باصلاحیت کرکٹرز ایسوسی ایشنز سیاست کی بھینٹ چڑھنے لگے
کتنے ہی کھلاڑی آئے اور سفارش اور رشوت نہ ہونے کی وجہ سے بن کھلے مرجھا گئے ۔
عام اورغریب گھرانے کا نوجوان انٹرنیشنل کرکٹر بننے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ فوٹو : فائل
''میں اپنی ماں کے ارمانوں کا خون نہیں کر سکتا، میں یہ کیسے بھول جائوں کہ اس نے میرے مستقبل کے کیا کیا سہانے خواب دیکھ رکھے ہیں۔
گھر میں غربت، بھوک، ننگ، افلاس کے منحوس سائیوں میں دکھ، تکلیفیں اور مصیبتیں جھیل کر اس نے مجھے لاہور کا راستہ دکھایا۔ سہاگ تو اس کا پہلے ہی اجڑ چکا تھا،گھر کی چیزیں یہاں تک کہ اپنا زیورتک بیچ کر میری ضرورتیں پوری کرتی رہی، اپنی ماں کے سپنوں کو سچ کر دکھانے کے لئے میں نے بھی کیا کچھ نہیں کیا، کئی کئی گھنٹے ٹریننگ کی، شدید سردی اور سخت چلچلاتی دھوپ میں بھی ساتھی کھلاڑیوں میں سب سے پہلے کلب پہنچا، وکٹوں کی صفائی کی، ان پر رولر چلایا اور تو اور کلب عہدیداروںکی دن رات خدمت بھی کی۔کلبوں کے میچز کے بعد گریڈ ٹو میں بھی عمدہ کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہا تو سمجھنے لگا کہ اب میری منزل زیادہ دور نہیں اور میں اپنی ماں کے خوابوں کو عملی تعبیر دینے میں کامیاب ہو جائوں گا، اب کہا جا رہا ہے کہ کرکٹ میں تمہارا کوئی مستقبل نہیں، اپنی بوڑھی ماں کے پاس واپس لوٹ جائو۔'' یہ کہانی پنجاب کے دور دراز کے نواحی گائوں میں رہنے والے ایسے نوجوان کی ہے جوتین برس قبل انٹرنیشنل کرکٹر بننے کا عزم لئے زندہ دلوں کے شہرآیا ۔
رشید، مجید، نوید، صبور تم کچھ بھی ہو اگر سن سکتے ہو تو سنو تم جیسے کتنے ہی کھلاڑی آئے اور سفارش اور رشوت نہ ہونے کی وجہ سے بن کھلے مرجھا گئے اور پھر تاریکیاں، ویرانیاں، بے بسیاں ، طعنے ان کا مقدر بن گئے ۔اگر سچ کہوں تو سارا قصور ہی تمہارا ہے، تمہیں کس نے یہ ہمت دی تھی کہ تم اتنے بڑے بڑے خواب دیکھو،کبھی مخمل میں بھی ٹاٹ کا پیوند لگا ہے، تم کیا اور تمہاری اوقات ہی کیا، تمہیں توقومی ٹیم کی نمائندگی کا خواب دیکھنے کے جرم میں پاکستان کرکٹ بورڈ، ملک بھر کی کرکٹ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں اور قومی کرکٹرزکی موجودگی میں دیوار میں زندہ چنوا دینا چاہیے، یا پھر ہاتھی کے پائوں کے نیچے کچلوا دینا چاہیے، یا پھر سنہرے خواب دیکھنے کے جرم میں تمہاری آنکھوں میں گرماگرم سلائیاں ڈال دینی چاہیے تاکہ تمہارا حشر دیکھ کر تم جیسے اس کھیل کی طرف آنے کی جرات ہی نہ کر سکیں۔
