حکومت کے ساڑھے چار سال اور ملکی معیشت
موجودہ حکومت کی آئینی مدت پوری ہو گئی لیکن ملک کو درپیش معاشی مشکلات میں کمی نہیں آ سکی۔
قمر زمان کائرہ وزیراعظم کو 4 سالہ حکومتی کارکردگی کے حوالے سے رپورٹ پیش کررہے ہیں۔ فوٹو: اے پی پی
وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے پارٹی کے ساڑھے چار سالہ دورِ حکومت میں مفاہمت، اصلاحات اور بحالی کے موضوع پر وزارت اطلاعات و نشریات کی طرف سے تیار کردہ کتاب کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے سیاسی معاملات کے ساتھ ساتھ معاشی کامیابیوں کا بھی ذکر کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم نے جو کچھ ان ساڑھے چار سالوں کے دوران کیا ہے، اسے کتاب میں لکھ دیا گیا ہے۔
ہم نے اقتدار سنبھالا تو 26لاکھ ٹن گندم بیرون ملک سے منگوائی جا رہی تھی یعنی درآمد کی جا رہی تھی، زرمبادلہ کے ذخائر 2 سے 3ہفتوں تک کے رہ گئے تھے لیکن ہم نے فوڈ سیکیورٹی کو یقینی بنایا ہے، آج پاکستان گندم برآمد کرنے والا ملک بن گیا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ ہم نے سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں ڈیڑھ سو فیصد تک کا اضافہ کیا ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے مفاہمتی سیاست کو فروغ دیا، سیاسی جماعتوں کو ساتھ لی کر چلے اور انتقام کی سیاست کا خاتمہ کر دیا۔
وزیراعظم نے اسٹرٹیجک ٹریڈ پالیسی فریم ورک 2012-15 کی تقریب سے بھی خطاب کیا ۔یہاں ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ تجارت کو معمول پر لانے سے پاکستان کے لیے نئے چیلنج پیدا ہوں گے، اس لیے اپنے برآمد کنندگان کو حکومت کی حمایت اور تعاون فراہم کرنا ہماری قومی ذمے داری ہے۔
موجودہ حکومت نے جب اقتدار سنبھالا تو بلاشبہ ملکی معیشت خاصی مشکل صورت حال سے دوچار ہے' گزشتہ ساڑھے چار سال کے دوران موجودہ حکومت نے اپنی بساط کے مطابق ملکی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے کام کیا ہے۔ وزیراعظم نے جو اعدادوشمار بتائے ہیں وہ اپنی جگہ درست ہو سکتے ہیں تاہم یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ گزشتہ ساڑھے چار برس میں عوام کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ خاص طور پر توانائی کے بحران میں معاشی سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ دہشت گردی میں بھی خوفناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ یوں ملک میں مہنگائی اور بے روز گاری بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے جاری کردہ سہ ماہی ڈویلپمنٹ فنانس ریویو رپورٹ میں ملکی برآمدات میں مزید کمی کی نشاندہی کرتے ہوئے اعتراف کیا گیا ہے کہ تجارتی خسارے میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان کی گرتی ہوئی اقتصادی گروتھ کا سبب لاء اینڈ آرڈر کی خراب صورتحال اور توانائی کا مسلسل بحران ہے، جس سے پاکستان کی برآمدات میں کمی کے باعث تجارتی خسارے میں اضافہ ہوا ہے۔ برآمدات میں کمی کی بڑی وجہ یورپین ممالک اور امریکا میں خراب معاشی صورتحال کے باعث پاکستانی اشیاء کی طلب میں کمی بھی ہے۔ ایس بی پی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ حکومت کی طرف سے قرضوں کے حصول کے باعث نجی سرمایہ کاری بڑھی ہے تاہم ملکی معاشی صورتحال ابھی بھی بحران کا شکار ہے۔ حکومت کی کمزور مالی پوزیشن اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی سے معیشت کو کافی نقصان پہنچا ہے۔
