زرداری صدر کے کردار سے باہر نکلے تو الیکشن متنازع ہوجائینگے نواز شریف
بلوچستان کامسئلہ صرف معافی مانگنے سے حل نہیںہوگا، اخترمینگل
لاہور: مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق کے والد خواجہ رفیق کی برسی کے سلسلے میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کررہے ہیں۔ فوٹو: آن لائن
NIDERRAU, GERMANY:
مسلم لیگ (ن) کے صدرنوازشریف نے کہاہے کہ صدرآصف زرداری سے درخواست کرتا ہوںکہ وہ اپنے صدارتی رول سے باہرنکلنے کی کوشش نہ کریں ورنہ خودبھی متنازع ہوجائیںگے اورآئندہ انتخابات کوبھی متنازع بنادیں گے۔
ملک میں بہت سے باتیں ہورہی ہیں لیکن انتخابات ملتوی ہوں گے نہ ہی مؤخر،انتخابات ہرصورت مقررہ وقت پرہوںگے،این آر او نے کام دکھایا اور 2008 میں میرے اورشہبازشریف کے کاغذات مسترد ہوئے مجھے بھی کہاگیاکہ پرویز مشرف آپ سے ملناچاہتے ہیں،مکہ مدینہ میں مل لیں، اکٹھے عمرہ کرلیں،صرف ایک گھنٹہ دیدیں لیکن میں نے کہاکسی سے بھی مل سکتاہوں،سیاست چھوڑ سکتاہوں لیکن پرویزمشرف سے ہاتھ نہیں ملائوں گا، بہت جلداخترمینگل سے بات کروںگا،سیاست کو ریاست سے الگ کرناجسم اورروح کوالگ کرنے کے مترادف ہے، ن لیگ آئندہ انتخابات میں بھی بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔
ہم نے جلا وطنی قبول کی لیکن فوجی آمر کے سامنے جھکے اورنہ ہی این آراو کیا۔ہفتے کوالحمرالاہورمیں مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی خواجہ سعدرفیق کے والدکی برسی کے حوالے سے ''حقیقی آزادی شفاف جمہوریت اورپاکستان'' کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ خواجہ رفیق شہید کی سیاسی زندگی کا مقصد کسی کو اقتدار میں لانا اور کسی کو اقتدار سے نکالنا نہیں تھا بلکہ ان کی زندگی کا اصل مقصد یہاں پر جمہوریت اور عوام کی حکمرانی قائم کرنا تھا،قائد اعظم کا پاکستان وہ تھا جس میں بنگلہ دیش بھی ہمارا حصہ تھا،آج قائد اعظم کا پاکستان ادھوراہے بنگلہ دیش میں جو کچھ ہوا اس پر شاید بہت کم آنکھیں روئی۔
1971کے بعدبھی اب تک اس ملک میں19 سال آمریت رہی اورملک میں جمہوری اورقانونی جدوجہد کرنیوالوںکوجیلوں اور عقوبت خانوں میں ڈال دیاگیا،جلا وطن کیا گیا،پھانسی دی گئی اور گولیاں ماری گئیں ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی اکبر بگٹی کو گولی ماری گئی تھی، اگر سیاست کرنا غلط اورمشکل تھا تو قائد اعظم نے یہ راستہ کیوں اختیارکیا،عوام تبدیلی کیلیے بے چین ہیں اور اپنے ووٹ کے ذریعے تبدیلی لانے کیلیے تیار ہیں،بہت اچھا ہو رہا ہے کہ موجودہ حکومت اپنے 5سال پورے کررہی ہے ہم نے ان پانچ سالوں میں اپنے دل پرپتھررکھ کرصبرکیااورپاکستان کے آئین اور اداروں کوٹھیک کرنے کیلیے اپناکردارادا کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ4سال پہلے کس میں یہ جرأؐت تھی کہ وہ آئین توڑنے والے جرنیلوں،ججز اورانٹیلی جنس اداروں کے خلاف بات کرے اورکوئی بھی اسٹیبلشمنٹ کوناراض نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن سب سے پہلے ہم نے حق کی بات کی۔
جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہاکہ اگرتمام سیاسی جماعتیں اس بات پرمتفق ہوجائیں کہ ملک میںکسی بھی صورت غیرآئینی اقدام قبول نہیںکیاجائیگاتواس ملک کوحقیقی آزادی کی منزل تک پہنچنے سے دنیاکی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔سرداراخترمینگل نے تقریب سے ٹیلی فون پرخطاب کرتے ہوئے کہاکہ وہ بلوچستان جہاں پرلوگ پناہ کیلیے آتے تھے،آج وہی بلوچ عوام پناہ مانگتے ہیں اوریہاں پرمسخ شدہ لاشوںکے بعدلاپتہ افرادکے خاندانوںکے ساتھ جوبیتتی ہے اس کوالفاظ میں بیان نہیںکیاجاسکتا،بلوچستان کے حالات دن بدن خراب ہوتے جارہے ہیں،صرف معافی مانگنے سے بلوچستان کامسئلہ حل نہیں ہوگا۔
