جان کیری نئے وزیر خارجہ توقعات و عالمی حقائق
جان کیری 2004 ء کے صدارتی انتخابات میں ناکام رہنے کے باوجودعالمی سطح پر مقبولیت اختیار کرگئے تھے۔
جان کیری ڈپلومیسی کا ایک شاندار سفارتکارانہ پس منظر رکھتے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل
امریکی صدربارک اوباما نے ڈیموکریٹ سینیٹر اورسابق صدارتی امیدوارجان کیری کو نیا وزیرخارجہ بنانے کا اعلان کر دیاہے۔وہ ہلیری کلنٹن کی چارسالہ مدت پوری ہونے کے بعد یہ عہدہ سنبھالیں گے۔جان کیری اس وقت خارجہ امورتعلقات کی سینیٹ کمیٹی کے چیئرمین ہیں۔ نئے عہدے کے لیے نامزدگی کی توثیق سینیٹ سے حاصل کی جائے گی ۔صدر بارک اوباما نے آخر کار ایک تجربہ کار اور منجھے ہوئے ڈیموکریٹ رہنماکو اس بھاری ذمے داری کے قابل سمجھا۔صدر اوباما اس سے قبل واضح کرچکے تھے کہ وہ جان کیری کے ساتھ کام کرنے کے منتظر ہیں۔ جان کیری کا سیاسی کیریئر ایک شاندار پس منظر کا حامل ہے۔
انھوں نے 1966 ء میں ییل یونیورسٹی سے گریجویشن کیا،بعد ازاں امریکی بحریہ میں خدمات انجام دیں،ویت نام کی جنگ میں ان کا جنگ مخالف انداز نظر ، عالمی امن کے قیام کی خواہش اور انسان دوستی کا کردار ان کے سیاسی نظریات اور کمٹمنٹ کا پتا دیتے ہیں،کیری لوگر بل کے باعث وہ پاکستان کے سیاسی منظر نامہ پر کئی روز چھائے رہے،وہ برصغیر میں امن کے خواہاں رہے ہیں، اور افغانستان کی جنگ سے پیدا شدہ صورتحال اور دہشت گردی کے بعد پاکستان کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے پاکستان کے موقف کے زبردست حامی رہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ ،افغانستان، مسئلہ فلسطین،کشمیر سمیت عالمی تنازعات میں تصفیہ کی کس حد تک اوباما اور امریکی عوام کی توقعات پر پورے اترتے ہیں۔
انھیں کئی صبر آزما چیلنجز کا سامنا ہوگا جس میں پاک امریکا تعلقات میں استحکام اور دو طرفہ خیر سگالی سمیت خطے کی مخدوش صورتحال کو جنگ کی تباہ کاریوں سے بچانا شامل ہے۔وہ27 برس سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی میں خدمات انجام دیتے رہے،لاس اینجلز ٹائمز نے ان کی وزیر خارجہ نامزدگی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جان کیری کی پوری زندگی اسی کردار کی تیاری کی آئینہ دار ہے۔ان کی تقرری اوباما نے اپنی قومی سلامتی ٹیم کے خلاء کو پر کرنے کے لیے ایک اہم قدم کے طور پر کی ہے۔ ان کی بطور وزیر خارجہ نامزدگی کو ہیلری کلنٹن نے بھی سراہا ہے اور انھیں اعلیٰ درجہ کا سیاسی رہنما کہا ہے۔ جان کیری 2004 ء کے صدارتی انتخابات میں ناکام امیدوار رہنے کے باوجود اپنی سنجیدہ سیاسی سوچ اور عالمی مسائل سے گہری واقفیت کے حوالہ سے عالمی سطح پر مقبولیت اختیار کرگئے تھے ۔
وہ ڈپلومیسی کا ایک شاندار سفارتکارانہ پس منظر رکھتے ہیں، صدراوباماکے ایلچی کی حیثیت سے بیرونی دورے بھی کرتے رہے ہیں۔اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد تعلقات بحال کرانے کے لیے پاکستان بھی آئے تھے۔69 سالہ جان کیری ویت نام کی جنگ میں حصہ لے چکے ہیں۔تاہم وہ جنگ سے زیادہ امن کے حامی نظر آئے ہیں۔اس لیے انھیں امریکا کی جنگی پالیسی اور دفاعی اخراجات میں ہولناک اضافہ کے پیش نظر دیکھنا ہوگا کہ وہ دنیا کو امن کا تحفہ دلانے میں کیا کردار ادا کریں گے۔گزشتہ روز امریکا میں مالی سال 2013ء کے لیے633 ارب ڈالر کے دفاعی بل کی منظوری دے دی گئی۔70 کے مقابلے میں 315 ووٹوں سے منظورکردہ بل میں فوجی اڈوں پر ہم جنس پرستوں کو شادی کی تقریبات منعقد کرنے کی اجازت بھی دے دی گئی۔ بل کو ڈیموکریٹس اور ریپبلکن دونوں کی حمایت حاصل رہی۔