بھولے بادشاہ تم کیا جانو کہ یہاں میرٹ کے نام پر کس قدر ارمانوں کا خون ہوتا ہے۔ تم نے یہ ہمت ہی کیوں اور کیسے کی کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کا حصہ بنو، تم کیا سمجھتے ہوکہ حصول پاکستان کے بعد اس ملک کے مامے، چاچے اور تائے تم ہی ہو، گھر کی دال روٹی پوری ہوتی نہیں اور چلے ہو قومی کرکٹرز بننے، یہ منہ اور مسور کی دال، تم بھول گئے کہ زمین اورآسمان بھی کبھی اکٹھے ہوئے ہیں، ایک تو تم جیسے خبطی کوکوئی ذرا سی لفٹ کرا دے تو بڑے بڑے خواب دیکھنا شروع کر دیتے ہو، احمق چند دن کرکٹرز کے ساتھ کھیلنے سے تم بھی کیا خود کو کھلاڑی سمجھنے لگے ہو۔ یہ خناس اپنے ذہن سے نکال کر دو کہ عمران خان، جاوید میانداد، عبدالقادر، وسیم اکرم یا وقار یونس کی طرح تم بھی اپنے کھیل سے ملک وقوم کا نام روشن کرو گے۔
کرکٹ غریبوں اورمتوسط طبقہ کا کھیل رہا ہے، کتنے ہی گریٹ کرکٹرز ایسے گزرے ہیں جنہوں نے جب اس کھیل کے خار دار میدان میں قدم رکھا تو ان کے گھروں میں دو وقت کا کھانا بھی ٹھیک سے نہ پکتا تھا، گرائونڈزتک پہنچنے کے لئے ویگن کا کرایہ ہوتا تھا اور نہ ہی پائوں میں پہننے کے لئے سپائیکس ہوتے تھے، تاہم جب وہ قومی ٹیم کا حصہ بنے تو ایسی شاندار کارکردگی دکھائی کہ آج تک ان کی بے مثال اور غیر معمولی پرفارمنس کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ چھوٹا منہ اور بڑی بات، اب کرکٹ مشن نہیں ، تجارت بن چکی ہے، مزدور طبقہ کی جگہ برگر کلاس نے لے لی ہے، لاہور ہی کی مثال لے لیں، ایلیٹ کلاس کے نوجوان کرکٹرز چم چم کرتی گاڑیوں میں اپنے کلبوں میں اس طرح پہنچتے ہیں کہ کٹ بیگس ان کے ذاتی ملازموں نے اٹھائے ہوتے ہیں۔امراء کے شہزادوں اور دلاروںکا کرکٹ کے کھیل کی طرف جھکائو کی وجہ سے بعض اکیڈمیوں اورکلبوں نے رجسٹریشن اور ماہانہ فیس اتنی زیادہ بڑھا دی ہے کہ عام آدمی کی اپنے بیٹے کوکرکٹرز بنانے کی خواہشات پیدا ہونے سے پہلے ہی دم توڑتی جا رہی ہیں۔
ملکی کرکٹ ایسوسی ایشنز میں رشوت، سفارش، اقربا پروری کی بیماری اس قدر پھیل چکی ہے کہ عام اور غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والاکوئی نوجوان انٹرنیشنل کرکٹر بننے کا سوچ بھی نہیں سکتا، اگر اپنی ہمت اور محنت کے بل بوتے آگے آ بھی جائے تو ڈومیسٹک سطح پر اس کے کیریئر پر فل سٹاپ لگا دیا جاتا ہے۔گراس روٹ سطح سے باصلاحیت کھلاڑیوں کی حوصلہ شکنی کی وجہ سے پاکستان میں اچھے کھلاڑی اس حد تک ناپید ہوتے جا رہے ہیں کہ اس وقت قومی ٹیم میں ایک بھی کھلاڑی ایسا نہیں جس کا موازنہ ماضی کے عظیم کھلاڑیوں کے ساتھ کیا جا سکے۔اگر ایک پلیئر ایک میچ میں عمدہ پرفارم کرنے میں کامیاب ہو ہی جاتا ہے تو آئندہ چار، پانچ میچوں میں اس کی کارکردگی زیرو پر آ جاتی ہے۔
