کرپشن کا کچھوا اور زبان کا بچھو

چلیے ہم انصاف کی تحریک آپ پر چھوڑتے ہیں

barq@email.com

چلیے ہم انصاف کی تحریک آپ پر چھوڑتے ہیں، اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر اور دماغ میں انصاف کو متحرک کر کے بتایئے کہ کچھ لوگ سر بازار بیچ سڑک میں یا آپ کے محلے میں ایک شریف آدمی کو بری طرح پیٹ رہے ہیں، وہ شریف آدمی زمین پر پڑا اپنے ہاتھ پیر جوڑ جوڑ کر موڑ موڑ کر اور سکوڑ سکوڑ کر خود کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے اور مسٹنڈے اسے گھونسوں، لاتوں اور مختلف آلات ضرب سے مار رہے ہیں، محلے کے سارے لوگ دائرہ بنائے صرف دیکھ رہے ہیں جن میں ایک آپ بھی ہیں، تو اس موقعے پر آپ کو کیا کرنا چاہیے یا کیا کریں گے؟ آگے بڑھ کر اس شریف آدمی کو بچائیں گے؟

یا بت کی طرح کھڑے تماشہ دیکھیں گے ۔ ؟ چلیے آگے بڑھ کر سینہ تان کر اور خم ٹھونک کرمدد تو آپ نہیں کر سکتے کیونکہ آپ اکیلے اور نہتے ہیں جب کہ وہ بدمعاش لوگ ہر طرح سے مسلح ہیں لیکن دبنگ آواز میں نہ سہی دھیرے سے، کمزور اور التجائیہ انداز میں تو یہ کہہ سکتے ہیں، پلیز اسے چھوڑ دیجیے، رحم کیجیے، بہت مار چکے۔ اور آپ یقیناً ایسا کریں گے کیونکہ آپ شریف اور رحم دل آدمی ہیں اور اس وقت ہم بھی یہی کرنے جارہے ہیں کیونکہ ہم انڈین فلموں کی طرح دو تین سو روپے والے ایکسٹرا نہیں، ماشاء اللہ ایک آزاد خود مختار اور دلیر شہری ہیں ۔ آخر اس غریب ''کرپشن'' نے کسی کا کیا بگاڑا ہے بلکہ جہاں تک ہم جانتے ہیں سنوارا ہی سنوارا ہے۔

ایسا کون ہے جس کی اس نے آڑے وقت میں مدد نہیں کی ہے، کرپشن ہمیشہ لوگوں کی ڈوبتی کشتیوں کو پار لگاتی ہے۔ ہر بگڑا کام بناتی ہے، نوکریاں دلاتی ہے، ٹھیکے دلاتی ہے، منظوریاں دلواتی ہے، حلوے مانڈے کھلاتی ہے، جیبیں، پیٹ، الماریاں حتیٰ کہ بینک بھراتی ہے، وارے نیارے کراتی ہے، صاحبان اور بیگمات کے درمیان خوشگوار تعلقات کو فروغ دیتی ہے حتیٰ کہ الیکشن تک جتواتی ہے۔