بل سینیٹ میں بھی فوری منظور کیے جانے کاامکان ہے جب کہ صدر اوبامااس پردستخط کر دیں گے۔یوں امریکا اور اوباما سسٹم کے ساتھ کام کرنے کے لیے جان کیری کو وفاداری اور رضامندی کا کلی مظاہرہ کرنا ہوگا جب کہ اس حقیقت پر بھی کیری کی نظر مرکوز رہنی چاہیے کہ عالم اسلام امریکا سے شدید بدگمان ہے۔ عرب دنیا کو امن کا امریکی روڈ میپ درکار ہے جب کہ پاکستان دہشت گردی سے نجات کے لیے امریکا سمیت عالمی برادری کی مدد کا منتظر ہے ۔ جان کیری کو ماہر علم البشریات ایڈورڈ ہال کا یہ مقولہ یاد رکھنا چاہیے کہ ''امریکا دیگر ممالک سے باہمی تعلقات کے ضمن میں ابھی تک پتھر کے زمانہ میں ہے کیونکہ امریکا ہر ملک کو اپنے ڈھپ پر لانے کی رعونت پر کاربند ہے۔'' اس تناظر میں جان کیری کو پاکستان پر ڈرون حملوں پر نظر ثانی کی اولین کوشش میں صدر اوباما کو قائل کرنا چاہیے ۔
انھوں نے 1966 ء میں ییل یونیورسٹی سے گریجویشن کیا،بعد ازاں امریکی بحریہ میں خدمات انجام دیں،ویت نام کی جنگ میں ان کا جنگ مخالف انداز نظر ، عالمی امن کے قیام کی خواہش اور انسان دوستی کا کردار ان کے سیاسی نظریات اور کمٹمنٹ کا پتا دیتے ہیں،کیری لوگر بل کے باعث وہ پاکستان کے سیاسی منظر نامہ پر کئی روز چھائے رہے،وہ برصغیر میں امن کے خواہاں رہے ہیں، اور افغانستان کی جنگ سے پیدا شدہ صورتحال اور دہشت گردی کے بعد پاکستان کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے پاکستان کے موقف کے زبردست حامی رہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ ،افغانستان، مسئلہ فلسطین،کشمیر سمیت عالمی تنازعات میں تصفیہ کی کس حد تک اوباما اور امریکی عوام کی توقعات پر پورے اترتے ہیں۔
انھیں کئی صبر آزما چیلنجز کا سامنا ہوگا جس میں پاک امریکا تعلقات میں استحکام اور دو طرفہ خیر سگالی سمیت خطے کی مخدوش صورتحال کو جنگ کی تباہ کاریوں سے بچانا شامل ہے۔وہ27 برس سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی میں خدمات انجام دیتے رہے،لاس اینجلز ٹائمز نے ان کی وزیر خارجہ نامزدگی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جان کیری کی پوری زندگی اسی کردار کی تیاری کی آئینہ دار ہے۔ان کی تقرری اوباما نے اپنی قومی سلامتی ٹیم کے خلاء کو پر کرنے کے لیے ایک اہم قدم کے طور پر کی ہے۔ ان کی بطور وزیر خارجہ نامزدگی کو ہیلری کلنٹن نے بھی سراہا ہے اور انھیں اعلیٰ درجہ کا سیاسی رہنما کہا ہے۔ جان کیری 2004 ء کے صدارتی انتخابات میں ناکام امیدوار رہنے کے باوجود اپنی سنجیدہ سیاسی سوچ اور عالمی مسائل سے گہری واقفیت کے حوالہ سے عالمی سطح پر مقبولیت اختیار کرگئے تھے ۔
وہ ڈپلومیسی کا ایک شاندار سفارتکارانہ پس منظر رکھتے ہیں، صدراوباماکے ایلچی کی حیثیت سے بیرونی دورے بھی کرتے رہے ہیں۔اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد تعلقات بحال کرانے کے لیے پاکستان بھی آئے تھے۔69 سالہ جان کیری ویت نام کی جنگ میں حصہ لے چکے ہیں۔تاہم وہ جنگ سے زیادہ امن کے حامی نظر آئے ہیں۔اس لیے انھیں امریکا کی جنگی پالیسی اور دفاعی اخراجات میں ہولناک اضافہ کے پیش نظر دیکھنا ہوگا کہ وہ دنیا کو امن کا تحفہ دلانے میں کیا کردار ادا کریں گے۔گزشتہ روز امریکا میں مالی سال 2013ء کے لیے633 ارب ڈالر کے دفاعی بل کی منظوری دے دی گئی۔70 کے مقابلے میں 315 ووٹوں سے منظورکردہ بل میں فوجی اڈوں پر ہم جنس پرستوں کو شادی کی تقریبات منعقد کرنے کی اجازت بھی دے دی گئی۔ بل کو ڈیموکریٹس اور ریپبلکن دونوں کی حمایت حاصل رہی۔
بل سینیٹ میں بھی فوری منظور کیے جانے کاامکان ہے جب کہ صدر اوبامااس پردستخط کر دیں گے۔یوں امریکا اور اوباما سسٹم کے ساتھ کام کرنے کے لیے جان کیری کو وفاداری اور رضامندی کا کلی مظاہرہ کرنا ہوگا جب کہ اس حقیقت پر بھی کیری کی نظر مرکوز رہنی چاہیے کہ عالم اسلام امریکا سے شدید بدگمان ہے۔ عرب دنیا کو امن کا امریکی روڈ میپ درکار ہے جب کہ پاکستان دہشت گردی سے نجات کے لیے امریکا سمیت عالمی برادری کی مدد کا منتظر ہے ۔ جان کیری کو ماہر علم البشریات ایڈورڈ ہال کا یہ مقولہ یاد رکھنا چاہیے کہ ''امریکا دیگر ممالک سے باہمی تعلقات کے ضمن میں ابھی تک پتھر کے زمانہ میں ہے کیونکہ امریکا ہر ملک کو اپنے ڈھپ پر لانے کی رعونت پر کاربند ہے۔'' اس تناظر میں جان کیری کو پاکستان پر ڈرون حملوں پر نظر ثانی کی اولین کوشش میں صدر اوباما کو قائل کرنا چاہیے ۔