جس کی اصل وجہ پرا نے چہروں کو ہی بار بار آزمایا جانا ہے، پی سی بی اظہر محمود کو دورئہ بھارت میں ٹیم میں شامل کرنے کا خواہشمند تھا لیکن اس نے پائونڈز اور ڈالروں کے لالچ میں یہ پیشکش ٹھکرا دی، بورڈ کو یہ فیصلہ کرتے وقت ضرور سوچنا چاہیے تھا کہ 2007ء کے ورلڈ کپ میں بھی اس کھلاڑی کو ورلڈکپ سکواڈ کا حصہ بنایاگیا اور گرین شرٹس پہلے ہی رائونڈ میں ٹائٹل کی دوڑ سے باہر ہو گئے۔ محمد یوسف کو ایک بار پھر ٹیسٹ ٹیم میں لانے کی باتیں ہو رہی ہیں، عمران نذیر نہ جانے کتنی بار ٹیم میں ان ، آئوٹ ہوئے، ایک بار پھر انہیں سکواڈ کا حصہ بنانے کے لئے دبائو بڑھایا گیا، پی سی بی جب تک ڈنگ ٹپائو کی پالیسی ختم نہیں کرے گا، اس وقت تک سٹارکھلاڑی سامنے نہیں آئیں گے۔
فرسٹ کلاس کرکٹ میں بھی چلے ہوئے کارتوسوں کو ہی بار بارآزمانے کا سلسلہ تاحال جاری ہے جس کا اندازہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے زیر اہتمام حالیہ پریزیڈنٹ کپ اور ٹوئنٹی20 کرکٹ ٹورنامنٹس سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ ٹوئنٹی20 کرکٹ میں 280 میں سے 135کھلاڑی وہی رہے جو سالہا سال سے مختلف ٹیموں کی نمائندگی کرتے آئے ہیں یا جن کا تعلق سابق ٹیسٹ کرکٹرز یا ایسوسی ایشنز میں شامل عہدیداروں کے قریبی رشتہ داروں سے ہے۔ملکی کرکٹ کی تاریخ میں بہاولپور سٹیگز نے پہلی بار ٹوئنٹی20 لیگ میں شرکت کی اور اس میں زیادہ تر وہ کھلاڑی موجود تھے جن کے پاس انٹرنیشنل تو درکنار ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کا تجربہ بھی بہت کم تھا لیکن نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل اس ٹیم نے مخالف ٹیموں کو چاروں شانے چت کرتے ہوئے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی۔ اس عمدہ پرفارمنس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، اگر کمی ہے توصرف اور صرف نیتوں کی ہے۔
پاکستان فاسٹ بولرز پیدا کرنے کی نرسری رہا ہے، فضل محمود، خان محمد، سرفراز نواز، عمران خان، وسیم اکرم، وقار یونس ، شعیب اختر، محمد عامر، محمد آصف دنیا بھر کے حریف بلے بازوں کے لئے دہشت کی علامت رہے ، اس وقت ہماری فاسٹ بولنگ کا یہ عالم ہے کہ ہمارے پاس90 یا اس سے زائد کی رفتار سے گیند کرنے والاایک بھی بولر موجود نہیں ہے مجبورا انٹرنیشنل میچوں میں اٹیک سپنرز سے کروانا پڑ رہا ہے۔اب بورڈ نے محمد اکرم کو بولنگ کوچ بنایا لیکن ان کے آنے کے بعد بولروں کی کارکردگی میں کوئی نمایاں تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی' نہیں معلوم نوجوان کھلاڑیوں کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا اور کہاں آ کر رہے گا تاہم راقم کو ایک واقعہ ضرور یاد آ رہا ہے۔ یہ 1954ء کی بات ہے کہ جب امریکی صدر آئزن ہاور کو ایک مشیر نے بتایا کہ ایرانی صدر ڈاکٹر مصدق اسلامی دنیا کا لیڈر بن کر ابھرا رہا ہے۔
