بحرانوں کے سبب ملک کی سلامتی کو خطرہ ہےآسیہ اسحاق
ملک کو بچانے کے لیے فکر ی تبدیلی کے بغیر اقتدار کی منتقلی بے معنی ہے
حکمرانوں کی معاشی پالیسیوں نے مہنگائی اور افراط زر میں ریکارڈ اضافہ کیا. فوٹو: فائل
آل پاکستان مسلم لیگ کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات و ترجمان آسیہ اسحاق نے کہا ہے کہ اندرونی اور بیرونی بحرانوں کے سبب ملک کی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں اور سیاسی جماعتیں اقتدار کیلیے اپنی باری کیلیے بے چین ہیں۔
ملک کو بچانے کیلیے تبدیلی کی ضرورت ہے اور فکر ی تبدیلی کے بغیر اقتدار کی منتقلی بے معنی ہے، وہ ہفتہ کو آل پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی سیکریٹریٹ میں پارٹی ذمے داروں سے خطاب کر رہی تھیں، اس موقع پر مسلم بھٹو، نائل انعام اور شاہدقریشی نے بھی خطاب کیا، آسیہ اسحاق نے کہا کہ ملک کی سلامتی اور خوشحالی معیشت سے جڑی ہوئی ہے، روس کے زوال کا سبب بھی معیشت بنی تھی، موجودہ حکمرانوں کی معاشی پالیسیوں کے سبب مہنگائی، بے روزگاری اور افراط زر میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، اندرونی اور بیرونی قرضوں کے بوجھ سے معیشت کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔
انھوں نے کہا کہ حکمرانوں کی معاشی پالیسیاں ناکام ہوچکی ہیں، ان حالات میں فکری تبدیلی اور اسٹیٹس کو توڑنے کی ضرورت ہے، سیاسی جماعتیں اسٹیٹس کو برقرار رکھناچاہتی ہے، انھوں نے کہا کہ تین تین بار اقتدار میں آنے والوں نے قوم کو مایوس کیا ہے،آل پاکستان مسلم لیگ کے قائد مایوسی کے اس گھٹا ٹوپ اندھیرے کو سحر میں تبدیلی کرنا چاہتے ہے جس کیلیے انھوں نے ملک میں واپسی کافیصلہ کر لیا ہے۔
ملک کو بچانے کیلیے تبدیلی کی ضرورت ہے اور فکر ی تبدیلی کے بغیر اقتدار کی منتقلی بے معنی ہے، وہ ہفتہ کو آل پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی سیکریٹریٹ میں پارٹی ذمے داروں سے خطاب کر رہی تھیں، اس موقع پر مسلم بھٹو، نائل انعام اور شاہدقریشی نے بھی خطاب کیا، آسیہ اسحاق نے کہا کہ ملک کی سلامتی اور خوشحالی معیشت سے جڑی ہوئی ہے، روس کے زوال کا سبب بھی معیشت بنی تھی، موجودہ حکمرانوں کی معاشی پالیسیوں کے سبب مہنگائی، بے روزگاری اور افراط زر میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، اندرونی اور بیرونی قرضوں کے بوجھ سے معیشت کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔
انھوں نے کہا کہ حکمرانوں کی معاشی پالیسیاں ناکام ہوچکی ہیں، ان حالات میں فکری تبدیلی اور اسٹیٹس کو توڑنے کی ضرورت ہے، سیاسی جماعتیں اسٹیٹس کو برقرار رکھناچاہتی ہے، انھوں نے کہا کہ تین تین بار اقتدار میں آنے والوں نے قوم کو مایوس کیا ہے،آل پاکستان مسلم لیگ کے قائد مایوسی کے اس گھٹا ٹوپ اندھیرے کو سحر میں تبدیلی کرنا چاہتے ہے جس کیلیے انھوں نے ملک میں واپسی کافیصلہ کر لیا ہے۔