ادارے کراچی سے متعلق فیصلوں پر عمل یقینی بنائیں چیف جسٹس
غلطیوں سے پاک انتخابی فہرستوں کی بنیاد پر الیکشن امن کی ضمانت ہیں، سپریم کورٹ رجسٹری میں خطاب
چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کا سندھ بار کونسل ، کراچی بارایسوسی ایشن کے وفود سے ملاقات کے بعد گروپ فوٹو۔ فوٹو: اے پی پی
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ2011 میں کراچی میں بیٹھ کر وکلا سمیت سب کوسنا اورسب کے سامنے فیصلہ سنایا۔
اسی شہر میں بیٹھ کر سب کے سامنے فیصلہ دیا تاکہ وہ برائیاں ختم ہوسکیں جن کی وجہ سے امن وامان کی صورتحال پیداہوتی ہے۔ اب دیگر اداروں پر ہے کہ وہ ان فیصلوں پر ان کی روح کے مطابق عمل درآمد یقینی بنائیں۔ اب تک اس پرعمل کیا جاتا توآج حالات بہت بہتر ہوتے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ غلطیوں سے پاک انتخابی فہرستوں کی بنیاد پر منعقد ہونیوالے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات قوم کی ترقی اور امن کی ضمانت ہیں۔عدلیہ کو آئینی طور پر یہ اختیارحاصل ہے کہ وہ کسی عمل کو کالعدم قرار دے چاہے وہ پارلیمنٹ کی جانب سے ہو یا ریاستی اداروں نے آئینی حدود بالائے طاق رکھتے ہوئے سرانجام دیا ہو۔
آئین سے انحراف ممکن نہیں،عدلیہ پر بعض اوقات ریاست کے روز مرہ کے معمولات میں دخل اندازی پر تنقید کی جاتی ہے تاہم حقیقت میں عدلیہ نے کبھی انتظامیہ یا مقننہ کا کردار ادا کرنے کی کوشش نہیں کی۔ مارچ 2009کے بعد پاکستان ایک نیا ملک ہے جہاں کے عوام نے قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کا مزہ چکھا ہے۔ عدلیہ نے آئینی حدود میں رہتے ہوئے دوسرے اداروں کی خود مختاری اور سالمیت کا احترام کیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انھوںنے ہفتے کی دوپہر سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں محمود الحسن ایڈووکیٹ کی سربراہی میں آنیوالے سندھ بارکونسل اور کراچی بار ایسوسی ایشن کے وفد سے ملاقات اور سپریم کورٹ میں انرول ہونیوالے وکلا کو اسناد کی تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ ملک میں کنٹونمنٹ سمیت تمام علاقوں میں مقامی انتخابات آئینی ضرورت ہیں ، یہ الیکشن التواء میں ہیں اگر مقامی حکومتوںکے انتخابات ہوجاتے تو بہت سے مسائل حل ہو چکے ہوتے۔ اب وہ وقت گزرگیا جب عدالتیں ریاستی اداروں کی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے دیتی تھیں، اب صرف ایک ہی رہبر رہ گیا ہے جو کہ آئین پاکستان مجریہ 1973اور وہ قوانین ہیں جو انصاف فراہم کرتے ہیں۔ عدالتوں کے فیصلوں کی بنیاد اس اصول پر ہے کہ ؛قانون سب کیلیے برابر ہے،چاہے یہ وہ بدعنوانی ہوجو ہمارے حکومتی اداروں میں ہورہی ہے ، اربوں روپے خورد برد ہوچکے ہوں۔ اسی طرح گمشدہ افراد کے متعلق مقدمے میں کوئی لیت ولعل نہ سنی گئی اور فیصلہ سناتے ہوئے صرف قانون کومدنظررکھاگیا۔
انھوں نے کہا کہ کراچی میں امن وامان کی صورتحال کاجائزہ لیتے ہوئے بھی یہی اصول مدنظر رکھا گیا،کیونکہ کراچی پاکستان کا اقتصادی اورکمرشل اہمیت کا حامل شہر ہے ۔ ہم سب کی ذمے داری ہے کہ ہم اس شہر میں امن وامان کی صورتحال کو یقینی بنائیں اورنظام حکومت میں بہتری لائیں۔ افتخار چوہدری نے کہا کہ جمہوری دور میں عدلیہ کا کردار صرف تنازعات کا تصفیہ کرنے سے بڑھ کر آئین کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھنا بھی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میں فخر محسوس کرتا ہوں کہ پاکستان کاعدالتی نظام جمہوریت کا بڑا حامی ہے اور اسے قانون سے تعلق رکھنے والے طبقے، دیگر اداروں، میڈیا اور عوام کا بھرپور ساتھ حاصل ہے۔ ہرادارے پر لازم ہے کہ وہ آئینی اقدار کا احترام کرے، ریاست کے تینوں ستون عدلیہ، انتظامیہ اور مقننہ اپنے آئینی دائرے میں رہتے ہوئے اختیارات استعمال کرسکتے ہیں تاہم وہ آئینی حدود پار کرکے اختیارات کاناجائز استعمال نہیں کرسکتے۔