آئزن ہاور نے چونک کر اس کی وجہ پوچھی تو مشیر نے کہا کہ کیونکہ ڈاکٹر مصدق نیک کردار، علم وفراست دکھنے والی اور دلوں کو جیتنے والی شخصیت ہے او وہ ایک سچا اور باکردار مسلمان ہے، امریکی صدر جو اس وقت گالف کھیل رہا تھا اپنی گیند کو زور دار ہٹ لگاتے ہوئے بولا، ڈاکٹر مصدق کو بتا دو کہ امریکی صدر گالف کا کتنا اچھی کھلاڑی ہے۔آئزن ہاورکے اس جملے کے چند روز کے بعد انتہائی شاطر کریمٹ کو سی آئی اے نے ایک ملین ڈالر لاگت سے تیار کر دہ''change the world'' نامی منصوبہ کے ساتھ ایران بھیجا اور پھر تاریخ نے دیکھاکہ وہ ڈاکٹر مصدق جو اسلامی دنیا میں تیزی سے مقبول ہو رہا تھا' گلیوں میں رسوا ہونے لگا۔
چوراہے پر اس کی تصویر کو جوتوں کے ہار پہنائے گئے اور کریمٹ چند دنوں بعد ایران سے واپس امریکہ پہنچا تو اس نے فائل کے اوپر لکھا کہ "the world has changed" کریمٹ نے صدر کو بتایا کہ بلاشبہ ڈاکٹر مصدق کی کردار پر شک نہیں کیا جا سکتا لیکن اپنی یوتھ پالیسیوں کی وجہ سے وہ نوجوان طبقے کا اعتماد کھو چکے تھے، اسی بات کو میں نے بھر پور کیش کروایا اورآپ نے دیکھا کہ کچھ ہی عرصہ میں نوجوانوں نے اپنے صدر کو عبرت کا نشان بنا دیا۔کسی بھی ملک کا مستقبل اس کے نوجوان ہوتے ہیں، اگر اس طبقے کو نظر انداز کر دیا جائے تو تباہی وبربادی اس ملک وقوم کا مقدر بن چکی ہے، بلاشبہ کرکٹ پاکستان کا مقبول ترین کھیل ہے لیکن باصلاحیت کرکٹرز کی اسی طرح دل جوئی اور نظر اندازی کا سلسلہ مزید کچھ عرصہ جاری رہا تو وہ وقت دور نہیں جب کرکٹ ایسوسی ایشنز کے عہدیدارو ںکو بھی ڈاکٹر مصدق بننے سے کوئی نہیں بچا پائے گا۔
گھر میں غربت، بھوک، ننگ، افلاس کے منحوس سائیوں میں دکھ، تکلیفیں اور مصیبتیں جھیل کر اس نے مجھے لاہور کا راستہ دکھایا۔ سہاگ تو اس کا پہلے ہی اجڑ چکا تھا،گھر کی چیزیں یہاں تک کہ اپنا زیورتک بیچ کر میری ضرورتیں پوری کرتی رہی، اپنی ماں کے سپنوں کو سچ کر دکھانے کے لئے میں نے بھی کیا کچھ نہیں کیا، کئی کئی گھنٹے ٹریننگ کی، شدید سردی اور سخت چلچلاتی دھوپ میں بھی ساتھی کھلاڑیوں میں سب سے پہلے کلب پہنچا، وکٹوں کی صفائی کی، ان پر رولر چلایا اور تو اور کلب عہدیداروںکی دن رات خدمت بھی کی۔کلبوں کے میچز کے بعد گریڈ ٹو میں بھی عمدہ کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہا تو سمجھنے لگا کہ اب میری منزل زیادہ دور نہیں اور میں اپنی ماں کے خوابوں کو عملی تعبیر دینے میں کامیاب ہو جائوں گا، اب کہا جا رہا ہے کہ کرکٹ میں تمہارا کوئی مستقبل نہیں، اپنی بوڑھی ماں کے پاس واپس لوٹ جائو۔'' یہ کہانی پنجاب کے دور دراز کے نواحی گائوں میں رہنے والے ایسے نوجوان کی ہے جوتین برس قبل انٹرنیشنل کرکٹر بننے کا عزم لئے زندہ دلوں کے شہرآیا ۔
