بشیربلورپرحملہ20روزقبل بڑی کارروائی کی اطلاع ملی تھی
حساس اداروں نے ٹیلیفون کال انٹرسپٹ کی تھی جس میں سیاسی شخصیت کونشانہ بنانے کا کہا گیا تھا
حساس اداروں نے ٹیلیفون کال انٹرسپٹ کی تھی جس میں سیاسی شخصیت کونشانہ بنانے کا کہا گیا تھا فوٹو : ایکسپریس/فائل
انٹیلی جنس اداروں کے مطابق بشیربلور پر حملے کے متعلق انہیں اطلاع تھی جس سے انھیں آگاہ بھی کیاگیا۔
حساس اداروں کے مطابق20 دن پہلے انھوں نے تحریک طالبان کی ایک ٹیلفون کال انٹرسپ کی تھی جس میں انھوں نے نام لیے بغیرکہا تھا کہ بہت جلد پشاور کے ایک بڑی سیاسی شخصیت جوکہ حکومت میں اہم عہدے پر فائز ہیں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ جو کال انٹیلی جنس اداروں نے سنی تھی اس میں نشانہ بننے والی شخصیت کا نام واضح طور پر نہیں بتایاگیا تھا ۔ بشیر بلور کو مطلع کیاگیا تھا تاہم بشیر احمد بلور اپنی سیکیورٹی سے بے پراو تھے اور اکثر ایک سیکیورٹی گارڈ کے ہمراہ شہر میں گھومتے تھے۔ تاہم ایک دوسرے ذرائع نے بتایاکہ ائیرپورٹ پر حملے کے پیچھے غیرملکی دہشت گرد جبکہ بشیرخان پر حملہ پاکستانی طالبان کی کارروائی ہے۔
حساس اداروں کے مطابق20 دن پہلے انھوں نے تحریک طالبان کی ایک ٹیلفون کال انٹرسپ کی تھی جس میں انھوں نے نام لیے بغیرکہا تھا کہ بہت جلد پشاور کے ایک بڑی سیاسی شخصیت جوکہ حکومت میں اہم عہدے پر فائز ہیں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ جو کال انٹیلی جنس اداروں نے سنی تھی اس میں نشانہ بننے والی شخصیت کا نام واضح طور پر نہیں بتایاگیا تھا ۔ بشیر بلور کو مطلع کیاگیا تھا تاہم بشیر احمد بلور اپنی سیکیورٹی سے بے پراو تھے اور اکثر ایک سیکیورٹی گارڈ کے ہمراہ شہر میں گھومتے تھے۔ تاہم ایک دوسرے ذرائع نے بتایاکہ ائیرپورٹ پر حملے کے پیچھے غیرملکی دہشت گرد جبکہ بشیرخان پر حملہ پاکستانی طالبان کی کارروائی ہے۔