سانحہ آرمی پبلک سکول۔۔۔۔ زخم آج بھی تازہ ہیں

ایکسپریس فورم پشاور میں سانحہ آرمی پبلک سکول کی دوسری برسی کے موقع پر منعقدہ مذاکرہ کی رپورٹ

ایکسپریس فورم پشاور میں سانحہ آرمی پبلک سکول کی دوسری برسی کے موقع پر منعقدہ مذاکرہ کی رپورٹ ۔ فوٹو : ایکسپریس

16دسمبر کی تاریخ1971ء کے بعدملکی تاریخ میں نحوست کی علامت کے طور پر دیکھی جاتی ہے اور اس روز پوری قوم غم اور افسوس کی کیفیت کا شکار رہتی ہے کیونکہ یہی وہ دن تھا کہ جس روز سقوط ڈھاکہ ہوا تھا،ملک کا مشرقی بازو کٹ کر بنگلہ دیش بناتھا اور جنرل جگجیت سنگھ اروڑا سے لے کر اندراگاندھی تک سب نے ہی اس دن خوشیاں منائی تھیں لیکن قوم کو معلوم نہیں تھا کہ اس تاریخ کی نحوست اوروحشت میں ابھی مزید اضافہ ہونا ہے۔

دو سال قبل 16 دسمبر 2014ء وہ سیاہ دن تھا کہ جب معمول کے مطابق ماؤں نے اپنے بچوں کو تیار کیا،ناشتہ کرایا اورگلے لگاکر سکول کے لیے رخصت کیا ،کوئی بس میں سوار ہوکر سکول پہنچا تو کوئی کسی دوسری سواری کے ذریعے اور کسی کو اس کے والد نے سکول ڈراپ کیا اورپھر تھوڑی ہی دیر بعد اطلاع آئی کہ آرمی پبلک سکول پشاور میں دہشت گرد گھس آئے ، وہ بم اور اسلحہ سے لیس تھے۔

سکول کے اندر گولیاں چلتی رہیں، بم دھماکے ہوتے رہے،دہشت گرد اپنے بھاری بوٹوں سے معصوم بچوں کی معصومیت کو کچلتے رہے ،ان کے جسموں پر گولیوں کی صورت میں آتش وآہن کی بارش برساتے رہے اور تباہی و بربادی کی ایسی داستان رقم کرتے رہے جس میں ڈیڑھ سو کے قریب بچے اپنی پرنسپل مسز طاہرہ قاضی کے ہمراہ شہادت کے درجے پر فائز ہوئے ۔ ان سفاک دہشت گردوں نے ایسی بدترین داستان رقم کی ہے جو ان جنگوں میں بھی نہیں ملتی جنہیں تاریخ میں وحشت کی علامت کے طور پر لکھا گیا ہے۔

اس سانحہ کو دو سال ہوگئے ہیں،سیاسی جماعتیں آئندہ عام انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہوچکی ہیں،پاکستان تحریک انصاف اورپاکستان مسلم لیگ(ن)پانامہ کے معاملہ پر ایک دوسرے سے سینگ پھنسائے بیٹھی ہیں ،ایک آرمی چیف ریٹائر ہو گئے، نئے آرمی چیف کی تقرری ہو گئی، بہت کچھ بدل گیا لیکن ان والدین کا غم کم نہیں ہوسکا جن کے جگر گوشوں کو بے دردی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتارا گیا ،ان کے زخم آج بھی ہرے ہیں، وہ آج بھی انصاف کے طالب ہیں اور اس بات کے منتظر ہیں کہ ان لوگوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایاجائے گا جنہوں نے ان کے پھول جیسے بچوں کو بے دردی کے ساتھ مسل ڈالا ۔ سانحہ اے پی ایس میں شہید ہونے والے بچوں کے والدین کے جذبات کیا ہیں؟