انھوں نے کہا کہ عدلیہ آئین کے محافظ کے طور پر خاص طور پر عدالتی نظرثانی کے اختیار سے بھی لیس ہے تاکہ وہ اداروں اور افراد کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال کا جائزہ لے سکے۔ عدلیہ تمام اداروں کااحترام کرتی ہے لیکن جن مقدمات میں جہاں آئینی اقدار کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہو اور غیرقانونی اقدامات کیے جائیں ،عدلیہ پر لازم ہے کہ وہ نظرثانی کا اختیار استعمال کرتے ہوئے ان اقدامات کا سدباب کرے۔انھوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ عوام میں اپنے قانونی حقوق کے نفاذ اور انتظامیہ کے غیر قانونی اور ناجائز اقدامات کا جائزہ لینے کا شعور پیدا ہوتا جارہاہے۔
عدلیہ نے ریاستی اداروں میں قانون کی حکمرانی قائم کرکے اور معاشرتی برائیوں کا فوری طور پر خاتمہ کرکے مستحسن طرز حکمرانی قائم کرنے کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ افتخار چوہدری کا کہنا تھا کہملک میں انصاف کی ترسیل کے نظام کو بہت سی مشکلات کاسامنا ہے جن میں پیچیدہ قانونی طریقہ کار، پرانے قوانین، تاخیر، غیر ضروری اخراجات، زیادہ عدالتی فیس اور بدعنوانی شامل ہیں،ان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اہم ہیجو انصاف کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
ان مشکلات کا مکمل سدباب ممکن نہیں تاہم غیرجانبداری، دیانتداری اور احتساب کے ذریعے ہم بدعنوانی کے مواقع کم ضرور کرسکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ قانون کی حکمرانی کی کشش اور طاقت عوام کو ایک سمت کی جانب لے جارہی ہے تاہم قدیم روایات کے پیروکار تاریخ کے اس سفر کوروکنے کی کوشش کررہے ہیں۔ آئے دن عوام عدلیہ پر فوری اور سستا انصاف فراہم نہ کرنے کاالزام عائد کرتے ہیں لیکن اگر ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی کا موازنہ عدالتی اداروں کی عملی استعداد سے کیاجائے تو افسوسناک صورتحال سامنے آئے گی۔
اسی شہر میں بیٹھ کر سب کے سامنے فیصلہ دیا تاکہ وہ برائیاں ختم ہوسکیں جن کی وجہ سے امن وامان کی صورتحال پیداہوتی ہے۔ اب دیگر اداروں پر ہے کہ وہ ان فیصلوں پر ان کی روح کے مطابق عمل درآمد یقینی بنائیں۔ اب تک اس پرعمل کیا جاتا توآج حالات بہت بہتر ہوتے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ غلطیوں سے پاک انتخابی فہرستوں کی بنیاد پر منعقد ہونیوالے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات قوم کی ترقی اور امن کی ضمانت ہیں۔عدلیہ کو آئینی طور پر یہ اختیارحاصل ہے کہ وہ کسی عمل کو کالعدم قرار دے چاہے وہ پارلیمنٹ کی جانب سے ہو یا ریاستی اداروں نے آئینی حدود بالائے طاق رکھتے ہوئے سرانجام دیا ہو۔
آئین سے انحراف ممکن نہیں،عدلیہ پر بعض اوقات ریاست کے روز مرہ کے معمولات میں دخل اندازی پر تنقید کی جاتی ہے تاہم حقیقت میں عدلیہ نے کبھی انتظامیہ یا مقننہ کا کردار ادا کرنے کی کوشش نہیں کی۔ مارچ 2009کے بعد پاکستان ایک نیا ملک ہے جہاں کے عوام نے قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کا مزہ چکھا ہے۔ عدلیہ نے آئینی حدود میں رہتے ہوئے دوسرے اداروں کی خود مختاری اور سالمیت کا احترام کیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انھوںنے ہفتے کی دوپہر سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں محمود الحسن ایڈووکیٹ کی سربراہی میں آنیوالے سندھ بارکونسل اور کراچی بار ایسوسی ایشن کے وفد سے ملاقات اور سپریم کورٹ میں انرول ہونیوالے وکلا کو اسناد کی تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ ملک میں کنٹونمنٹ سمیت تمام علاقوں میں مقامی انتخابات آئینی ضرورت ہیں ، یہ الیکشن التواء میں ہیں اگر مقامی حکومتوںکے انتخابات ہوجاتے تو بہت سے مسائل حل ہو چکے ہوتے۔ اب وہ وقت گزرگیا جب عدالتیں ریاستی اداروں کی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے دیتی تھیں، اب صرف ایک ہی رہبر رہ گیا ہے جو کہ آئین پاکستان مجریہ 1973اور وہ قوانین ہیں جو انصاف فراہم کرتے ہیں۔ عدالتوں کے فیصلوں کی بنیاد اس اصول پر ہے کہ ؛قانون سب کیلیے برابر ہے،چاہے یہ وہ بدعنوانی ہوجو ہمارے حکومتی اداروں میں ہورہی ہے ، اربوں روپے خورد برد ہوچکے ہوں۔ اسی طرح گمشدہ افراد کے متعلق مقدمے میں کوئی لیت ولعل نہ سنی گئی اور فیصلہ سناتے ہوئے صرف قانون کومدنظررکھاگیا۔
انھوں نے کہا کہ کراچی میں امن وامان کی صورتحال کاجائزہ لیتے ہوئے بھی یہی اصول مدنظر رکھا گیا،کیونکہ کراچی پاکستان کا اقتصادی اورکمرشل اہمیت کا حامل شہر ہے ۔ ہم سب کی ذمے داری ہے کہ ہم اس شہر میں امن وامان کی صورتحال کو یقینی بنائیں اورنظام حکومت میں بہتری لائیں۔ افتخار چوہدری نے کہا کہ جمہوری دور میں عدلیہ کا کردار صرف تنازعات کا تصفیہ کرنے سے بڑھ کر آئین کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھنا بھی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میں فخر محسوس کرتا ہوں کہ پاکستان کاعدالتی نظام جمہوریت کا بڑا حامی ہے اور اسے قانون سے تعلق رکھنے والے طبقے، دیگر اداروں، میڈیا اور عوام کا بھرپور ساتھ حاصل ہے۔ ہرادارے پر لازم ہے کہ وہ آئینی اقدار کا احترام کرے، ریاست کے تینوں ستون عدلیہ، انتظامیہ اور مقننہ اپنے آئینی دائرے میں رہتے ہوئے اختیارات استعمال کرسکتے ہیں تاہم وہ آئینی حدود پار کرکے اختیارات کاناجائز استعمال نہیں کرسکتے۔
انھوں نے کہا کہ عدلیہ آئین کے محافظ کے طور پر خاص طور پر عدالتی نظرثانی کے اختیار سے بھی لیس ہے تاکہ وہ اداروں اور افراد کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال کا جائزہ لے سکے۔ عدلیہ تمام اداروں کااحترام کرتی ہے لیکن جن مقدمات میں جہاں آئینی اقدار کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہو اور غیرقانونی اقدامات کیے جائیں ،عدلیہ پر لازم ہے کہ وہ نظرثانی کا اختیار استعمال کرتے ہوئے ان اقدامات کا سدباب کرے۔انھوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ عوام میں اپنے قانونی حقوق کے نفاذ اور انتظامیہ کے غیر قانونی اور ناجائز اقدامات کا جائزہ لینے کا شعور پیدا ہوتا جارہاہے۔
عدلیہ نے ریاستی اداروں میں قانون کی حکمرانی قائم کرکے اور معاشرتی برائیوں کا فوری طور پر خاتمہ کرکے مستحسن طرز حکمرانی قائم کرنے کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ افتخار چوہدری کا کہنا تھا کہملک میں انصاف کی ترسیل کے نظام کو بہت سی مشکلات کاسامنا ہے جن میں پیچیدہ قانونی طریقہ کار، پرانے قوانین، تاخیر، غیر ضروری اخراجات، زیادہ عدالتی فیس اور بدعنوانی شامل ہیں،ان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اہم ہیجو انصاف کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
ان مشکلات کا مکمل سدباب ممکن نہیں تاہم غیرجانبداری، دیانتداری اور احتساب کے ذریعے ہم بدعنوانی کے مواقع کم ضرور کرسکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ قانون کی حکمرانی کی کشش اور طاقت عوام کو ایک سمت کی جانب لے جارہی ہے تاہم قدیم روایات کے پیروکار تاریخ کے اس سفر کوروکنے کی کوشش کررہے ہیں۔ آئے دن عوام عدلیہ پر فوری اور سستا انصاف فراہم نہ کرنے کاالزام عائد کرتے ہیں لیکن اگر ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی کا موازنہ عدالتی اداروں کی عملی استعداد سے کیاجائے تو افسوسناک صورتحال سامنے آئے گی۔