یوں کہیے ہر کام بنانے کا ایک امرت دھارا ہے، اور اس پر بھی جسے دیکھو اسے کوس رہا ہے، لعن طعن کر رہا ہے، مکے لاتیں مار رہا ہے ،گالیاں دے رہا ہے، بددعائیں دے رہا ہے کہ کرپشن کو خدا تباہ کرے، کرپشن کو مارو، ختم کر دو، مٹی میں ملا دو ،ایسی کی تیسی کر دو، یہ کرو وہ کرو ۔۔۔ اور بے چاری کرپشن ہے کہ ٹس سے مس نہیں ہورہی ہے بلکہ بدستور معاشرے کی خدمت کررہی ہے، خوشیاں بانٹ رہی ہے، نیکی کر رہی ہے اور دریا میں ڈال رہی ہے بلکہ پہلے سے زیادہ اپنی خدمت کو فروغ دے رہی ہے، ہر جگہ پہنچ رہی ہے ، ہر کسی کی دستگیری کر رہی ہے اوربگڑتے بلکہ بگڑے ہوئے کام سنوارتی چلی جارہی ہے، عجیب احسان فراموش لوگ ہیں، بے چاری سے کام بھی لیتے ہیں اور کوستے بھی ہیں، جہاں ضرورت ہوتی ہے کرپشن المدد پکارتے ہیں اور وہ حاضر ہو کر مدد کر دیتی ہے تو جس طرح پرائے گدھے سے کام لینے کے بعد دو ڈنڈے رسید کر دیتے ہیں اسی طرح کرپشن کے ساتھ بھی ناروا سلوک کرتے ہیں بلکہ اکثر تو منہ پر بھی گالیاں دیتے رہتے ہیں، یہ بہت بری بات ہے اور اس بے چاری کرپشن سلمہ کو دیکھئے کہ بدستور غالب کے اس شعرکی تفسیر بنی ہوئی ہے کہ

پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالے
رکتی ہے مری طبع تو ہوتی ہے رواں اور

اس لیے ہم نے آج سے اور ابھی سے فیصلہ کر لیا ہے کہ اس کی طرف داری کریں گے، دامے درمے اور قدمے نہ سہی لیکن ''سخنے'' مدد تو ہم کر ہی سکتے ہیں ۔ یہاں پر آپ کے ٹیڑھے ذہن کا پتہ ہے کہ آپ ہم پر یہ اعتراض ٹھوکیں گے کہ ہم انڈین فلمیں کیوں دیکھتے ہیں کیوں کہ آپ تو نہ خود دیکھتے ہیں نہ اپنے بچوں کو دیکھنے دیتے ہیں اور پھر خاص طور پر ان دنوں جب اس نے ہماری سپوتوں ... ایسے ویسے نہیں بل کہ ٹیلنٹ سے بھرپور سپوتوں اور سپوتنیوں پر اپنے گھر کے دروازے بھی بند کر دیے ہیں لیکن بخدا ہم انڈین فلمیں کسی برے ارادے یا غدارانہ جذبے سے نہیں دیکھتے بلکہ تفریح وغیرہ بھی غرض نہیں کیونکہ تفریح کے لیے ہماری سیاسی انڈسٹری بھی کم نہیں ہے۔


ہم تو ان فلموں سے عبرت اور سبق پکڑتے ہیں اور ایسا پکڑتے ہیں کہ ایسا کوئی پکڑے تو کلیجہ نکل پڑے، ہم جانتے ہیں کہ اپنے پیدائشی منفی ذہن کی وجہ سے آپ اب یہ اعتراض یا منفی تنقید وارد کریں گے کہ انڈین فلموں کے ''سبق اور عبرت'' تو بڑے بے وضو اور ننگے ہوتے ہیں اور ان کی کوشش یہ ہے کہ ان فلموں یا ثقافتی یلغار سے ہماری عاقبت خراب کر دیں کہ لے دے کے صرف عاقبت ہی ہمارے پاس بچی ہے، اپنی دنیا تو پہلے ہی خود برباد کر کے بیٹھے ہیں۔

لیکن یہیں پر آپ بھول جاتے ہیں کہ ہم بھی آخر ایک منفی ''تنقیدیے'' ہی ہیں کیونکہ ''منفی تنقید'' کے زمرے میں ہر وہ شخص آتا ہے جو حکومت میں نہیں ہوتا۔ حکومت میں بھی نہ ہو اور حکومت کے کسی ''کچھ'' کا کچھ بھی نہ ہو تو وہ منفی ''تنقدیا'' ہوتا ہے، وہ جو کچھ بھی بولتا ہے لکھتا ہے سنتا اور پڑھتا ہے وہ ''منفی'' ہوتا ہے، چنانچہ انڈین فلموں کو دیکھتے ہوئے بھی ہم منفی ہوتے ہیں اور جو عبرت یا سبق ہوتا ہے وہ بھی منفی پکڑتے ہیں ۔