وہ اس سانحہ کے حوالے سے کیا کہتے ہیں؟ صوبائی حکومت کہاں کھڑی ہے اور سیاسی جماعتیں دو سال بعد اس سانحہ کو آج کیسے دیکھ رہی ہیں ؟اسی سلسلے میں ''ایکسپریس فورم'' میں ایک مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں حکومتی و اپوزیشن رہنماؤں اور شہید بچوں کے والدین نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ فورم میں ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔

شوکت علی یوسفزئی
(مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات، پاکستان تحریک انصاف)
یہ بہت بڑاسانحہ تھا جس پر کسی بھی قسم کی سیاسی پوائنٹ سکورنگ نہیں ہونی چاہیے۔ یہ دکھ اور درد کسی ایک کا نہیں بلکہ پورے صوبے ، پورے ملک اور ہم سب کا درد ہے لیکن جن کے جگر گوشے اس سانحہ کی نظر ہوئے ہیں ان والدین کا دکھ اور درد ہم سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ بچوں کا نعم البدل کوئی نہیں ہوسکتا۔ مذکورہ سانحہ کے حوالے سے ضرور غفلت ہوئی ہوگی لیکن صوبائی حکومت نے اس کے بعد کئی اقدامات کیے ہیں ،اس سلسلے میں اسپیکر صوبائی اسمبلی اسد قیصر کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی تاکہ وہ تمام اقدامات کی نگرانی کرسکے۔

مختلف سرکاری سکولوں اور چوکوں کے نام تبدیل کرتے ہوئے اے پی ایس شہداء کے ناموں سے انہیں موسوم کیاگیا اور چونکہ والدین کی جانب سے مطالبہ کیاگیاتھا کہ اے پی ایس شہداء کے نام سے یونیورسٹی قائم کی جائے جس کے لیے صوبائی حکومت نے نوشہرہ کی ٹیکنیکل یونیورسٹی کو اے پی ایس کے نام سے موسوم کیا۔ جہاں تک اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کے قیام کے مطالبہ کا تعلق ہے تو ہم اس کی حمایت کرتے ہیں کہ کمیشن تشکیل دیاجانا چاہیے تاکہ حقائق سامنے آسکیں اور مرکزی حکومت کو بھی اس میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

ہمارا صوبہ تو گزشتہ کئی سالوں سے دہشت گردی کا شکار ہے اوراب اس دہشت گردی کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ اس لیے اگر سانحہ اے پی ایس سے متعلق اصل حقائق تلاش کرنے کے لیے جوڈیشل کمیشن کے قیام کی بات کی جاتی ہے تو اس میں کیا حرج ہے یہ ضرور بننا چاہیے ۔ حکومت نے بچوں کے والدین کو بیس ،بیس لاکھ روپے دیئے تاہم یہ پیسہ ان بچوں کا نعم البدل کسی بھی طور نہیں ہوسکتا نہ ہی اس پیسہ کی وجہ سے والدین کا دکھ اور درد کم ہوسکتاہے ۔

صوبائی حکومت نے آرکائیوزہال میں ان بچوں کے حوالے سے یادگار تعمیر کرنے کا اعلان کیاتھا جس کے بارے میں سپیکر ہی سے درست معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں کیونکہ وہ اس کمیٹی کے چیئرمین ہیں جو صوبائی حکومت نے تشکیل دی تھی تاہم میں نے گلبہار پشاور میں انعم صنم چوک میں یادگار تعمیر کرائی ہے جسے پہلے ہی عزیر شہید چوک کا نام بھی دیاجاچکاہے اور اس یادگار پر ان تمام شہداء کے نام درج کیے جائیں گے جو اس سانحہ میں شہیدہوئے۔ شہداء کے والدین اور ورثاء جو بھی اقدامات چاہتے ہیں ہم وہ کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ انہیں ریلیف مل سکے۔

