بہترین ڈپلومیسی

سرتاج عزیز اپنے اعلان کے مطابق امرتسر گئے۔ ’’ہارٹ آف ایشیا‘‘ کانفرنس میں شرکت کی

tauceeph@gmail.com

RATODERO:
سرتاج عزیز اپنے اعلان کے مطابق امرتسر گئے۔ ''ہارٹ آف ایشیا'' کانفرنس میں شرکت کی۔ اس کانفرنس کے مشترکہ اعلامیے میں 30 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی پر پاکستان اور ایران کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ اعلامیہ میں امید ظاہر کی گئی کہ عالمی برادری افغانستان کی مدد جاری رکھے گی۔اعلامیہ میں طالبان، حقانی نیٹ ورک گروپ، لشکر طیبہ، جیش محمد اور دیگر دہشت گردوں کی پرتشدد کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ روس نے پاکستان پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور افغان صدر اشرف غنی کی تنقید کو مسترد کردیا۔

بھارتی حکام نے وزیراعظم پاکستان کے مشیر کے ساتھ ناروا سلوک کیا۔ سرتاج عزیز کو گولڈن ٹیمپل جانے اور پریس کانفرنس کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ بھارت میں تعینات پاکستانی سفیر عبدالباسط جب پاکستانی صحافیوں سے بات چیت کررہے تھے تو بھارتی سیکیورٹی اہلکار نے مداخت کرنے کی کوشش کی، اس طرح سرتاج عزیز اور بھارتی وزیراعظم میں مذاکرات نہیں ہوئے۔ بھارتی صحافی بھی بھارتی حکومت کے اس رویے کی مذمت کررہے ہیں۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا دورۂ بھارت جدید ڈپلومیسی کے تقاضوں کے مطابق تھا۔ گزشتہ سال پاکستان ''ہارٹ آف ایشیا'' کانفرنس کا میزبان تھا، اس لیے اس کانفرنس میں پاکستان کی موجودگی ضروری تھی۔ تمام تر کشیدہ ماحول کے باوجود پاکستان کا بین الاقوامی برادری میں امیج بہتر ہوا۔

پاکستان اور بھارت کی 69 سالہ تاریخ کشیدگی اور مفاہمت کی عجیب داستان ہے۔ بھارت اور پاکستان کی آزادی کے ساتھ کشمیر کا مسئلہ پیدا ہوا۔ دونوں ممالک کے درمیان اس مسئلے پر تین بڑی جنگیں اور تین چھوٹی جنگیں ہوچکی ہیں۔ بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے بعد سابق صدر پرویز مشرف اور بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے درمیان ایک معاہدے پر اتفاق رائے ہوا، مگر 2013 کے آغاز سے کنٹرول لائن کا درجہ حرارت انتہائی بڑھ گیا۔

جب وزیراعظم نواز شریف نے اقتدار سنبھالا تو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ کنٹرول لائن پر ہونے والی فائرنگ مسلسل جنگ میں تبدیل ہوجائے گی مگر پھر دونوں ممالک کے ڈائریکٹر ملٹری آپریشن کے درمیان ہاٹ لائن پر رابطہ ہوا اور کنٹرول لائن پر فائرنگ رک گئی۔ وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت انتخابات میں کامیاب ہوئی، مودی وزیراعظم بنے اور حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے وزیراعظم نواز شریف دہلی گئے۔ اس طرح دونوں ممالک کے درمیان تجارت بڑھ گئی۔ وزیراعظم مودی، میاں نواز شریف کی نواسی کی شادی میں شرکت کے لیے لاہور آئے اور رائیونڈ گئے۔ مگر پھر پٹھان کوٹ کے ہوائی اڈے پر نامعلوم افراد نے حملہ کیا۔ بھارت نے حملے کا الزام نان اسٹیٹ ایکٹر پر عائد کیا جن کا مرکز پاکستانی پنجاب میں تھا۔ وفاقی حکومت نے ان عناصر کی سرکوبی کا عزم کیا۔

بعد ازاں جموں و کشمیر میں عوامی بغاوت پھیل گئی۔ ایک نوجوان برہان مظہر وانی کے ماورائے عدالت قتل کے بعد کشمیر میں احتجاج شروع ہوا۔ بھارتی حکومت نے انتہائی بربریت کا مظاہرہ کیا۔ چھرے والی بندوقوں کے استعمال سے کئی نوجوان نابینا ہوگئے، کئی افراد ان مظاہروں میں مارے گئے اور وادئ کشمیر میں چار ماہ تک کرفیو لگادیا۔ بھارتی حکومت نے حریت کانفرنس کے رہنماؤں سے مذاکرات کے لیے ایک وفد سری نگر بھیجا مگر حریت رہنماؤں نے اس وفد سے مذاکرات سے انکار کیا۔

اب صورتحال اتنی خراب ہے کہ کشمیر کی آزادی اور ڈوگر راج کے خلاف ساری زندگی جدوجہد کرنے والے شیخ عبداﷲ کے صاحبزادے فاروق عبداﷲ اور عمر عبداﷲ کشمیر کے بحران کی ذمے داری بھارتی حکومت پر عائد کررہے ہیں۔ بھارتی حکومتوں کے سخت ترین اقدامات کے باوجود کشمیر میں صورتحال کسی صورت معمول پر نہیں آرہی۔ بھارتی فوج تشد دکے بدترین طریقے استعمال کررہی ہے مگر کشمیری نوجوان اب کسی ظلم کو خاطر میں لانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔


جب 1948 میں قبائلی لشکر کشمیر میں داخل ہوگیا تو مہاراجہ کشمیر نے بھارت سے مدد کی درخواست کی۔ بھارتی فوجیں سری نگر کو بچانے کے لیے کشمیر میں داخل ہوئیں۔ قائداعظم نے فوج کے سربراہ جنرل گیری کو کشمیر میں فوج بھیجنے کا حکم دیا مگر انگریز جنرل نے اپنی ہائی کمانڈ کی ہدایت پر گورنر جنرل کا حکم ماننے سے انکار کیا تو جنرل گیری کو رخصت کردیا گیا۔ اب پاکستانی فوج کشمیر میں پیش قدمی کرنے لگی تو بھارت اس مسئلے کو سلامتی کونسل میں لے گیا، یوں سیز فائر ہوگیا اور اقوام متحدہ نے دونوں ممالک کو کشمیر سے فوجیں نکالنے اور کشمیر میں ریفرنڈم کرانے کا حکم دیا، مگر اس قرارداد پر مکمل طور پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ نہ بھارت اور پاکستان نے کشمیر سے فوجیں واپس بلائیں اور نہ بھارت ریفرنڈم کے لیے تیار ہوا۔

پہلے بھارت ریفرنڈم کا وعدہ کرتا رہا مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بھارت کا موقف تبدیل ہوگیا۔ جب 60 کی دہائی میں بھارت اور چین میں جنگ ہوئی تو امریکا کو یہ خطرہ محسوس ہوا کہ پاکستان کشمیر پر حملہ نہ کردے، اس لیے امریکا نے بھارت اور پاکستان کے درمیان مذاکرات شروع کرائے مگر مذاکرات کے پہلے دور کے بعد چین اور بھارت کے درمیان جنگ بندی ہوگئی۔

پھر بھارت مذاکرات کے لیے واپس نہیں آیا۔ پاکستان اپنی ناقص خارجہ پالیسی کی بنا پر امریکا کو اس بات پر آمادہ نہیں کرسکا کہ وہ بھارت کو اس مسئلے کے حل کے لیے تیار کرلے۔ گزشتہ صدی میں کشمیر کے مسئلے کے حل کا سب سے اہم موقع تھا جو ضایع ہوگیا۔ 1965 اور 1971 کی جنگوں کا کشمیر کے تناظر میں کوئی حل نہیں نکلا۔ دونوں ممالک مختلف ادوار پر بات چیت اور کشیدگی کے دور سے گزرے مگر جنرل پرویز مشرف نے کشمیر کی پالیسی میں تبدیلی کی تجویز پیش کرکے بھارت کو مدافعتی پالیسی اختیار کرنے پر مجبور کردیا۔ پرویز مشرف نے کشمیر کے مسئلے کے 6 حل پیش کیے تھے۔ بھارتی حکومت اس وقت اس صورتحال کو قبول نہ کرسکی۔

تاریخ کی عجب ستم ظریفی ہے کہ آگرہ سربراہ کانفرنس کشمیر کے مسئلے کے بجائے کراس بارڈر دہشت گردی کے معاملے پر ناکام ہوئی۔ سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف اور من موہن سنگھ حکومت کشمیر کے مسئلے کے حل کے نزدیک پہنچ گئے تھے مگر سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کی تحریک کی بناء پر مشرف حکومت توازن کھو بیٹھی، مگر اب صورتحال پھر تبدیل ہورہی ہے۔ بھارت اور امریکا گزشتہ 5 برسوں کے دوران بہت قریب آچکے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے بھارت نوازی کے دعوے صورتحال کو کشیدہ کررہے ہیں۔ برطانیہ اور یورپی ممالک اپنے ممالک کی دہشت گردی کے حملوں کی وجہ سے خاصے فاصلے پر ہیں۔ صرف چین ہی کھل کر پاکستان کی حمایت کرتا ہے، مگر چین کے اس خطے کے ممالک ایران، افغانستان اور بھارت سے قریبی تجارتی تعلقات قائم ہیں، اس طرح چین کی خارجہ پالیسی خاصی گہری ہے۔ پاکستان کے دیگر دوست ممالک سعودی عرب، ابوظہبی اور کویت وغیرہ داخلی بحرانوں کا شکار ہیں۔ ترکی اور پھر روس پاکستان کی حمایت کررہے ہیں۔ ایران کے بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات گہرے ہورہے ہیں۔ اس گمبھیر صورتحال میں جذبات سے بالاتر خارجہ پالیسی کی ضرورت ہے۔

سرتاج عزیز ڈپلومیسی کے جدید اصولوں پر عمل کررہے ہیں۔ امرتسر کا دورہ جدید ڈپلومیسی کے تقاضوں کے مطابق ہے۔ پاکستان کو بات چیت اور مذاکرات کا راستہ کبھی ترک نہیں کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم کا بڑے پیمانے پر پروپیگنڈا کرنا چاہیے۔ بات چیت کے ماحول میں بھارت کے لیے صورتحال خراب ہوگی۔ حکومت پاکستان نے بھارتی شہریوں کو ویزا دینے کی پالیسی سخت نہیں کی ہے، مگر بھارتی حکومت کی سخت پالیسی تنقید کا باعث بن رہی ہے۔ اگرچہ سرتاج عزیز اور ان کے وفد کو کشیدہ ماحول میں امرتسر جانا پڑا مگر ڈپلومیٹ ایسے بحرانوں سے گزرتے رہتے ہیں۔ بات چیت کا عمل اور امن کی آرزو سب کے مفاد میں ہے۔
Load Next Story