یعنی وہ جو ''کرتے'' ہیں وہ ہم نہیں ''کرتے'' اور جو وہ کرتے ہیں وہ ہم ضرور کرتے ہیں جیسے ہمارے ہاں ایک خاص طبقے کے بارے میں بزرگوں کا کہنا ہے کہ یہ جو کہتے ہیں وہ کرو اور جو کرتے ہیں وہ بالکل نہ کرو، چنانچہ انڈین فلموں میں وہ یہ دکھاتے ہیں کہ بدمعاش کسی شخص کو بے طرح پیٹ رہے ہیں، ظلم کی حد کرتے ہیں اور اردگرد دائرے میں مرد و زن کھڑے تماشہ دیکھتے ہیں۔ چلیے اگر کچھ کر نہیں سکتے تو کچھ بول نہیں سکتے تو کم از کم وہاں سے جا تو سکتے ہیں، غنڈوں نے انھیں وہاں زبردستی تو کھڑا نہیں کیا ہوتا ہے لیکن ہم اس کے برعکس سبق لیتے ہوئے خاموش تماشائی نہیں رہیں گے، کرپشن کے حق میں بولیں گے اور خوب بولیں گے، آیندہ جس کسی نے بھی بے چاری کرپشن کو اتنی بے پناہ ''خدمات'' کے باوجود کوسا یا لعن طعن کیا تو ہم فوراً خم ٹھونک کر اس کی حمایت میں اینٹ کا جواب پتھر بلکہ ہتھوڑے یا گولی سے دیں گے۔

غضب خدا کا، حد ہوتی ہے احسان فراموشی کی بھی ۔ یہ تو اس ''بچھو'' سے بھی گئی گزری بات ہو گئی جو کچھوے کی پیٹھ پر سواری بھی کرتا تھا اور اس پر اپنا ڈنک بھی آزما رہا تھا اور کچھوے کی شکایت پر اس نے جواب دیا تھا کہ میں اپنی عادت سے مجبور ہوں۔ ہم بھی بچھوؤں کو ساؤدان کرنا چاہتے ہیں کہ خواہ مخوا کرپشن کے کچھوے کو ڈنک مارنے کی کوشش نہ کرو، تم اس کا تو کچھ بھی بگاڑ نہیں پاؤ گے کہ وہ کچھوا ہے اور اس کی پیٹھ فولاد سے بھی سخت ہے بلکہ شکر کرو کہ کرپشن کا یہ معصوم کچھوا آپ کو دریا پار کراتا ہے ، اس کا احسان مانو شکریہ ادا کرو کہ اگرچہ کچھوا نہ ہوتا تو تمہیں دریا کون پار کراتا اور یہ تو ہر کوئی جانتا ہے کہ پاکستان کی سرزمین ''دریاؤ'' ہے جس کا تذکرہ منیر نیازی نے بھی کیا ہے کہ

اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

یہاں تو قدم قدم پر ''دریا'' ہیں ، ایسے دریا جن کے گھاٹ بھی نہیں اور کشتیاں بھی ساری جلائی جا چکی ہیں، لے دے کر اگر اب کوئی سہارا ہے تو اس کچھوے کا جس کی صرف پیٹھ ہی مضبوط نہیں بلکہ میرٹ وغیرہ کے ''خرگوش'' سے زیادہ مستقل مزاج بھی ہے، اس کی پیٹھ پر یہ زبانی کلامی ڈنک مت آزماؤ ۔ اس کا تو کچھ بھی نہیں بگڑے گا لیکن اگر غصے میں آکر اس نے غوطہ لگا دیا تو تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں۔
Load Next Story