جہاں تک والدین کی جانب سے اس مطالبہ کا تعلق ہے کہ صوبائی حکومت نے اپنے طور پر جو انکوائری کی تھی وہ رپورٹ کہاں ہے ؟اور یہ رپورٹ اب تک سامنے کیوں نہیں لائی جاسکی تو اس بارے میں یقینی طور پر والدین کا یہ موقف درست ہے کہ اگر وہ عدالت سے رجوع کرتے ہیں اور عدالت صوبائی حکومت کو یہ حکم دیتی ہے کہ وہ رپورٹ سامنے لائی جائے تو ہم ضرور سامنے لے کر آئیں گے لیکن یہ بات بالکل واضح بھی ہے کہ تمام امور پر صوبائی حکومت کا اختیار نہیں کیونکہ کئی امور مرکزی حکومت اور دیگر اداروں سے منسلک ہیں ۔نیشنل ایکشن پلان ،سانحہ اے پی ایس کے بعد ترتیب دیاگیا لیکن اس پر عملدرآمد صرف خیبرپختون خوا ہ میں ہی ہورہاہے۔

صوبائی حکومت کسی بھی مصلحت کا شکار نہیں ،ہم تو نے اس واقعہ کے بعد پولیس کو مکمل طور پر غیر سیاسی کیا اور اسے اختیارات دیئے ،آج جو امن قائم ہوا ہے اس میں یقینی طور پر آپریشن ضرب عضب کا کمال شامل ہے تاہم پولیس کی کارکردگی سے بھی بہتری آئی ہے۔ ہمارے ساتھ مرکز کا رویہ نا مناسب ہے جو ہمیں مالی وسائل فراہم نہیں کررہا جس کی وجہ سے صوبہ مشکلات کا شکار ہے۔

سانحہ اے پی ایس کے بعد مرکز بہت کچھ کرسکتاتھا کیونکہ اس وقت تمام سیاسی جماعتیں ایک ہی صفحہ پر تھیں اور مرکز جو بھی فیصلہ کرتا سب ہی اس کا ساتھ دیتے لیکن یہاں تو صورت حال یہ ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ خیبرپختونخوا سے پردہ کیے بیٹھے ہیں۔ اے پی ایس کے معاملے پر صوبہ، مرکز کے ساتھ بیٹھنے اور مشترکہ لائحہ عمل وضع کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے ،تاکہ اے پی ایس سمیت تمام مسائل کاحل نکالاجاسکے۔

شگفتہ ملک
(سابق رکن صوبائی اسمبلی ورہنما عوامی نیشنل پارٹی)
جن والدین کے بچے اس سانحہ میں بربریت کا شکار ہوئے ہیں ان کے یہ دو سال بھی کسی عذاب سے کم نہیں گزرے ہوں گے۔ اس واقعہ نے پوری قوم کے دلوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور آج بھی اس کی یادیں کسی زخمی کی طرح درد کا احساس دیتی ہیں۔ بدقسمتی سے ہم ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جس میں ان پھول جیسے بچوں کی بھی ہم حفاظت نہیں کر سکتے۔

اس سانحہ کو دو سال ہو گئے ہیں لیکن ان کے قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ ہمیں اب اپنی ناکامی کو تسلیم کر لینا چاہیے کہ واقعہ کی انکوائری بھی فائلوں کی نذر ہو کر رہ گئی ہے جب کہ نیشنل ایکشن پلان جس پر تمام سیاسی جماعتیں متفق تھیں وہ بھی ہوا میں اڑا دیا گیا، تاحال اس پر کوئی عملدرآمد نہیں کیا جا سکا ہے، جب تک نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد نہیں ہو گا اس وقت تک والدین کے چھلنی جگر تسلی نہیں پا سکیں گے اور اسی طرح ہر سال پوری قوم سے اپنے بچوں کے لہو کا حساب مانگتے رہیں گے۔