30 جون 2012ء کو ختم ہونے والی سہ ماہی میں زراعت اور انفراسٹرکچر کے شعبے میں ہونے والی سرمایہ کاری میں صرف 1.9 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا' ڈویلپمنٹ فنانس کا حجم 799 ارب روپے رہا' بینکوں کی جانب سے نجی شعبہ کو قرض کی فراہمی میں کافی کمی ریکارڈ کی گئی جب کہ غیر فعال قرضوں کے حجم میں 2.2 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ قبل ازیں وزیراعظم نے جمعہ کے دن 2012-15ء کے لیے تجارتی حکمت عملی کی منظوری دیدی جس کا مقصد برآمدات کے ہدف کو 95 ارب ڈالر تک پہنچانا ہے۔ وزیراعظم نے مختلف تجارتی شعبوں کے لیے 26.5 ارب روپے کی سبسڈی کا اعلان بھی کیا جو آیندہ تین سال کے دوران دی جائے گی۔ وزیراعظم نے سبسڈی کی منظوری کا اعلان سیکریٹری تجارت (منیر قریشی) کی طرف سے خصوصی ''پری زنٹیشن'' کے بعد دی۔ وزیراعظم کے لیے وزارت تجارت کی طرف سے یہ دوسری بریفنگ تھی۔
پہلی بریفنگ 28 اگست کو دی گئی تھی۔ وزیراعظم نے وزارت تجارت کو ہدایت کی کہ یہ تجارتی پالیسی حتمی منظوری کے لیے اگلی کابینہ کو بھی پیش کی جائے۔ اس صورت حال کو دیکھا جائے تو یہی نظر آتا ہے کہ معاشی میدان میں اتنا کام نہیں ہوا جتنا ہونا چاہیے تھا۔ گزشتہ ساڑھے چار سال میں سیاسی سطح پر یقینی طور پر اچھے کام ہوئے ہیں۔ حکومت نے مفاہمت کی پالیسی کو جاری رکھا ہے۔ اس وقت ملک میں کوئی سیاسی قیدی بھی موجود نہیں ہے لیکن ملک میں امن و امان کے قیام' معاشی سرگرمیوں میں تیزی اور روز گار کی فراہمی جیسے اہم مقاصد پوری طرح حاصل نہیں ہو سکے۔ زراعت کا شعبہ بھی اپنی پوٹینشل کے مطابق ترقی نہیں کر سکا۔ اب یہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرنے والی ہے اس کے بعد عام انتخابات ہو جائیں گے اور پھر نئی حکومت برسراقتدار آجائے گی۔ نئی حکومت بھی ماضی کی روایت پر عمل کرتے ہوئے یہی کہے گی کہ اسے قرضے اور مہنگائی ورثے میں ملے ہیں۔
اس قسم کے کلچر نے پاکستان کی معاشی ترقی کو متاثر کیا ہے۔ موجودہ حکومت بھی یہی کہتی رہی ہے کہ اسے معاشی مشکلات ورثے میں ملی ہیں۔ اس طرح موجودہ حکومت کی آئینی مدت پوری ہو گئی لیکن ملک کو درپیش معاشی مشکلات میں کمی نہیں آ سکی۔ بیروز گاری پہلے سے زیادہ بڑھ گئی' امن و امان پہلے سے زیادہ خراب ہوا' مہنگائی پہلے سے زیادہ بڑھی ہے۔ معاشی سرگرمیاں ماند پڑی ہیں ایسی صورت حال میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ گزشتہ ساڑھے چار برسوں میں متاثر کن ترقی ہوئی ہے۔
ہم نے اقتدار سنبھالا تو 26لاکھ ٹن گندم بیرون ملک سے منگوائی جا رہی تھی یعنی درآمد کی جا رہی تھی، زرمبادلہ کے ذخائر 2 سے 3ہفتوں تک کے رہ گئے تھے لیکن ہم نے فوڈ سیکیورٹی کو یقینی بنایا ہے، آج پاکستان گندم برآمد کرنے والا ملک بن گیا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ ہم نے سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں ڈیڑھ سو فیصد تک کا اضافہ کیا ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے مفاہمتی سیاست کو فروغ دیا، سیاسی جماعتوں کو ساتھ لی کر چلے اور انتقام کی سیاست کا خاتمہ کر دیا۔
وزیراعظم نے اسٹرٹیجک ٹریڈ پالیسی فریم ورک 2012-15 کی تقریب سے بھی خطاب کیا ۔یہاں ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ تجارت کو معمول پر لانے سے پاکستان کے لیے نئے چیلنج پیدا ہوں گے، اس لیے اپنے برآمد کنندگان کو حکومت کی حمایت اور تعاون فراہم کرنا ہماری قومی ذمے داری ہے۔
