی کہ وہ جہانگیر ترین سے مزید معلومات منگوائے جس پر الیکشن کمیشن نے کہاکہ اگر آپ کے پاس معلومات مکمل نہیں تھی تو آپ نے ریفرنس کیوں دائر کیا۔ الیکشن کمیشن نے دونوں ریفرنس پندرہ دسمبر تک ملتوی کرتے ہوئے فیصلہ دینے کا بھی عندیہ دیا ہے۔ پندرہ دسمبر کو عمران خان کے دلائل بھی سنے جائیں گے جس کے بعد فیصلہ سنائے جانے کا امکان ہے۔
انہی بدلتے حالات کے پیش نظر سیاسی جماعتوں نے بھی اپنی کمر کس لی ہے اور انتخابی تیاریوں میں تیزی لے آئی ہیں۔ ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں نے وفاقی کی بجائے پنجاب کو تخت مشق بنا لیا ہے اور پوری توجہ وہاں پر مرکوز کر دی ہے۔ بڑا صوبہ ہونے کی وجہ سے سب کی کوشش ہے کہ وہاں اپنی پذیرائی بڑھائیں۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداریہو یا پاک سر زمین کے مصطفی کمال ہو سب لاہور میںڈیرے جمائے بیٹھے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے یوم تاسیس سے خطاب سے لے کر اب تک لاہور میں ڈیرا ڈالا ہوا ہے اوروہ بھی لوگوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ وہ لاہور میں بیٹھ کر پارٹی کو لاہور سے فعال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور سیاسی معاملات میں پیپلزپارٹی تحریک انصاف سے آگے نکلتی نظر آرہی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر حکومت ان کے چار مطالبات نہیں مانتی تو وہ پھر گو نثار کی جگہ گو نواز گو کا نعرہ لگائیں گے۔
ستائیس دسمبر بھی قریب آتی نظر آرہی ہے اور ستائیس دسمبر کو پیپلزپارٹی نے اپنا اگلا کارڈ بھی شو کرنا ہے۔ پیپلزپارٹی کا انداز جارحانہ نظر آرہا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے پنجاب سے ہی اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ سال قومی اسمبلی میں آرہے ہیں جہاں وہ پارلیمانی سیاست میں قدم رکھیں گے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ابھی سے ہی نیا وزیراعظم بننے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اعلان وقت سے بہت پہلے کر دیا گیا ہے جس سے ملک میں ایک نئی بحث کا بھی آغا ز ہو گیا ہے۔
دوسری طرف تحریک انصاف کی پوری توجہ سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن میں جاری پاناما لیکس کے کیسوں پر ہے اور وہاں سے کوئی فیصلہ آنے کے بعد ہی تحریک انصا ف کی کوئی نئی پالیسی سامنے آئے گی۔ ایک بات ثابت ہوگئی ہے کہ ملک میں تمام جماعتوں نے الیکشن کی تیاری شروع کر دی ہے۔