نیشنل ایکشن پلان جس میں 20 نکات مشترکہ طورپر ڈالے گئے تھے، افسوسناک امر یہ ہے کہ اداروں پر حملہ کرنے والوں کو تو گرفتار کر کے پھانسی مل گئی لیکن عام افراد کے خون میں ہاتھ رنگنے والوں کو جو کہ اس واقعہ میں اصل محرک تھے اب بھی کوئی سزا نہیں دی جا سکی ہے۔ انہی نکات میں مدارس کی رجسٹریشن، چیک اینڈ بیلنس اور مانیٹرنگ سسٹم کی بات کی گئی کہ جو بھی مدارس کسی دہشت گردی کے حوالے سے کسی کے ساتھ منسلک ہوں گے تو ان کے خلاف بھی سخت اقدامات ہوں گے لیکن اس کے برعکس مدارس کو فنڈزسے نوازاگیا۔

یہاں یہ بات بہت اہم ہے کہ پنجاب میں بھی دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کا اعلان کیا گیا تھا لیکن سوال یہ ہے کہ پنجاب میں تاحال کوئی کارروائی عمل میں کیوں نہیں لائی جا سکی۔ سب جانتے ہیںدہشت گردوں کی زیادہ تر نرسریاں پنجاب میں ہیں، ہمیں ان کا قلع قمع کرنے کے لیے سخت اقدامات کرنے ہوں گے، نیشنل ٹاسک فورس تشکیل دینا ضروری ہے۔ جب تک ان اقدامات پر حکومتیں سنجیدہ رویہ اختیار نہیں کریں گی خیبر پختونخوا کی ہر گلی میں ماتم ہوتا رہے گا۔

اے این پی کا موقف تھا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات کو من و عن ماننا ہو گا لیکن اب دو سال کے بعد بھی انصاف نہ ہو سکا اور صرف انصاف کا سوچا جارہا ہے، اب انصاف کسی طور پر ممکن نہیں، تمام سیاسی جماعتوں کو بلا تعصب ایک ہی پلیٹ فارم پر بیٹھنا ہو گا اور اس مسئلے کا کوئی حل ڈھونڈنا ہو گا جس سے والدین کی تسلی تشفی ہو سکے۔ والدین جس طرح بھی مطمئن ہوتے ہیں ان کے مطالبات پر حکومتوں کو ضرور عمل درآمد کرنا چاہیے اور جو بھی ادارے کوتاہی کا شکار ہوئے انہیں یہ تسلیم کر کے والدین سے بھی معافی مانگنی چاہیے۔ صوبائی حکومت شہید بچوں کے نام سے موسوم نئے سکول کھولے تاکہ علم کی شمع روشن ہونے سے اس خطے میں امن کا بول بالا ہو سکے۔

اجون خان ایڈوکیٹ
اسفند خان شہید جماعت دہم)
ہمارے گھر تو روزانہ ہی16دسمبر ہوتاہے۔ ہم اپنے بچے کو کیسے بھول سکتے ہیںاور یقینی طور پر یہی صورت حال سب والدین کی ہوگی۔اٹھتے ،بیٹھتے ،کھاتے،پیتے ہروقت وہ بچے ہمارے سامنے ہوتے ہیں جن کے جسموں پر اس بے دردی کے ساتھ گولیاں چلائی گئی تھیں کہ ان کے جسم کالے داغوں سے اٹے ہوئے تھے ۔ ہم نہ تو منگل کا وہ دن بھول پارہے ہیں اور نہ ہی 16دسمبر کی تاریخ ،والدین کتنی تکالیف اٹھاکر بچوں کو بڑا کرتے ہیں،پالتے پوستے ہیں اور پھر وہ بچے یوں بے دردی کے ساتھ ماردیئے جائیں تو اس دکھ اور تکلیف کا اندازہ لگایاہی جاسکتاہے۔

