انٹرنیشنل کرکٹ سر پھرے پلیئرز کو قابو کرنے کیلیے ’لگام‘ تیار

دوران میچ بدتمیزی، بداخلاقی اور لڑائی جھگڑے پر فیلڈ سے باہر نکال دیا جائے گا

بال ٹیمپرنگ قوانین میں تبدیلی سے صاف انکار،ٹیسٹ میچزکو4دنوں تک محدودکرنے کے معاملے پرارکان2حصوں میں تقسیم۔ فوٹو: فائل

انٹرنیشنل کرکٹ میں سرپھرے کرکٹرز کو قابو کرنے کیلیے 'لگام' تیار ہوگئی،دوران میچ بدتمیزی، بداخلاقی اور لڑائی جھگڑے پر کھلاڑی کو فیلڈ سے باہر نکال دیا جائے گا۔

ایم سی سی کرکٹ کمیٹی نے آن دی فیلڈ امپائرز کومکمل اختیار دینے کی سفارش کردی، موٹے چوڑے بیٹس کیلیے بھی 'حد' مقرر ہوگی ، بال ٹیمپرنگ قوانین میں کسی بھی تبدیلی سے صاف انکار کردیا گیا، ٹیسٹ میچز کو چار دنوں تک محدود کرنے کے معاملے پر کمیٹی دو حصوں میں بٹ گئی، فیلڈر اور وکٹ کیپر کے ہیلمٹ سے ٹکراکر آنے والی گیند پر کیچ اور اسٹمپنگ جائز ہوگی، کرکٹ کو اولمپک کا حصہ بنانے کیلیے آئی سی سی کو ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ہدایت کردی گئی۔

ایم سی سی کی مرکزی کمیٹی کی جانب سے سفارشات منظور ہونے پر یکم اکتوبر 2017 سے انٹرنیشنل کرکٹ میں نافذ العمل ہوجائیں گی۔ تفصیلات کے مطابق ممبئی میں میریلیبون کرکٹ کلب (ایم سی سی) کرکٹ کمیٹی کا2روزہ اجلاس اہم ترین سفارشات کے ساتھ ختم ہوگیا جس میں سب سے بڑا سفارش سرپھرے کرکٹرز کو لگام ڈالنے کی ہوئی۔ کمیٹی کی جانب سے کہا گیاکہ فیلڈ امپائرزکے پاس زیادہ اختیارات ہونے چاہئیں تاکہ وہ کھیل کے دوران سنگین ڈسپلنری خلاف ورزیوں میں ملوث کرکٹرزکو فوری طور پرمیدان سے باہر کرسکیں۔

ان میں کسی امپائر کو دھمکانا یا پھر دیگرکھلاڑی، امپائر، آفیشل یا پھر تماشائی کے ساتھ لڑائی جھگڑا کرنا شامل ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ کرکٹ واحد کھیل ہے جس میں دوران میچ خراب رویے پر کسی پلیئر کو کوئی سزا نہیں دی جاتی، اس وقت صرف کپتان ہی اپنے کسی کھلاڑی کو میدان سے باہر بھیج سکتا ہے مگر ہم نے جائزہ لیا کہ ایک بیٹسمین فیلڈنگ سائیڈ کے کسی پلیئر کو اپنے بیٹ کے ساتھ ہٹ کرے اور پھر سنچری اسکور کرکے میچ جتوا دے تو یہ گیم اسپرٹ کی کھلی خلاف ورزی ہے،کرکٹ میں بھی دیگر کھیلوں کی طرح موقع پر ہی سزا دینے کی ضرورت ہے۔ کمیٹی کی جانب سے بیٹ کے سائزپر بھی کافی بحث ہوئی۔


جس کے بعد یہ سفارش کی گئی کہ بیٹ کی چوڑائی 40 اورموٹائی 67 ایم ایم سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے، کمیٹی کا کہنا ہے کہ اس وقت بہت سے ٹاپ پلیئرز کے بیٹس کی چوڑائی 38 سے42 ایم ایم کے درمیان جبکہ کچھ کی تو 50 ایم ایم تک پہنچی چکی جسے حد میںلانے کی ضرورت ہے۔ کمیٹی کی جانب سے یہ سفارش بھی کی گئی کہ اگر بیٹسمین کے شاٹ پر گیند وکٹ کیپر یا فیلڈر کے ہیلمٹ سے ٹکراے تو اس پر کیچ اور اسٹمپنگ کو جائز قرار دیا جائے۔

موجودہ قوانین کے تحت گیند وکٹ کیپر یا فیلڈر کے ہیملٹ کے کسی بھی حصے سے ٹکرا جائے تو اس پر اسٹمپنگ یا کیچ نہیں ہوتے، حالیہ کچھ عرصے میں معین علی اور ٹام لیتھم کو اس قانون کے تحت بیٹنگ جاری رکھنے کا موقع ملا۔ ایم سی سی ورلڈ کرکٹ کمیٹی کے اجلاس میں جب ٹیسٹ میچز کو 4 دنوں تک محدود کرنے کی تجویز سامنے آئی تو اس پر ممبران دوحصوں میں تقسیم ہوگئے۔

جہاں ایک طرف ایک دن کی کٹوتی کے حق میں دلائل دیئے گئے وہیں پر کچھ سنجیدہ نوعیت کے تحفظات بھی سامنے آئے جس پریہ فیصلہ کیا گیا کہ اس بارے میں مزید بات چیت جاری رہے گی۔ اس موقع پر میٹنگ میں شریک آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹیو ڈیو رچرڈسن نے شرکاکو بتایا کہ2 درجاتی ٹیسٹ چیمپئن شپ پر اعتراضات کے بعد اس بارے میں مزید غورجاری اور نئی تجاویز کا جائزہ بھی لیا جارہا ہے، اس میں 'کانفرنس سسٹم' بھی شامل ہے جس کے تحت تمام ٹیمیں صفر سے مہم کا آغاز کریں گی، اس کا نچلی رینکنگ والی سائیڈزکو فائدہ حاصل جبکہ ٹیسٹ کرکٹ کی مقبولیت میں بھی اضافہ ہوگا۔

اس موقع پر کمیٹی نے آئی سی سی پر زور دیا کہ وہ کرکٹ کو اولمپک کا حصہ بنانے کی کوششیں تیز کرے تاکہ یہ 2024 کے گیمز کا حصہ بن سکے۔ کمیٹی کا کہنا تھا کہ اولمپک میں شمولیت سے کھیل کی عالمی پذیرائی میں اضافہ ہوگا۔ ایم سی سی کرکٹ کمیٹی کی اگلی میٹنگ اب 3 اور 4 جولائی2017 میں لارڈز میں ہوگی، اس میں پاکستان کے رمیز راجہ بھی شامل ہیں۔
Load Next Story