عاصمہ جہانگیرنے کہاکہ بلوچستان کے حالات اپنی جگہ لیکن گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے حالات بھی بہت خراب ہیں اور گلگت بلستان میں ہر کوئی آزادی کا نعرہ لگارہا ہے،پاکستان کومعاشی طورپرمضوط بنانے کیلیے خارجہ پالیسی کوبھی ٹھیک کرنا ہو گا،جب تک خارجہ پالیسی جرنیلوںکے ہاتھوں میں رہے گی وہ ہمیں چین سے بیٹھنے نہیں دیںگے،ملک کامستقبل جرنیلوں نہیں سیاستدانوں کے ہاتھوں میں ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے صدرنوازشریف نے کہاہے کہ صدرآصف زرداری سے درخواست کرتا ہوںکہ وہ اپنے صدارتی رول سے باہرنکلنے کی کوشش نہ کریں ورنہ خودبھی متنازع ہوجائیںگے اورآئندہ انتخابات کوبھی متنازع بنادیں گے۔
ملک میں بہت سے باتیں ہورہی ہیں لیکن انتخابات ملتوی ہوں گے نہ ہی مؤخر،انتخابات ہرصورت مقررہ وقت پرہوںگے،این آر او نے کام دکھایا اور 2008 میں میرے اورشہبازشریف کے کاغذات مسترد ہوئے مجھے بھی کہاگیاکہ پرویز مشرف آپ سے ملناچاہتے ہیں،مکہ مدینہ میں مل لیں، اکٹھے عمرہ کرلیں،صرف ایک گھنٹہ دیدیں لیکن میں نے کہاکسی سے بھی مل سکتاہوں،سیاست چھوڑ سکتاہوں لیکن پرویزمشرف سے ہاتھ نہیں ملائوں گا، بہت جلداخترمینگل سے بات کروںگا،سیاست کو ریاست سے الگ کرناجسم اورروح کوالگ کرنے کے مترادف ہے، ن لیگ آئندہ انتخابات میں بھی بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔
ہم نے جلا وطنی قبول کی لیکن فوجی آمر کے سامنے جھکے اورنہ ہی این آراو کیا۔ہفتے کوالحمرالاہورمیں مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی خواجہ سعدرفیق کے والدکی برسی کے حوالے سے ''حقیقی آزادی شفاف جمہوریت اورپاکستان'' کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ خواجہ رفیق شہید کی سیاسی زندگی کا مقصد کسی کو اقتدار میں لانا اور کسی کو اقتدار سے نکالنا نہیں تھا بلکہ ان کی زندگی کا اصل مقصد یہاں پر جمہوریت اور عوام کی حکمرانی قائم کرنا تھا،قائد اعظم کا پاکستان وہ تھا جس میں بنگلہ دیش بھی ہمارا حصہ تھا،آج قائد اعظم کا پاکستان ادھوراہے بنگلہ دیش میں جو کچھ ہوا اس پر شاید بہت کم آنکھیں روئی۔
1971کے بعدبھی اب تک اس ملک میں19 سال آمریت رہی اورملک میں جمہوری اورقانونی جدوجہد کرنیوالوںکوجیلوں اور عقوبت خانوں میں ڈال دیاگیا،جلا وطن کیا گیا،پھانسی دی گئی اور گولیاں ماری گئیں ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی اکبر بگٹی کو گولی ماری گئی تھی، اگر سیاست کرنا غلط اورمشکل تھا تو قائد اعظم نے یہ راستہ کیوں اختیارکیا،عوام تبدیلی کیلیے بے چین ہیں اور اپنے ووٹ کے ذریعے تبدیلی لانے کیلیے تیار ہیں،بہت اچھا ہو رہا ہے کہ موجودہ حکومت اپنے 5سال پورے کررہی ہے ہم نے ان پانچ سالوں میں اپنے دل پرپتھررکھ کرصبرکیااورپاکستان کے آئین اور اداروں کوٹھیک کرنے کیلیے اپناکردارادا کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ4سال پہلے کس میں یہ جرأؐت تھی کہ وہ آئین توڑنے والے جرنیلوں،ججز اورانٹیلی جنس اداروں کے خلاف بات کرے اورکوئی بھی اسٹیبلشمنٹ کوناراض نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن سب سے پہلے ہم نے حق کی بات کی۔
جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہاکہ اگرتمام سیاسی جماعتیں اس بات پرمتفق ہوجائیں کہ ملک میںکسی بھی صورت غیرآئینی اقدام قبول نہیںکیاجائیگاتواس ملک کوحقیقی آزادی کی منزل تک پہنچنے سے دنیاکی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔سرداراخترمینگل نے تقریب سے ٹیلی فون پرخطاب کرتے ہوئے کہاکہ وہ بلوچستان جہاں پرلوگ پناہ کیلیے آتے تھے،آج وہی بلوچ عوام پناہ مانگتے ہیں اوریہاں پرمسخ شدہ لاشوںکے بعدلاپتہ افرادکے خاندانوںکے ساتھ جوبیتتی ہے اس کوالفاظ میں بیان نہیںکیاجاسکتا،بلوچستان کے حالات دن بدن خراب ہوتے جارہے ہیں،صرف معافی مانگنے سے بلوچستان کامسئلہ حل نہیں ہوگا۔
عاصمہ جہانگیرنے کہاکہ بلوچستان کے حالات اپنی جگہ لیکن گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے حالات بھی بہت خراب ہیں اور گلگت بلستان میں ہر کوئی آزادی کا نعرہ لگارہا ہے،پاکستان کومعاشی طورپرمضوط بنانے کیلیے خارجہ پالیسی کوبھی ٹھیک کرنا ہو گا،جب تک خارجہ پالیسی جرنیلوںکے ہاتھوں میں رہے گی وہ ہمیں چین سے بیٹھنے نہیں دیںگے،ملک کامستقبل جرنیلوں نہیں سیاستدانوں کے ہاتھوں میں ہے۔