رشید، مجید، نوید، صبور تم کچھ بھی ہو اگر سن سکتے ہو تو سنو تم جیسے کتنے ہی کھلاڑی آئے اور سفارش اور رشوت نہ ہونے کی وجہ سے بن کھلے مرجھا گئے اور پھر تاریکیاں، ویرانیاں، بے بسیاں ، طعنے ان کا مقدر بن گئے ۔اگر سچ کہوں تو سارا قصور ہی تمہارا ہے، تمہیں کس نے یہ ہمت دی تھی کہ تم اتنے بڑے بڑے خواب دیکھو،کبھی مخمل میں بھی ٹاٹ کا پیوند لگا ہے، تم کیا اور تمہاری اوقات ہی کیا، تمہیں توقومی ٹیم کی نمائندگی کا خواب دیکھنے کے جرم میں پاکستان کرکٹ بورڈ، ملک بھر کی کرکٹ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں اور قومی کرکٹرزکی موجودگی میں دیوار میں زندہ چنوا دینا چاہیے، یا پھر ہاتھی کے پائوں کے نیچے کچلوا دینا چاہیے، یا پھر سنہرے خواب دیکھنے کے جرم میں تمہاری آنکھوں میں گرماگرم سلائیاں ڈال دینی چاہیے تاکہ تمہارا حشر دیکھ کر تم جیسے اس کھیل کی طرف آنے کی جرات ہی نہ کر سکیں۔
بھولے بادشاہ تم کیا جانو کہ یہاں میرٹ کے نام پر کس قدر ارمانوں کا خون ہوتا ہے۔ تم نے یہ ہمت ہی کیوں اور کیسے کی کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کا حصہ بنو، تم کیا سمجھتے ہوکہ حصول پاکستان کے بعد اس ملک کے مامے، چاچے اور تائے تم ہی ہو، گھر کی دال روٹی پوری ہوتی نہیں اور چلے ہو قومی کرکٹرز بننے، یہ منہ اور مسور کی دال، تم بھول گئے کہ زمین اورآسمان بھی کبھی اکٹھے ہوئے ہیں، ایک تو تم جیسے خبطی کوکوئی ذرا سی لفٹ کرا دے تو بڑے بڑے خواب دیکھنا شروع کر دیتے ہو، احمق چند دن کرکٹرز کے ساتھ کھیلنے سے تم بھی کیا خود کو کھلاڑی سمجھنے لگے ہو۔ یہ خناس اپنے ذہن سے نکال کر دو کہ عمران خان، جاوید میانداد، عبدالقادر، وسیم اکرم یا وقار یونس کی طرح تم بھی اپنے کھیل سے ملک وقوم کا نام روشن کرو گے۔
کرکٹ غریبوں اورمتوسط طبقہ کا کھیل رہا ہے، کتنے ہی گریٹ کرکٹرز ایسے گزرے ہیں جنہوں نے جب اس کھیل کے خار دار میدان میں قدم رکھا تو ان کے گھروں میں دو وقت کا کھانا بھی ٹھیک سے نہ پکتا تھا، گرائونڈزتک پہنچنے کے لئے ویگن کا کرایہ ہوتا تھا اور نہ ہی پائوں میں پہننے کے لئے سپائیکس ہوتے تھے، تاہم جب وہ قومی ٹیم کا حصہ بنے تو ایسی شاندار کارکردگی دکھائی کہ آج تک ان کی بے مثال اور غیر معمولی پرفارمنس کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ چھوٹا منہ اور بڑی بات، اب کرکٹ مشن نہیں ، تجارت بن چکی ہے، مزدور طبقہ کی جگہ برگر کلاس نے لے لی ہے، لاہور ہی کی مثال لے لیں، ایلیٹ کلاس کے نوجوان کرکٹرز چم چم کرتی گاڑیوں میں اپنے کلبوں میں اس طرح پہنچتے ہیں کہ کٹ بیگس ان کے ذاتی ملازموں نے اٹھائے ہوتے ہیں۔امراء کے شہزادوں اور دلاروںکا کرکٹ کے کھیل کی طرف جھکائو کی وجہ سے بعض اکیڈمیوں اورکلبوں نے رجسٹریشن اور ماہانہ فیس اتنی زیادہ بڑھا دی ہے کہ عام آدمی کی اپنے بیٹے کوکرکٹرز بنانے کی خواہشات پیدا ہونے سے پہلے ہی دم توڑتی جا رہی ہیں۔