یہ کیسی پالیسیاں ہیں کہ جو بناتی حکومت ہے لیکن اس کا نقصان عوام کو اٹھانا پڑتا ہے ۔ ان پالیسیوں کی حقیقت سامنے کیوں نہیں لائی جاتی؟ ہم یہ پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ جس روز یہ سانحہ ہوا اس روز اے پی ایس کی سیکورٹی کے لیے 2 سیکورٹی گارڈز کیوں تھے؟17کیوں نہیں تھے کہ جن کی معمول میں ڈیوٹی ہواکرتی تھی اسی لیے ہم نے رٹ بھی دائر کی، کیا ہمیں حق نہیں کہ ہم اپنے بچوں کے قاتلوں کے بارے میں پوچھیں ؟ہمارے دل پھٹے ہوئے ہیں ،ان پالیسیوں کا فائدہ کس کو ہو رہا ہے؟ اور جن کو فائدہ ہورہاہے۔

ان کو سامنے کیوں نہیں لایاجارہا؟ہمارا تو کسی سیاستدان نے ساتھ نہیں دیا،ہم نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ سے جب باچاخان یونیورسٹی کے سانحے کے وقت بات کی تو انہوںنے جوڈیشل کمیشن کے قیام کی حمایت کی لیکن وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان نے یہ بات ختم کردی۔ صوبائی حکومت نے اس واقعہ کے حوالے سے جو انکوائری کی اس کی رپورٹ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواکی میز پر پڑی ہوئی ہے اسے سامنے کیوں نہیں لایاجارہا؟ ذمہ داران کو ابھی تک سزا کیوں نہیں ہوئی ؟ متعلقہ ایس ایچ او کے خلاف انکوائری کیوں نہیں ہوئی ؟ اب ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے بلکہ ہم اس سلسلے میں غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرائیں گے اور اس سلسلے میں(A) 22 کے تحت سیشن جج کے پاس درخواست دی جائے گی۔

افسوس ہے کہ ہمیں ٹرخانے کے لیے تحقیقاتی کمیٹی بنائی گئی لیکن ہم اپنے بچوں کو انصاف دلانے کے لیے اپنی پوری زندگی لڑتے رہیں گے، چین سے نہیں بیٹھیں گے اور 16دسمبرکے بعد آئندہ کالائحہ عمل طے کریں گے۔

ظفر اقبال
( والد اسامہ ظفر شہید)
یہ دوسال تو جیسے انگاروں پر لوٹ پوٹ کے گزر گئے۔ ہر لمحہ ہر گھڑی ہمیں بے گناہ اور بے قصور ننھی کلیوں کی یاد تڑپاتی رہی اور تڑپاتی رہے گی۔ کون سا گھر نہیں جوان دو سالوں میں ماتم کدہ نہ بنا رہاہو۔کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ آخر کیوں ان معصوم اور بے گناہوں کا خون بہایا گیا۔ اب تو صرف اپنے رب سے یہی التجا ہے کہ خون کی ندیاں بہانے والوں کا ایسا بھیانک انجام ہو کہ تاقیامت ان کی نسلیں بھی تڑپتی رہیں۔

اس سانحے نے ہمارے ذہن کند کر دیئے ہیں ہم میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اب نہیں رہی،ہم خود زندہ لاشیں ہیں ہماری صرف سانسیں رواں ہیں باقی اندرسے کھوکھلے ہوچکے ہیںلیکن اس کے باوجودبھی ہماری تشفی اورہمارے کریدے گئے زخموں پرکسی نے مرہم رکھنے کی زحمت تک گوارانہیں کی ۔ صرف لالی پاپ کے ذریعے شہداء کے والدین کو دھوکہ دینے کی کوشش کی گئی ،لیکن دریدہ دل والدین کی تشفی تب ہوگی جب ہرایک کے زبان پر مچلتے سوالات کاتسلی بخش جواب دیاجائے گا۔