موجودہ حکومت نے جب اقتدار سنبھالا تو بلاشبہ ملکی معیشت خاصی مشکل صورت حال سے دوچار ہے' گزشتہ ساڑھے چار سال کے دوران موجودہ حکومت نے اپنی بساط کے مطابق ملکی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے کام کیا ہے۔ وزیراعظم نے جو اعدادوشمار بتائے ہیں وہ اپنی جگہ درست ہو سکتے ہیں تاہم یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ گزشتہ ساڑھے چار برس میں عوام کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ خاص طور پر توانائی کے بحران میں معاشی سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ دہشت گردی میں بھی خوفناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ یوں ملک میں مہنگائی اور بے روز گاری بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے جاری کردہ سہ ماہی ڈویلپمنٹ فنانس ریویو رپورٹ میں ملکی برآمدات میں مزید کمی کی نشاندہی کرتے ہوئے اعتراف کیا گیا ہے کہ تجارتی خسارے میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان کی گرتی ہوئی اقتصادی گروتھ کا سبب لاء اینڈ آرڈر کی خراب صورتحال اور توانائی کا مسلسل بحران ہے، جس سے پاکستان کی برآمدات میں کمی کے باعث تجارتی خسارے میں اضافہ ہوا ہے۔ برآمدات میں کمی کی بڑی وجہ یورپین ممالک اور امریکا میں خراب معاشی صورتحال کے باعث پاکستانی اشیاء کی طلب میں کمی بھی ہے۔ ایس بی پی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ حکومت کی طرف سے قرضوں کے حصول کے باعث نجی سرمایہ کاری بڑھی ہے تاہم ملکی معاشی صورتحال ابھی بھی بحران کا شکار ہے۔ حکومت کی کمزور مالی پوزیشن اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی سے معیشت کو کافی نقصان پہنچا ہے۔
30 جون 2012ء کو ختم ہونے والی سہ ماہی میں زراعت اور انفراسٹرکچر کے شعبے میں ہونے والی سرمایہ کاری میں صرف 1.9 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا' ڈویلپمنٹ فنانس کا حجم 799 ارب روپے رہا' بینکوں کی جانب سے نجی شعبہ کو قرض کی فراہمی میں کافی کمی ریکارڈ کی گئی جب کہ غیر فعال قرضوں کے حجم میں 2.2 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ قبل ازیں وزیراعظم نے جمعہ کے دن 2012-15ء کے لیے تجارتی حکمت عملی کی منظوری دیدی جس کا مقصد برآمدات کے ہدف کو 95 ارب ڈالر تک پہنچانا ہے۔ وزیراعظم نے مختلف تجارتی شعبوں کے لیے 26.5 ارب روپے کی سبسڈی کا اعلان بھی کیا جو آیندہ تین سال کے دوران دی جائے گی۔ وزیراعظم نے سبسڈی کی منظوری کا اعلان سیکریٹری تجارت (منیر قریشی) کی طرف سے خصوصی ''پری زنٹیشن'' کے بعد دی۔ وزیراعظم کے لیے وزارت تجارت کی طرف سے یہ دوسری بریفنگ تھی۔
پہلی بریفنگ 28 اگست کو دی گئی تھی۔ وزیراعظم نے وزارت تجارت کو ہدایت کی کہ یہ تجارتی پالیسی حتمی منظوری کے لیے اگلی کابینہ کو بھی پیش کی جائے۔ اس صورت حال کو دیکھا جائے تو یہی نظر آتا ہے کہ معاشی میدان میں اتنا کام نہیں ہوا جتنا ہونا چاہیے تھا۔ گزشتہ ساڑھے چار سال میں سیاسی سطح پر یقینی طور پر اچھے کام ہوئے ہیں۔ حکومت نے مفاہمت کی پالیسی کو جاری رکھا ہے۔ اس وقت ملک میں کوئی سیاسی قیدی بھی موجود نہیں ہے لیکن ملک میں امن و امان کے قیام' معاشی سرگرمیوں میں تیزی اور روز گار کی فراہمی جیسے اہم مقاصد پوری طرح حاصل نہیں ہو سکے۔ زراعت کا شعبہ بھی اپنی پوٹینشل کے مطابق ترقی نہیں کر سکا۔ اب یہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرنے والی ہے اس کے بعد عام انتخابات ہو جائیں گے اور پھر نئی حکومت برسراقتدار آجائے گی۔ نئی حکومت بھی ماضی کی روایت پر عمل کرتے ہوئے یہی کہے گی کہ اسے قرضے اور مہنگائی ورثے میں ملے ہیں۔
اس قسم کے کلچر نے پاکستان کی معاشی ترقی کو متاثر کیا ہے۔ موجودہ حکومت بھی یہی کہتی رہی ہے کہ اسے معاشی مشکلات ورثے میں ملی ہیں۔ اس طرح موجودہ حکومت کی آئینی مدت پوری ہو گئی لیکن ملک کو درپیش معاشی مشکلات میں کمی نہیں آ سکی۔ بیروز گاری پہلے سے زیادہ بڑھ گئی' امن و امان پہلے سے زیادہ خراب ہوا' مہنگائی پہلے سے زیادہ بڑھی ہے۔ معاشی سرگرمیاں ماند پڑی ہیں ایسی صورت حال میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ گزشتہ ساڑھے چار برسوں میں متاثر کن ترقی ہوئی ہے۔