ملکی کرکٹ ایسوسی ایشنز میں رشوت، سفارش، اقربا پروری کی بیماری اس قدر پھیل چکی ہے کہ عام اور غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والاکوئی نوجوان انٹرنیشنل کرکٹر بننے کا سوچ بھی نہیں سکتا، اگر اپنی ہمت اور محنت کے بل بوتے آگے آ بھی جائے تو ڈومیسٹک سطح پر اس کے کیریئر پر فل سٹاپ لگا دیا جاتا ہے۔گراس روٹ سطح سے باصلاحیت کھلاڑیوں کی حوصلہ شکنی کی وجہ سے پاکستان میں اچھے کھلاڑی اس حد تک ناپید ہوتے جا رہے ہیں کہ اس وقت قومی ٹیم میں ایک بھی کھلاڑی ایسا نہیں جس کا موازنہ ماضی کے عظیم کھلاڑیوں کے ساتھ کیا جا سکے۔اگر ایک پلیئر ایک میچ میں عمدہ پرفارم کرنے میں کامیاب ہو ہی جاتا ہے تو آئندہ چار، پانچ میچوں میں اس کی کارکردگی زیرو پر آ جاتی ہے۔
جس کی اصل وجہ پرا نے چہروں کو ہی بار بار آزمایا جانا ہے، پی سی بی اظہر محمود کو دورئہ بھارت میں ٹیم میں شامل کرنے کا خواہشمند تھا لیکن اس نے پائونڈز اور ڈالروں کے لالچ میں یہ پیشکش ٹھکرا دی، بورڈ کو یہ فیصلہ کرتے وقت ضرور سوچنا چاہیے تھا کہ 2007ء کے ورلڈ کپ میں بھی اس کھلاڑی کو ورلڈکپ سکواڈ کا حصہ بنایاگیا اور گرین شرٹس پہلے ہی رائونڈ میں ٹائٹل کی دوڑ سے باہر ہو گئے۔ محمد یوسف کو ایک بار پھر ٹیسٹ ٹیم میں لانے کی باتیں ہو رہی ہیں، عمران نذیر نہ جانے کتنی بار ٹیم میں ان ، آئوٹ ہوئے، ایک بار پھر انہیں سکواڈ کا حصہ بنانے کے لئے دبائو بڑھایا گیا، پی سی بی جب تک ڈنگ ٹپائو کی پالیسی ختم نہیں کرے گا، اس وقت تک سٹارکھلاڑی سامنے نہیں آئیں گے۔
فرسٹ کلاس کرکٹ میں بھی چلے ہوئے کارتوسوں کو ہی بار بارآزمانے کا سلسلہ تاحال جاری ہے جس کا اندازہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے زیر اہتمام حالیہ پریزیڈنٹ کپ اور ٹوئنٹی20 کرکٹ ٹورنامنٹس سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ ٹوئنٹی20 کرکٹ میں 280 میں سے 135کھلاڑی وہی رہے جو سالہا سال سے مختلف ٹیموں کی نمائندگی کرتے آئے ہیں یا جن کا تعلق سابق ٹیسٹ کرکٹرز یا ایسوسی ایشنز میں شامل عہدیداروں کے قریبی رشتہ داروں سے ہے۔ملکی کرکٹ کی تاریخ میں بہاولپور سٹیگز نے پہلی بار ٹوئنٹی20 لیگ میں شرکت کی اور اس میں زیادہ تر وہ کھلاڑی موجود تھے جن کے پاس انٹرنیشنل تو درکنار ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کا تجربہ بھی بہت کم تھا لیکن نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل اس ٹیم نے مخالف ٹیموں کو چاروں شانے چت کرتے ہوئے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی۔ اس عمدہ پرفارمنس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، اگر کمی ہے توصرف اور صرف نیتوں کی ہے۔