جب تک اس واقعہ کے ذمہ داران کو سخت سزانہیں دی جاتی تب تک ہمارے دلوں کوقرارملنا مشکل ہے ، ہم یوں ہی بے چین اورمضطرب رہیں گے۔ شہداء کے والدین کے چندسوالات ہیں جن کے تسلی بخش جوابات ہی سے ہماری تشفی ہوگی۔ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ اس حواے سے جوڈیشل کمیشن بنانے میں کیا رکاوٹ حائل ہے؟اسی طرح آرکائیوزلائبریری ان شہداء کے بچوں کے نام کرنے کاوعدہ کب پوراہوگا؟امن چوک میں ابھی تک مانومینٹ کانہ بننا کیاپیغام دیتاہے؟اسی طرح شہداء کے بہن بھائیوں کے لیے تعلیمی اداروں میں نشستیں مختص کرنے کا اعلان کب پورا ہو گا۔

یہاں پر سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ ایک محفوظ تصورکئے جانے والے کمپاؤنڈ میں کس طرح یہ دہشت گرد داخل ہوئے جب کہ اس دن صرف دوآدمی سیکورٹی پرمامورتھے جبکہ یہاں پر عموماً سترہ آدمی سیکورٹی پر مامورہوتے ہیں۔ ہربچے سے سیکورٹی کی مد میں ایک سو پچاس روپے وصول کئے جاتے ہیں،ان سارے سوالات کاہم جواب چاہیے تب ہی ہمارے دلوں کو تھوڑابہت قرارمل سکتاہے،یہ بات بھی ابھی تک ہمارے دلوں میں کھٹک رہی ہے کہ پونے بارہ بجے تک ریسکیوکارروائی کیوں شروع نہیں کی گئی۔ ہمیں ہرحال میں اپنے بچوں کے قاتل چاہئیں۔

یہ کہاں کا انصاف ہے کہ شہداء کے والدین کی جانب سے جوڈیشل کمیشن بنانے کے لیے دائررٹ پر تاحال کارروائی شروع نہیں ہوئی،جب کہ اس کو کسی نہ کسی طریقے سے دبایاجاتاہے جو ان شہداء بچوں اوران کے والدین کے ساتھ بہت بڑی ناانصافی ہے۔ ہمیں مراعات نہیں چاہئیں بلکہ انصاف فراہم کیا جائے، یہ درست ہے کہ اس سانحے نے پوری قوم کو یکسو کیا ہمارے بچوں نے لازوال قربانیاں دیں لیکن ہمارے زخموں پر مرہم کون رکھے گا۔

یہ بات بھی قابل افسوس ہے کہ 15 جنوری 2015ء کو جب عمران خان پشاور آئے تھے تو انہوں نے کہا تھا کہ میں آپ کا وکیل ہوں اورآپ کا مقدمہ لڑوں گالیکن اب تو یہ کہنے میں ہم بجا ہے کہ '' کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں'' کیوں کہ اس کے بعد اسد قیصر کو فوکل پرسن بنا کر شہداء کے نام پر سیاست چمکائی جانے لگی جب کہ شہداء کے والدین میں گروہ بندی پیدا کر کے صرف چند افراد کو مراعات دی گئیں۔

ہمیں اس بات پر بھی افسوس ہے کہ ہم سے امن چوک میں یادگار شہداء بنانے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن ہمیں صرف آرکائیوز میں چھوٹی سی یادگار پر ٹرخایا گیا، لہٰذا تمام والدین کو اب تک کی گئی تحقیقات سے آگاہ کیا جائے اور ان کے تحفظات دور کئے جائیںکیوں کہ 28اگست 2014ء کو وفاقی حکومت کی جانب سے ایک مراسلے کے ذریعے صوبائی حکومت کو مطلع بھی کیا گیا تھا کہ سکولوں پر حملے ہونے والے ہیں لیکن صوبائی حکومت نے اس کو درخور اعتنا سمجھا، اب ہم کچھ نہیں چاہتے صرف جوڈیشل کمیشن کا قیام اور انصاف چاہتے ہیں تبھی ہم سمجھیں گے کہ ہمارے بچوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
Load Next Story