افغان آئین تبدیل کیا جائے مذاکرات کیلیے طالبان کی شرط

فرانسیسی تھنک ٹینک کے زیراہتمام پیرس کے خفیہ مقام پر طالبان اور افغان رہنمائوں کا اجلاس.

فرانسیسی تھنک ٹینک کے زیراہتمام پیرس کے خفیہ مقام پر طالبان اور افغان رہنمائوں کا اجلاس. فوٹو: فائل

BANGALORE:
افغانستان کے طالبان نے مجوزہ امن عمل میں شرکت کی شرط کے طور پر ملک کا آئین تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

فرانس میں ہونے والے ایک اہم اجلاس میں شریک طالبان کے نمائندے نے ایک تحریری بیان میں کہا کہ موجودہ آئین کی ہمارے نزدیک کوئی وقعت نہیں کیونکہ یہ بیرونی حملہ آوروں کے بی52 طیاروں کی بمباری کے سائے میں تیار کیا گیا تھا۔ اسلامی امارات (افغانستان) کو اپنی بہادر قوم کیلئے ایک ایسے آئین کی ضرورت ہو جو اسلامی اصولوں، قومی مفادات اور تاریخی کامیابیوں پر استوار ہو۔ فرانس میں ہونے والا یہ اجلاس پیرس کے کسی نامعلوم مقام پر بند دروازے کے پیچھے ہورہا ہے اور اس کا اہتمام فرانسیسی تھنک ٹینک فائونڈیشن اسٹریٹجک ریسرچ نے کیا ہے۔




اس اجلاس میں افغانستان کے متحارب دھڑوں کے نمائندوں کو مدعو کیا گیا ہے اور امریکی حملے کے بعد پہلی بار سنیئر قیادت ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کیلئے اکٹھی ہوئی ہے۔ اے ایف پی نے بتایا کہ اجلاس میں شرکت کے باوجود طالبان نے افغان حکومت کے بارے میں اپنی بداعتمادی کا اظہار کیا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ بیرونی حملہ آوروں اور ان کے خیرخواہوں کا امن کے بارے میں واضح روڈ میپ نہیں، کبھی وہ کہتے ہیں کہ وہ اسلامی امارات سے مذاکرات چاہتے ہیںکبھی کہتے ہیں وہ پاکستان سے بات چیت کریں گے۔ اس قسم کے مبہم اقدمات سے کبھی امن نہیں آسکتا۔
Load Next Story