پاکستان فاسٹ بولرز پیدا کرنے کی نرسری رہا ہے، فضل محمود، خان محمد، سرفراز نواز، عمران خان، وسیم اکرم، وقار یونس ، شعیب اختر، محمد عامر، محمد آصف دنیا بھر کے حریف بلے بازوں کے لئے دہشت کی علامت رہے ، اس وقت ہماری فاسٹ بولنگ کا یہ عالم ہے کہ ہمارے پاس90 یا اس سے زائد کی رفتار سے گیند کرنے والاایک بھی بولر موجود نہیں ہے مجبورا انٹرنیشنل میچوں میں اٹیک سپنرز سے کروانا پڑ رہا ہے۔اب بورڈ نے محمد اکرم کو بولنگ کوچ بنایا لیکن ان کے آنے کے بعد بولروں کی کارکردگی میں کوئی نمایاں تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی' نہیں معلوم نوجوان کھلاڑیوں کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا اور کہاں آ کر رہے گا تاہم راقم کو ایک واقعہ ضرور یاد آ رہا ہے۔ یہ 1954ء کی بات ہے کہ جب امریکی صدر آئزن ہاور کو ایک مشیر نے بتایا کہ ایرانی صدر ڈاکٹر مصدق اسلامی دنیا کا لیڈر بن کر ابھرا رہا ہے۔
آئزن ہاور نے چونک کر اس کی وجہ پوچھی تو مشیر نے کہا کہ کیونکہ ڈاکٹر مصدق نیک کردار، علم وفراست دکھنے والی اور دلوں کو جیتنے والی شخصیت ہے او وہ ایک سچا اور باکردار مسلمان ہے، امریکی صدر جو اس وقت گالف کھیل رہا تھا اپنی گیند کو زور دار ہٹ لگاتے ہوئے بولا، ڈاکٹر مصدق کو بتا دو کہ امریکی صدر گالف کا کتنا اچھی کھلاڑی ہے۔آئزن ہاورکے اس جملے کے چند روز کے بعد انتہائی شاطر کریمٹ کو سی آئی اے نے ایک ملین ڈالر لاگت سے تیار کر دہ''change the world'' نامی منصوبہ کے ساتھ ایران بھیجا اور پھر تاریخ نے دیکھاکہ وہ ڈاکٹر مصدق جو اسلامی دنیا میں تیزی سے مقبول ہو رہا تھا' گلیوں میں رسوا ہونے لگا۔
چوراہے پر اس کی تصویر کو جوتوں کے ہار پہنائے گئے اور کریمٹ چند دنوں بعد ایران سے واپس امریکہ پہنچا تو اس نے فائل کے اوپر لکھا کہ "the world has changed" کریمٹ نے صدر کو بتایا کہ بلاشبہ ڈاکٹر مصدق کی کردار پر شک نہیں کیا جا سکتا لیکن اپنی یوتھ پالیسیوں کی وجہ سے وہ نوجوان طبقے کا اعتماد کھو چکے تھے، اسی بات کو میں نے بھر پور کیش کروایا اورآپ نے دیکھا کہ کچھ ہی عرصہ میں نوجوانوں نے اپنے صدر کو عبرت کا نشان بنا دیا۔کسی بھی ملک کا مستقبل اس کے نوجوان ہوتے ہیں، اگر اس طبقے کو نظر انداز کر دیا جائے تو تباہی وبربادی اس ملک وقوم کا مقدر بن چکی ہے، بلاشبہ کرکٹ پاکستان کا مقبول ترین کھیل ہے لیکن باصلاحیت کرکٹرز کی اسی طرح دل جوئی اور نظر اندازی کا سلسلہ مزید کچھ عرصہ جاری رہا تو وہ وقت دور نہیں جب کرکٹ ایسوسی ایشنز کے عہدیدارو ںکو بھی ڈاکٹر مصدق بننے سے کوئی نہیں بچا پائے گا۔