صنفِ نازک یا پیسا کمانے کی مشین

شادی سے قبل بھی آپ کی بیٹی نوکری کررہی ہے تو شادی کے بعد کرنے میں کیا دشواری ہے؟

اگر ایک عورت حالات کی ستم ظریفی کے سبب نوکری کے پیشے سے جُڑ جائے تو کیا یہ ضروری ہے کہ وہ زندگی بھر صرف پیسہ کمانے کے لیے اِسی طرح کی محنت کرتی رہے؟

دورِ آدم سے رشتہ ازداوج کا سلسلہ چلا آرہا ہے۔ شادی نہ صرف مرد و عورت کو ایک دوڑ میں باندھ دیتی ہے بلکہ ان کے دکھ سکھ بھی یکساں ہوجاتے ہیں۔ یوں تو شادی کی حقیقت سے منہ نہیں موڑا جاسکتا لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہمارے معاشرے میں شادی سے قبل ان گنت مسائل اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ بالخصوص لڑکیوں کے والدین کو، جن میں اچھے رشتے کی تلاش، اچھے خاندان کا ملنا، ذہنی ہم آہنگی کا ہونا، جہیز کی فکر سرِفہرست ہیں۔ پھر محض اِسی پر اکتفا نہیں ہوتا بلکہ اب تو بدلتے وقت کے ساتھ لڑکے والوں کی ایک اور فرمائش میں بھیاضافہ ہوچکا ہے یعنی ''لڑکی کا نوکری پیشہ ہونا''۔

موجودہ دور میں جہاں لڑکیاں خود کو مردوں کے شانہ بشانہ کھڑا رکھنے کے لئے نوکریاں کرتی ہیں وہیں خواتین کی ایک بہت بڑی تعداد اپنی معاشی تنگی کے سبب حصول رزق کی خاطر بھی گھروں سے باہر نکلتی ہیں۔ ایسی خواتین کا نوکری کرنے کا واحد مقصد اپنے گھر میں دو وقت کی روٹی لانا ہوتا ہے۔ لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ آج اسی بات کو عورت کی کمزوری سمجھ کر استعمال کیا جا رہا ہے اور اپنے بیٹے کا رشتہ لے کر آنے والی ماؤں کو یہ مطالبہ پیش کرنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں ہوتی کہ لڑکی شادی کے بعد بھی نوکری جاری رکھے گی، اور اگر والدین منع کرتے ہیں تو اس صورت میں ان سے کہا جاتا ہے کہ شادی سے قبل بھی آپ کی بیٹی نوکری کر رہی ہے تو شادی کے بعد کرنے میں کیا دشواری ہے؟ اور یوں بھی آپ کی بیٹی کے گھر میں ہی مزید چار پیسے آجائیں گے۔

لڑکی کا شادی کے بعد نوکری کرنا قطعاً غلط عمل نہیں، اگر وہ اپنے شوق یا گھر کے معاشی حالات کو دیکھتے ہوئے شوہر کا ہاتھ بٹانے کی غرض سے نوکری کے لئے نکلتی ہے تو وہ اس کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ کم از کم شروعات میں تو عورت کے گھر سے باہر نکلنے کی یہی اہم وجوہات ہوتی تھیں لیکن افسوس آج ہم جس معاشرے کا حصہ ہیں وہاں لڑکیوں کو نہ صرف لالچ کی بنیاد پر شادی کرکے لے جایا جاتا ہے بلکہ انہیں پیسا کمانے کی مشین بنادیا جاتا ہے، اور اگر وہ مشین چل چل کر تھک ہار جائے تو اسے طلاق دے کر شادی کی زنجیروں سے آزاد کرنے میں بھی دیر نہیں کی جاتی۔


اگر ایک عورت اپنے ماں باپ کے گھر میں حالات کی ستم ظریفی کے سبب نوکری کے پیشے سے جُڑ جائے تو کیا یہ ضروری ہے کہ وہ زندگی بھر صرف پیسہ کمانے کے لیے اِسی طرح کی محنت کرتی رہے؟ اکثر لڑکیاں اپنی شادی کا خواب لئے یہی تصور کرتی ہیں کہ ان کا ہمسفر انہیں اُن تمام ذمہ داریوں سے آزاد کروائے گا جو وہ والدین کے معاشی حالات کے سبب جھیل رہی ہوتی ہیں۔ انہیں اپنے نکاح میں لینے کے بعد نہ صرف ان کی تمام تر ذمہ داریاں کو پورا کرے گا بلکہ ان کے ناز و نخرے بھی اٹھائے گا۔

جیسے جیسے وقت کا پہیہ آگے بڑھ رہا ہے عورت کی آزادی کو ہی مردوں نے اپنی آسائشوں کا ہتھیار بنالیا ہے۔ وہ جب چاہتا ہے اسے اپنے مطلب کے لئے استعمال کرتا ہے اور خواتین صرف اپنے گھر کو بچانے اور بچوں کے تحفظ کے لئے اس کے آگے سر خم کر دیتی ہے۔ آج ہر عورت کو چاہے وہ پڑھی لکھی ہو یا ان پڑھ، ان میں یہ شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ اگر نوکری کرکے اپنے شوہر اور اس کے خاندان کو سنبھال سکتی ہیں تو پھر وہ باآسانی اپنی اور اپنے بچوں کی ذمہ داری اکیلے بھی باخوبی نبھا سکتی ہیں۔ خدارا لڑکیوں کو اپنے گھر کی عزت ضرور بنائیں لیکن شادی کے لیے نوکری سے مشروط نہ کیجئے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لئے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کےساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کریں۔
Load Next Story